بھلیس جموں و کشمیر-آصف احمد ملک

میں جو سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمین سے آنے لگی سدا،

تیرا دل تو ہر صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں،،

کیا اسلامی نظام کی آخری کڑی بھی ٹوٹ گئ..

آج مسلسل دوسرا جمعہ ادا نہں ہو سکا اک اضطراب و ملال کی کیفیت ضرور پیدا ہوئی، گوکہ اللہ اپنے بندوں سے ایک پل بھی غافل نہں، یہ اللہ کی خوبی ہے وہ ژرف نگاہ ، خبیر و بصیر اور علیمُٗ ما فی الصدور ہے ، آج تک جو ہم نے سجدے کیے اللہ کو سب کچھ معلوم ہے کہ ان میں کتنی سچائی تھی اور کتنی ریا، بہرکیف، آخر یہ دنیا پوری بے بس کیوں ہے، حالتِ اضطراب میں کیوں ہے، اگر اللہ بے نیاز ہے ہم بے نیاز تو نہں، ہمیں تو اللہ کے سہارے کی ضرورت ہے، اس کی مدد، اس کی رحمت، اس کی شفا کے محتاج، اس کی مغفرت کے طلب گار، اسی سے امید کی بنیاد پر پل پل گذارتے ہیں.

آخر اللہ ہمیں قبول کیوں نہں کرتا، اس نے اپنے گھر آنے سے بھی منع کیا، آخر اللہ میاں اتنے ناراض کیوں ہیں؟ اصل میں وجہ یہ ہےکہ جب سے انسانوں نے خدائی کا دعوا کیا، تو ظاہر سی بات ہے وہ اپنا کام بھی خود کریں گے، جب science ہی خدا بن گئ تو کسی اور کی کیا ضرورت، جب سیاست میں، انسانوں کی خدائی،، جمہوریت، نے جگہ لی، جب

معشیت میں سود کی خدائی،نے ڈاکہ ڈالا، جب

معاشرت میں نفس کی خدائی، کا قہر برپا ہوا،

اب بتاو کتنا ظلم عظیم ہے اس حقیقی معبود پر، جس کی بادشاہی محیط ہے زمین کی گہرائیوں سے آسمانوں کی بلندیوں تک اور ان مقامات تک جن تک ہمارے علم کی رسائی نا ممکن ہے،، کیا وہ دنیا کے حقیر انسانوں کا محتاج ہو سکتا ہے،، کتنا بیوقوف ہےیہ انسان؟ اپنے علم پر غرور، عمل پر غرور، تقوہ پر غررو، غرضیکہ ہر نیکی پر غرور و فخر، دوسرے کو حقیر سمجھنا، وطن ، رنگ و نسل، مال و زر، ملک و ملت کی بنیاد پر، دین کی تحقیر اور انسانیت کی تذلیل گویااسکا وتیرا بن چکا ہے، اللہ کا خوف بلکل زایل ہو چکا ہے،آخرت سے نفرت اور دنیا سے محبت، فخر و تفاخر، نمود و نمائش، جبرو قہر، ظلم وستم، تحقیر و تذلیل جب ایک مشغلہ سا رہ گیا ہو، غربت کا مذاق اور امیری کی جےجے کار، صنف نازک جب زینتِ محفل بنادی گی.

رقص و سرور و موسیقی اور شراب و شباب کی رعنائیاں، طلسم رنگ و بو کی آبیاری، ظالم کی پشت پناہی کے درس، اور مظلوم کی داد رسی درس سے خارج،، شکم سیری اور عیاشی،، خدمت خلق میں ریاکاری، دین میں غلو، منافقت کا رواج اور ایمان کا مبہم بنانا لوگوں کا مشغلہ بن گیا ہے، ایسے حا لات میں عبادات بھی مشغلہ بن جاتی ہیں، یہ تمام روکھی فیقی بے روح عبادات بے مقصد بن و بے جان ہو کے رہ جاتی ہیں، نہ ان میں جلتِ القلوب نہ سوزو گداز ، نہ خشیت الہی نہ جذبہ اطاعت، نہ جذبہ ایثار نہ جذبہ اخوت، غرضیکہ ہماری عبادات سے ہماری اندر نہ منفی تبدیلی آتی ہے نہ مثبت کردار پیدا ہوتا ہے، بس انانیت، بزدلی، منافقت، حسد و غرور اور ریا یہ پوری انسانیت اڑی ہوئ ہے.

تو اللہ نے انسانوں کو تھوڑا سا آزمایا اور ہلایا ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے صرف ایک خوردبینی کیڑے کے سامنے بے بس کر دیا. corona, out o control ہو گیا،پوری انسانیت گھنٹے کے بل چلنے لگی، اللہ نے بیک جنبشِ نظر پوری انسانیت کو انگشت بہ دانداں کر دیا، پوری انسانیت کی ترقی کی پول کھول کے رکھ دی، ریا کا لباس پھنکوا دیا، ابتدائی مرحلے میں ہی ساری ترقی کا سنڈاس ہوا، سجادہ نشینوں کی پول کھلی، مذہبی ٹھیکداروں کے چھکےچھوٹ گیے، بے سوز عبادات کی کلی کھل گئی، ہوا یوں کہ اللہ نے اپنی بے نیازی ظاہر کی.

اے بے وقوف انسانوں! کیا تم اللہ کو مغلوب کرنا چاہتے ہو، سن لو اللہ غالب و حاکم ہے، اور ہم بے بس ہیں، مجبور و لاچار ہیں، آرزی طور پر یہاں ہیں، اللہ دایمی اور قدیم ہے، اب اللہ کو راضی کرنے کا صرف ایک راستہ ہے وہ ہے اجتماعی توبہ،، اور اجتماعی عہد، مگرکس چیز کا توبہ اور کس چیز کا عہد،،مندرجہ زیل نکات غور طلب ہیں..

1.اجتماعی نظام اللہ کی مرضی کے طابع کرنے کا عزم اور اس کو قایم کے کیے جدوجہد کرنے کا اللہ سے عہد اور نطام باطلہ سے توبہ

2.سودی معشیت سے اجتماعی توبہ، نفع کی بنیاد پر تجارت اور ذکوتہ کا نظام قایم کرنے کا عہد،،

3.معاشرتی نظام سے اجتماعی فہاشی کے سدِ باب کرنے کا عہد، اور معاشرتی بے راہ روی سے اجتماعی توبہ

4.ظلم و بر بریت سے توبہ اور نظام عدل قسط کی آبیاری کا عہد،

5.دین کے اجتماعیت قایم کرنے کا عہد اور فرقہ پرستی، اکابر پرستی اور مکابر برستی سے توبہ،،،

توبہ کا اصل معنی پلٹنا ہیں جب تک ہم مل کر مندرجہ بالا نکات پر توبہ کرنے کے لیے تیار نہیں، تب تک ہم جو چاہیں کریں، اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے، جمعہ ایک اجتماعی عمل ہے، یہ محض اک رسم عبادت نہں یہ ہماری اجتماعی نظام کا پیش خیمہ ہے، اللہ کے نبی صلعم نے فرمایا ہے، کہ اسلام کی ایک ایک کڑی ٹوٹ جاے گی، پہلی کڑی خلافت اور آخری کڑی نماز... کیا یہ جمعہ کا توٹنا آخری کڑی کا ٹوٹنا تو نہں ہے؟ ،اس کڑی کو جوڑنے کے لیے پہلی کڑی کا جوڑنا ضروری ہے، ورنہ انجام کے لیے تیار رہنا چاہیے ،،،، اللہ ہمیں اجتماعی توبہ کی توفیق نصیب کرے، آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com