تم سب مر جاؤ - طاہرہ ثمرہ خان

بنی اسرائیل کی ایک جماعت جو حزقیل علیہ السلام کے شہر میں رہتی تھی،شہر میں طاعون کی وبا پھیل جانے سے ان لوگوں پر موت کا خوف سوار ہو گیا۔اور یہ لوگ موت کے ڈر سے سب کے سب شہر چھوڑ کر ایک جنگل میں بھاگ گئےاور وہیں رہنے لگے ۔

اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کی یہ حرکت سخت نا پسند ہوئی ۔چناچہ " اللّٰہ تعالیٰ "نے ایک عذاب کے فرشتے کو اس جنگل میں بھیج دیا ۔جس نے ایک پہاڑ کی آڑ میں چھپ کر اور چیخ مار کر بلند آواز سے کہا "موتوا" یعنی تم سب مر جاؤ۔" اس بھیانک چیخ کو سن کر بغیر کسی بیماری کے یہ سب کے سب اچانک مر گئے۔ان کی تعداد ستر ہزار تھی۔ ان مُردوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ لوگ ان کے کفن دفن کا کوئی انتظام نہ کر سکے۔ان کی لاشیں کھلے میدان میں بے گورو کفن آٹھ دن تک پڑی پڑی سڑنے لگیں ۔بے انتہا تعفن سے پورے جنگل بلکہ اس کے اطراف میں بدبو پیدا ہو گئی۔ کچھ لوگوں نے ان کی لاشوں پر رحم کھا کر چاروں طرف سے دیوار اٹھا دی تاکہ یہ لاشیں درندوں سے محفوظ رہیں۔
کچھ دنوں کے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام کا اس جنگل میں ان لاشوں کے پاس سے گزر ہوا ۔

اپنی قوم کے ستر ہزار افراد کی بے گورو کفن لاشوں کو دیکھ کر آپ علیہ اسلام آبدیدہ ہوگئے۔آپ کا دل دکھ سے بھر گیا ۔ گڑ گڑا کر آپ علیہ اسلام " اللّٰہ رب العالمین کی بارگاہ میں محو مناجات ہو گئے۔ آپ کی دعا کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ نے وحی فرمائی۔"اے حزقیل علیہ السلام آپ ان بکھری ہوئی ہڈیوں سے فرما دیجیۓ کہ اے ہڈیو ! بے شک اللّٰہ تعالیٰ تم کو حکم فرماتا ہے کے تم اکھٹا ہو جاؤ۔یہ سن کر بکھری ہوئی ہڈیوں میں حرکت پیدا ہوئی اور ہر آدمی کی ہڈیاں جمع ہو کر ہڈیوں کے ڈھانچے بن گئے۔پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان ہڈیوں نے گوشت پہنا اور پھر اللّٰہ رب العزت کے حکم سے یہ مردے اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔

کرونا وائرس کی شکل میں آج کی دنیا طاعون کی لپیٹ میں ہے ۔ اللّہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والا یہ عذاب غیر مسلم ممالک سے ہوتا ہوا اب مسلمان ملکوں میں اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔دنیا خوف اور دہشت کا شکار ہے۔موت کا خوف انسانوں پر شدت سے حاوی ہو رہا ہے۔ مختلف طریقے اختیار کر کے اس وبا سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔حدیث مبارکہ ! کی رو سے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی جا رہی ہیں۔"اللہ کے مکرم نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے طاعون زدہ علاقوں کے لوگوں کو اپنے گھر نہ چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے صبر کی تلقین کی تھی ۔"

مسلم اقوام کے لئے ضروری ہے کے وہ خالق کائنات اللہ تعالیٰ پر یقین کامل رکھتے ہوئے اس آزمائش کی گھڑی سے نکلنے کی کوشش کریں۔ اپنے گھروں اور علاقوں کو چھوڑ کر دوسری جگہ نہ جائیں۔ جس علاقے میں موجود ہوں وہاں ہی رہیں۔ کرونا کی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں جو ڈاکٹرز کی طرف سے بتائی گئی ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com