لگن - بشریٰ رحمن

اردو ادب میں خواتین ناول نگاروں نے جو کارنامے انجام دیے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انھوں نے نہ صرف اپنے فن کا لوہا منوایا ہے بلکہ اردو ادب میں بھی گراں قدر اضافہ کیا۔ اردو ناول کا وقار بلند کرنے میں ایک اہم نام بشریٰ رحمن کا ہے۔

بشریٰ رحمن اگست1966 ء میں بہاول پوری پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے جامعہ پنجاب سے ایم اے صحافت کی سند حاصل کی ۔ انھوں نے سترہ سے زاید ناول لکھے ہیں۔ ان کے ہر ناول کی کہانی بہت خوبصورت ہوتی ہیں اور لفظوں کو خوبصورت جذبات اور احساسات کے قالب میں ایسا ڈھالتی ہیں کہ انسان بے اختیار عش عش کر اُٹھتا ہے۔ بشریٰ رحمن نے موجودہ سماج کے بیشتر مسائل پر بڑی خوبی سے قلم اُٹھایا ہے۔ ان کے ناولوں میں موضوع اور فن دونوں کا تنوع ملتاہے۔ ان کے یہاں صرف جذبات نگاری نہیں بلکہ فکر کی کارفرمائی بھی نظر آتی ہے۔ اپنے موضوعات کے ساتھ انھوں نے پورا انصاف کیا ہے۔

زیرِ تبصرہ ناول’’ لگن‘‘ بشریٰ رحمن کا ایک مقبول ناول ہے۔ یہ ایک ضخیم ناول ہے اور720 صفحات پر مشتمل ہے۔ لگن ایک امیر لڑکی کی کہانی ہے۔ اس لڑکی کا نام ’’ فلک ناز‘‘ ہوتا ہے۔ مصنفہ نے فلک کے کردار کی نفسیات بہت تفصیل سے بیان کی ہیں۔ ایک بگڑی ہوئی امیر لڑکی میں جوجو برائیاں ہو سکتی ہیں وہ فلک میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اُسے اپنی خوبصورتی پر ناز ہوتا ہے اور سمجھتی ہے کہ اپنی خوبصورتی کی بنا پر وہ کسی بھی مرد کو اپنے قابو میں کر سکتی ہے۔

ناول کا ایک اور اہم کردار ’’ آفاق‘‘ ہے جسے فلک اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مگر ناکامیاب ہوتی ہے۔ تاہم آفاق نے فلک کو شادی کا پروپوزل بھیجا جو اس نے قبول کر لیا۔ فلک کو لگتا ہے کہ یہ محبت کی شادی ہے اور اس نے بالآخر آفاق کو اپنے حسن کا غلام بنا لیا ہے۔ لیکن اُسے بہت جلد اندازہ ہو تا ہے کہ آفاق ویسا نہیں ہے جیسا وہ سمجھتی ہے۔ آفاق اس کی خوبصورت کی طرف ذرا بھی راغب نہیں ہوتا ۔ بلکہ آفاق واضح طور پر اُسے اپنی ناپسندیدگی کے بارے میں بتاتا ہے۔

فلک اور آفاق میں ایک ڈیل طے پاتی ہے کہ اگر فلک آفاق کی پسند کے طور طریقے اپنا لیتی ہے اور ایک مکمل گھریلو اور سگھڑ عورت بن جائے گی تو آفاق اُسے آزاد کر دے گا۔فلک جو آفاق کے رویے سے دل برداشتہ ہوکر اُس کی زندگی سے نکل جانا چاہتی تھی۔ اس چیلنج کو قبول کر لیتی ہے۔ ایک سال کے عرصے میں وہ مکمل طور پر ایک گھریلو اور سلیقہ مند عورت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ساتھ ہی وہ آفاق سے محبت بھی کرنے لگتی ہے۔ لیکن آفاق کے دل میں کیا ہے وہ اس بات سے بے خبر ہے اور ساتھ ہی ڈرتی ہے کہ کہیں آفاق اُسے اپنی زندگی سے نکال نہ دے۔

بشریٰ رحمن کے اس ناول کا موضوع نہایت ہی حساس ہے۔ انھوں نے ازدواجی زندگی کے نشیب وفراز کو نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ حقیقی معنوں میں ایک سگھڑ اور سلیقہ مند عورت کیسی ہوتی ہے ۔ یہ اِس کہانی کا موضوع ہے اور کیسے ایسی عورت گھر کو جنت بناتی ہے اس ناول کو پڑھنے سے اس کا ادراک بخوبی ہو تا ہے۔ مصنفہ نے ایک خود سر لڑکی کی زندگی میں شادی کے بعد آنے والی تبدیلی کو بڑے مفصل انداز میں بیان کیا ہے۔ اس ناول کا موضوع ہم لڑکیوں کے لیے ہیں۔ کہانی میں انہیں ایک پسندیدہ ہستی میں تبدیل ہونے کا گُر کہانی میں بتا دیا گیا ۔

ناول میں بشریٰ رحمن کا اسلوب دلچسپ، اور مؤثر ہے۔ اسلوب سادہ اور عام فہم اختیار کیا گیا ہے تاکہ عام قاری بھی اِسے بآسانی پڑھ اور سمجھ سکے۔ ناول کے ہر لفظ سے دانائی اور حکمت جھلکتی ہے۔اگر ہم لڑکیاں خصوصاً اس ناول کا بغور مطالعہ کرے تو یہ ناول ایک بہترین ازدواجی زندگی گزارنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
بشریٰ رحمن کا کمال یہ ہے کہ وہ گرد و پیش کے مناظر کو اپنی کہانیوں میں اس طرح پیش کرتی ہے کہ قاری ان کی تحریروں میں کھو جاتا ہے۔ ان کی کہانیوں کا اکثر موضوع ’’ عورت‘‘ ہے۔ وہ ایک حساس اور درمند دل کی مالکہ ہیں اور عورتوں کے لیے لکھتی ہیں۔

ان کے بارے میں مشتاق احمد یوسفی نے کیا خوب لکھا ہے کہ ’’ وہ سوچتی مردوں کی طرح ہیں، محسوس عورت کی طرح کرتی ہیں اور لکھتی اپنی ہی طرح ہیں۔‘‘ان کا ہر لفظ معتبر اور اعلیٰ ہوتا ہے۔ عورتوں کی عظمت اور اہمیت کو بڑے ہی خوبصورت انداز میں ناول میںپیش کیا ہے۔ ’’خانہ داری مین سب سے اچھا استاد صرف اپنی ماں ہوتی ہے۔ ہر گھر کا ایک طور طریقہ ہوتا ہے۔ ہر ماں اپنے ساتھ صدیوں کا تجربہ لاتی ہے جو ماں سے ہی سینہ بہ سینہ چل رہا ہوتا ہے۔ ہر عورت کے ہاتھ کا ذائقہ الگ ہوتا ہے۔ ذائقے میں اس کی خلوص ِ نیت اور طہارت نفس شامل ہوتی ہے۔ محنتی اور دیانت دار عورت کے لیے پکی ہوئی کوئی شے خراب نہیں ہوتی۔‘‘(لگن، صفحہ 264)

بشریٰ رحمن نے اپنی تحاریر کے ذریعے لڑکیوں اور عورتوں کا خوب بھلا کیا۔ اپنی تحریروں کے ذریعے وہ عورتوں کو ایک مثالی زندگی گزارنے کا درس دیتی ہے۔
بشریٰ رحمن درجنوں ناول تحریر کر چکی ہیں۔ انھوں نے نہ صرف ناول لکھے بلکہ سفرناہ اور کالم بھی تحریر کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دو شاعری کی کتابیں بھی پبلش ہوئی ہیں۔2007 ء میں انہیں صدارتی اعزاز ستارۂ امتیار سے بھی نوازا گیا ہے۔

720 صفحات پر مشتل اس ناول کا سرورق پُرکشش ہے۔ پاکستان میں متعدد پبلشرس نے اسے مختلف قیمتوں اور ڈیزائن کے تحت چھاپا جب کہ ہندوستان میں ’بسمہ کتاب گھر دہلی ‘نے اس کی چھپائی کا ذمہ لیا ہے اور اب تک اس کے متعدد ایڈیشن شایع ہو چکے ہیں۔ ناول پروف کی غلطیوں سے پاک ہے،ناول کا انتساب بشریٰ رحمن نے وطنِ عزیز کی بہو بیٹیوں کے نام کیا ہے۔

اپنی ازدواجی زندگی بہتر بنانے کے لیے اور ایک سلیقہ مند زندگی گزارنے کے متمنی افراد کو اس ناول کا فوراً سے پیشتر مطالعہ کرنا چاہیے اور یقینا وہ فیض اُٹھائے بغیر نہیں رہ سکے گے۔ اس ناول کو نصاب میں شامل کر لینا چاہیے تاکہ بچیاں سلیقہ مند اور سگھڑ عورت کیسی ہوتی ہیں، یہ جان سکے اور اپنے آپ کو اس سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرے!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */