کشمیر کا لاک ڈاون ، ان کہی داستان - سہیل بشیر کار

چند دن قبل دلیر صحافی اور ٹی وی اینکر رویش کمار کا پرائم ٹائم دیکھا۔ وہ لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ covid 19 لاک ڈاون اور کشمیر کے لاک ڈاؤن کی تلنا ہہی نہیں ہوسکتی۔ اصل میں کچھ لوگ غیر حقیقت پسندانہ طور ان دونوں لاک ڈاؤنز کا ایک دوسرے کے ساتھ تلنا کر رہے تھے۔

رویش کو سنا تو اور انکا گرویدہ ہو گیا کہ کشمیر کا لاک ڈاؤن کچھ اور ہی تھا جو بے نظیر تھا۔۔بے مثل تھا۔۔۔۔ جبر اور ظلم کی بے مثال صورت۔ میرے ہاتھوں میں جنبش سی آگئی۔۔ قلم نے کہا کیوں نہ کشمیر کے لاک ڈاؤن کا نقشہ کھینچوں اور کیوں نہ یہ پہلو بھی بیان ہو کہ کشمیریوں نے مصیبتوں کا مقابلہ کرنا سیکھا ہے اور وہ بھیانک ادوار کو جھیل کر نہ صرف زندہ رہے بلکہ اور زیادہ مضبوط ہوئے۔ یوں تو کشمیر میں نوے سےہی ظلم و جبر کا سلسلہ چل رہا ہے، لیکن کشمیر نے کچھ ایسے ادوار اور واقعات بھی دیکھے کہ لگا شاید اس سے باہر آنا ناممکن ہے، چاہے catch and kill آپریشن ہو، یا حکومت بردار اخوان کا ظلم و قہر، چاہے ایک منصوبہ کے تحت خواتین کی عصمت دری ہو یا 10 ہزار سے زائد نوجوانوں کو غائب کرنا۔

کئ سالوں تک بنا کسی مقدمے کے لوگوں کو نظر بند رکھنا یا انٹراگیشن سنٹروں میں لوگوں کو نا قابل بیان اذیت دینا، یہ سب کشمیریوں نے دیکھا لیکن اس سب کے باوجود لوگ زندہ رہے. جس علاقے میں ہزاروں جواں بیٹوں کو انکے باپ کندھا دے، اس علاقے کے لوگ کیسے جی رہے ہوں یہ سوچ ہی اذیت ناک حدتک انسان کو مضطرب کر رہا ہے، لیکن کشمیریوں نے یہ اندوہناک مناظر بھی انگیز کئے۔۔گزشتہ سالوں میں کچھ ایسے اقدامات لئے گئے جن سے نہ صرف ظلم کے سارے حدود پار ہوئے بلکہ کشمیریوں کو نہ ختم ہونے والے اندہیرے میں دھکیل دیا گیا۔ اگرچہ 2016 سے ہی حکومت نے سخت اقدامات شروع کیے، حریت قائدین کو فرضی مقدمات میں پھنسانا وغیرہ وغیرہ، لیکن جولائی 2019 کے آخری ہفتہ سے ہی وادی کشمیر میں حکومت نے کچھ ایسی سرگرمیاں شروع کیں کہ ہر کشمیری کہنے لگا کہ کچھ انہونی ہونے والا ہے. اگست سے ان اقدامات میں اور شدت آئی ایسا محسوس ہونے لگا کہ بہت کچھ خراب ہونے والا ہے۔

خوف و دہشت کا ماحول چار سوں پھیلا، 10 لاکھ آرمی کے باوجود یہاں ایکسٹرا فورسز منگوائی گئی، لوگ قیاس آرائی کرنے لگے لیکن حکومت نے تردید کی، 5 اگست 2019 کو سویرے ہر طرف کرفیو کا اعلان ہونے لگا، لینڈ لائن، فون،انٹرنیٹ سب بند تھا، حتی کہ کیبل نیٹورک بھی بند ، جماعت اسلامی پر بہت پہلے ہی پابندی لگی تھی، جے کے ایل ایف پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی، اس کے اکثر کارکن گرفتار تھے، حریت کی چھوٹی اور بڑی قیادت کو نظر بند کیا گیا تھا۔ 5 اگست کو مختلف ذرائع سے معلوم ہونے لگا کہ کشمیر کے قریب 18000 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، حتی کہ ہند نواز لوگوں کو بھی، تین سابق وزرائےاعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، اور محبوبہ مفتی نظر بند کئے گئے۔ وہی محبوبہ جو کچھ ہی مہینوں پہلے بی جے پی کی ساجھی تھی حکومت میں۔

شاہ فیصل جو کبھی یوتھ آئکن کی حیثیت سے کل ہند میں پروموٹ کئے جاتے تھے وہ بھی نظر بند کئے گئے ۔ انہوں نے کچھ مہینے قبل IAS سے استعفی دیا تھا اور کشمیر کے مسلے کے لئے اپنے انداز سے میدان میں اتر چکے تھے۔ یاد رہے یہ وہی شاہ فیصل ہیں جو 2010 میں سول سروسز IAS کے امتحانات میں اول رینک حاصل کرچکے تھے۔ ایسا ماحول پیدا کیا گیا کہ جس کسی فرد کو 50 افراد یا اس سے زیادہ افراد پر گرفت تھی وہ گرفتار کیا گیا ،ایسا لاک ڈاؤن کہ کسی کو کسی کی خبر نہ تھی، لوگوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا تھا، دوکانیں، کاروباری ادارے 8 ماہ تک بند رہے، میرے ماموں حج پر تھے، ہمیں یا انہیں ہماری کوئی اطلاع نہ تھی، میرے انتہائی قریبی دوست اپنی اہلیہ جو کہ حاملہ تھی اور کافی بیمار بھی، کے ساتھ سرینگر میں تھے۔

ان کی کوئی اطلاع نہ تھی، ان کا نوزائد بچہ انتقال ہوا تھا اور اس کی اطلاع دینے کے لیے انہیں خود میرے گھر آنا پڑا، آئر ٹکٹ بنانے کے لیے ائرپورٹ جانا پڑتا تھا، میرے ایک قریبی دوست جن کی سلیکشن DM کے لئے ہوئی تھی، ان کو آنلائن کونسلنگ کے لیے دہلی جانا پڑا، ان واقعات سے اندازہ ہوگا کہ لوگوں کو کس قدر دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہوگا. 71 دن تک فون بند تھے، آج کے دور میں کوئی تصور کر سکتا ہے ایسی زندگی کا؟ اب بھی انٹرنیٹ 2g سپیڈ پر چل رہا ہے. اخبارات کے مالکان کو یہ ڈکٹیٹ اجرا ہوا کہ خبر وہی چھپے جو حکومت کے خلاف نہ ہو۔

کئی دنوں تک تو اخبارات کی اشاعت بھی روک دی گئی۔، اخبارات میں اداریہ بند کیا گیا انہیں سخت ہدایت دی گئی کہ کوئی ایسا مضمون نہ چھپے جس میں موجودہ حالات کا تذکرہ ہو. بی بی سی نے جب چند مقامی احتجاج رپورٹ کی تو کشمیر کے گورنر نے کھلے عام انہیں دھمکی دی. ایسے حالات میں کشمیریوں نے نہایت ہی دانشمندانہ رویہ دکھایا۔ وہ کسی بڑے احتجاج کے لئے باہر نہیں نکلے وہ جانتے تھے کہ ہندوستان اپنی طاقت کا بے دریغ مظاہرہ کرے گا۔ ہزاروں جانیں لیتا اور دنیا کو اس کمینیوکیشن بلاکیڈ میں خبر بھی نہ ہوتی۔

اگرچہ ہر کوئی مجروح تھا لیکن کشمیری جانتے تھے کہ ہمیں جینا ہوگا ہماری لڑائی لمبی ہوگی، ان مشکل حالات میں کشمیر کے لوگوں نے اگرچہ دوکانیں بند رکھی لیکن سڑکوں پر نہیں آئے، انہوں نے سماج کے کمزور افراد کا خاص خیال رکھا، معمولات اگرچہ متاثر رہے لیکن زندگی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی، شادیاں انتہائی سادگی سے کی گئی۔ اسکول بند تھے، لیکن یہ قوم جانتی تھی کہ ترقی اور عروج کے لیے تعلیم کس قدر اہم ہے، لہذا اپنے اپنے علاقوں میں تعلیم یافتہ افراد نے مفت ٹیوشن سنٹر کھولے، جہاں بچوں اور بچیوں کو مفت تعلیم دی جانے لگی،غرض کشمیریوں نے جینا سیکھا۔

آج پوری دنیا میں لاک ڈوان ہے لیکن گرفتاریاں نہیں ہیں، ظلم و جبر نہیں ہے، انٹرنیٹ چل رہا ہے، لوگ فون کے ذریعے اپنوں کے ساتھ رابطہ میں ہیں، حکومتی امداد ہے۔ ایسا لاک ڈاؤن کشمیریوں کے لئے سخت جاں آزمائش نہیں ہے۔ کشمیری تو سخت جاں آزمائش میں بھی جینا سیکھ چکا ہے۔ کجا وہ لاک ڈاؤن کجا یہ لا

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com