جنات پھر ہیں پریشاں، آج پھر آسمانوں میں ہلچل ہے - افشاں نوید

"ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کا رب انھیں راہ راست دکھانا چاہتا ہے۔"(سورۀ جن۔آیت10)
آج آسمان دنیا پر پھر ہلچل ہے۔یہ دنیا والوں کے ساتھ کیا معاملہ ہواہے؟

جنات دنیا کی خامشی دیکھ کر پریشان ہوں گے۔شائد پھر آسمان دنیا سے سن گن لینے کی کوشش کررہے ہوں۔اہل زمین کی چلت پھرت کیوں معدوم ہے۔انکے رب نے کیا کوئی فیصلہ کرلیا ان کے بارے میں؟فرشتوں کو تخلیق آدم کے وقت کی گفتگو شائد یاد آجاتی ہے۔اتنے اختیار والی مخلوق تو فساد بپا کرے گی؟؟ جوابآ عرض ہوا کہ۔۔انی اعلم مالا تعلمون۔بے شک وہ باریک بین اور باخبر ہے۔۔جانتا ہے کب,کیا قدام کرنا ہیں۔آج اس مخلوق کا فساد عروج پر ہے۔

فرشتے اور جن شائد سہمے ہوئے ہونگے۔اس آسمانی مخلوق(انسان) سے جدی پشتی تعارف ہے ان کا۔آخر جنت سے اتاری ہوئی مخلوق ٹہری۔جن کہیں محو گفتگو ہونگے۔۔"زمین پر فساد کی انتہا ہوگئی تھی جھٹکا دیا گیا ہے انھیں:مگر انکے پاس تو شریعت تھی, پےدرپے انبیاء بھیجے جاتے رہے انکو راہ راست پر رکھنے کے لیے۔
کیا آخری نبی ﷺکی تعلیمات معدوم ہوگئی ہیں اس امت سے؟؟

نہیں کتابوں میں تو ہیں تعلیمات,مگر وہ دنیا پرست ہوگئے ہیں۔سب سے زیادہ باخبر جن نے کہا۔پھر بھی ایسا کیا ہواتھا جس کی اتنی سخت سزا کہ چوپائے آزاد ہیں, پرندے فضاؤں میں محو پرواز ہیں پر انسان گھروں میں قید؟کیا ہوگا انکی معیشتوں کا,کاروبار حیات کا؟ ایسا سناٹا کب تک رھے گا؟انکی عبادت گاھوں کے دروازے ان پر بند کردئے گئے۔۔ذرا سن گن تو لینا کہ ابھی توبہ کے دروازے تو ان پر بند نہیں ہوۓ؟؟جنوں کا سردار پریشان کہ ایسا کیا ہواہے؟کئ شریعتوں کے ماننے والے ہیں اس سیارے پر۔کیا کسی نے بھی اپنی شرہعت کی لاج نہیں رکھی؟؟۔ہاں معلوم ایسا ہی ہوتا ہے۔زنا تو عام تھا ہی مگر یہ انسانی مخلوق تیزی سے ہم جنس پرستی کی طرف بڑھ رہی تھی۔یہ جانتے بھی تھے کہ ایک نبی کی قوم کو اسی بناء پر راندہ درگاه کیا گیا تھا۔

عورتوں نے لباس مختصر کردیۓ,بے حیائی بام عروج پر, کلچر کے طور پر اپنا لی گئی۔۔اللہ تو حیادار ہے کب تک برداشت کرتا اس بے حیائی کو؟؟حضرت موسیؑ و عیسیؑ کی شریعتوں کو ماننے والوں نے بھی کوئی حد نہ چھوڑی, کون سی حد ہے جو نہ توڑی؟ سوچتے تو ہم بھی تھے کہ اللہ نے حضرت انسان کو جو آزادی دی ہے اس کا کتنا غلط استعمال کیا انھوں نے۔۔ کہیں اس کی زمین کو لہو رنگ کیا تو کہیں قحبہ خانوں کو سرکاری سرپرستی میں لیا۔غریب کا خون نچوڑا امیروں کے گھر کی لونڈی بن گیا زر۔۔ دنیا کا انتظام ان کے ہاتھ میں آتا چلا گیا جو اس کو چلانے کا سلیقہ رکھتے تھے مگر وہ خدا سے باغی تھے۔ایجادات کی بھرمار اور ہر نئی ایجاد خدا اور بندوں میں فاصلہ بڑھاتی چلی گئی۔

خدا پرست دفاعی مورچوں میں چلے گئے۔انسانیت سسکتی رہی وہ لا الہ کے گنبدوں میں قید اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف رہے. ایک بزرگ جن نے سر جھکا کر کہا ۔۔تاریخ نے انھیں بتایا تھا کہ وہ ابابیلوں کے لشکر بھیج سکتا ہے۔اس کی اسٹینڈنگ ائرفورس ہر وقت تیار ہے۔مگر یہ قرآنی قصوں کو"اساطیر الاولین" کہہ کر آگے بڑھ جاتے تھے۔آج جنوں کا گروہ بڑا پریشان لگ رہا تھا۔۔انسانی تاریخ میں روئے زمین پر ایسی خامشی دیکھی گئی نہ سنی گئی۔اب کیا ارادے ہیں اہل زمین کے؟؟ایک جن نے دریافت کیاہاں دکھی تو ہیں کہ انکی عبادت گاھوں کے دروازے ان پر بند ہیں۔مستقبل کے لیے کیا سوچ رہے ہیں یہ انکا اور ہمارارب ہی بہتر جانتا ہے۔
سوچو اگر اہل حق مضبوط ہوتے تو باطل یہ فساد کیوں برپا کرتا۔زمین "اغیار"کے ہاتھوں کیوں گروی رہتی۔

اللہ کرے کہ اس جھٹکے سے اہل ایمان بیدار ہوجائیں۔اپنے کاروبار کے خسارے سے آگے بھی کچھ سوچ سکیں۔ہاں خوشی اس بات کی ہے کہ اللہ نے انھیں توبہ کا موقع دیدیا ورنہ وہ قوموں کو ایک جھٹکے میں بھی تہہ وبالا کر دیا کرتا ہے۔یہ ایٹم بم رکھنے والا,خلاء کو قدموں تلے روندنے والا انسان ایک جرثومے سے ہار گیا۔خدائی کے سب دعوے دھرے رہ گئے۔

سنو۔۔ روۓ زمین پر انسانی وجود کے "خوف" نے سب رنگ پھیکے کردئے ہیں دنیا کے۔زمین کا یہ سناٹا دیکھا نہیں جارہا۔آؤ اہل زمین کی معافی کی دعا کرتے ہیں۔ شائد جنوں اور فرشتوں کوانسان کی بے بسی و لا چارگی پر ترس آرہا ہو۔اور وہ بھی محو دعا ہوں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com