ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں - حبیب الرحمن

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے ایک اچھا اقدام یہ اٹھائے جانے کے خوش کن امکانات پیدا ہو گئے ہیں کہ وہ لاک ڈاؤن جو اب تک پورے پاکستان میں جزوی ہی تھا، مزید جزوی کیا جانے والا ہے۔

ویسے تو یہ بھی ممکن ہے کہ پورے پاکستان میں لاک ڈاؤن نام کی کوئی ایک شے بھی باقی نہ رہے۔ 14 اپریل تک کورونا کی صورت حال بہت واضح ہو کر سامنے آجائے گی کہ اس کا کتنا پھیلاؤ ہے جو بظاہر ختم ہوتا ہی نظر آ رہا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں اس کا بہت بڑا اثر نہیں پڑا ہے اور اب تک کی صورت حال کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہی لگتا ہے کہ پاکستان میں اس کے بڑھ جانے سے کہیں زیادہ قابو میں آ جانے کے امکانات ہیں۔ اگر 14 اپریل تک اس کا پھیلاؤ (خدا نہ کرے) توقع کے بر خلاف تیزی کے ساتھ بڑھ گیا تو ممکن ہے جس جزوی لاک ڈاؤن کو مزید جزوی بنا نے کا اعلان وزیر اعظم کی جانب سے کیا گیا ہے وہ بھی مؤخر ہو جائے لیکن اگر حالات اسی طرح بر قرار رہے یا اس کے پھیلاؤ میں بتدریج کمی آنے کے امکانات پیدا ہونے لگے تو پھر جن تعمیراتی سامان تیار کرنے والی صنعتوں کو بحال کرنے کا اعلان کیا گیا ہے وہ تو بہر صورت پاکستان میں اپنا کام شروع کر ہی دیں گی۔

تعمیراتی صنعتیں ہیں کون کون سی؟۔ اگر اس کا جائزہ لیا جائے تو تعمیراتی اشیا تیار کرنے والی صنعتوں کا ایک بہت بڑا جال ہے جو پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور اس سے وابستہ لاکھوں افراد ہیں جو اپنا روز گار حاصل کرتے ہیں۔اس صنعت میں شیشہ، سریے اور گارڈر، ٹائلز، پائپ اور ان سے متعلقہ سامان بنانے والی، سیمنٹ، اینٹیں اور بلاک یہاں تک کہ بجلی کی بیشمار مصنوعات تیار کرنے والی چھوٹی بڑی ساری ملیں، فیکٹریاں اور صنعتیں تعمیراتی سامان تیار کرنے میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کو بحال کرنے کا مطلب پورے ملک بہر صورت 20 فیصد کاروباری سرگرمیاں بحال ہو جانے کا امکان پیدا ہوتا نظر آ رہا ہے جو کہ ایک بہت اچھی خبر ہے۔

تعمیراتی سر گرمیوں کو بحال کرنے کا صرف یہی مطلب نہیں ہے کہ ان صنعتوں سے وابستہ صرف ملیں، خارخانے اور فیکٹریاں ہی کھولی جائیں گی بلکہ ان کے ساتھ وابستہ جو جو بھی "لاحقے" ہیں ان کو بھی بحال کرنا ضروری ہو جائے گا ورنہ ان ساری صنعتوں کو بحال کرنا اور ان میں کام کرنے کی اجازت دینا بے مقصد ہو کر رہ جائے گا۔جب یہ صنعتیں اپنی پوری استعداد کے مطابق کام کرنا شروع کریں گی تو جہاں جہاں بھی یہ ملیں، کارخانے اور فیکٹریاں ہوں گی وہاں پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی کھولنا ضروری ہو جائے گا اس لئے کہ ان میں کام کرنے والا ہر ملازم تو ایسا نہیں ہوگا جو ایسی ملوں اور کارخانوں کی دیوار کے قریب رہائش پزیر ہوگا۔ پھر ان کے کھانے پینے کے بند و بست کے اسباب بھی لازماً مہیا کرنے ہونگے۔

شہر پھر میں ٹائر پنکچروں کی شاپ بھی کھولے رکھنا ضروری ہوگا۔ گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس کی دکانیں بھی کھولنا پڑیں گی اور ان مارکٹوں کو کھولنا بھی ضروری ہو جائے گا جہاں تعمیراتی سامان کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ المختصر یہ کہ جو جو صنعتیں فعال کی جائیں گی اس سے متعلقہ ہر قسم کی سر گرمیوں کو بیک وقت بحال کرنا لازماً ہو جائے گا۔ ایسے ماحول میں وہ ادارے جو لاک ڈاؤن کی پابندی کرانے کیلئے ملک کے چپے چپے پر موجود اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں پوری تندہی کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ان کا ایک ایک فرد پر نظر رکھنا نہایت مشکل ہو جائے گا۔ ان اداروں کو یہ جاننا یقیناً مشکل ہو جائے گا کہ آنے جانے والوں میں سے کونسے افراد، بسیں، موٹر سائیکلیں، پیادے اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے واقعی تعمیراتی صنعتوں سے وابستگی کی وجہ سے آ جا رہے ہیں اور کون سے وہ افراد ہیں جو اس رعایت کا فائدہ اٹھا کر تفریحاً گھوم پھر رہے ہیں۔

ان ساری باتوں کو اگر سامنے رکھا جائے تو تعمیراتی صنعتوں کی بحالی کا فیصلہ کوئی آسان کام نہیں اور اگر ملک کے طول و عرض میں کورونا کی وبا موجود ہو، خواہ اس پر قابو ہی پا لیا گیا ہو، تب بھی ایسی سر گرمی اچانک ایک بہت بڑا خطرہ کھڑا کر سکتی ہے۔ بے شک اس وقت ملک میں کورونا بے قابو نہیں ہے لیکن اس کے بے قابو نہ ہونے کا ایک سبب لاک ڈاؤن ہونا بھی تو ہے۔ اگر اس لاک ڈاؤن کو ختم کردیا جائے تو قابو میں آئی ایک وبا، یاجوج ماجوج بھی تو بن سکتی ہے لہٰذا وزیر اعظم پاکستان سے گزارش ہے کہ لاک ڈاؤن ختم کرنے کے سلسلے میں جو قدم بھی اٹھایا جائے اس میں دو باتوں کو ضرور سامنے رکھا جائے۔

ایک یہ کہ جو جو صنعتیں بھی کھولیں تمام لاحقوں کے ساتھ کھولیں اور دوسری بات یہ کہ ہر قدم اٹھانے سے پہلے اس کے سارے اچھے اور برے پہلوؤں کو سامنے رکھ کر اٹھائیں ورنہ نتائج مثبت کی بجائے منفی بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com