میاں بیوی اور ماضی کے ریلیشنز - بشارت حمید

جب کوئی غیر مسلم کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے سارے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں پھر اسے ماضی کے بارے سوال جواب نہیں ہوتا کہ یہ کیوں کیا وہ کیوں نہ کیا۔جب دو لڑکا لڑکی نکاح کے بول قبول کرکے میاں بیوی بن جاتے ہیں تو ان کے ماضی میں جو ہو چکا اسے بھی بھلا دینا چاہئے۔

لڑکے کی پسند کون تھی۔۔ کس کے ساتھ افئیر تھا۔۔ لڑکی کسے پسند کرتی تھی۔۔ کس کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھی۔۔ یہ سب باتیں کریدنا بالکل غلط بات ہے۔ ماحول کے زیر اثر یا کسی بھی وجہ سے کوئی کسی کو بھی پسند کر سکتا ہے لیکن بعد کے حالات اگر ملنے نہ دیں اور شادی کہیں اور کسی اور سے ہو جائے تو شوہر کے مقام پر فائز ہونے والے کی اصل قوامیت یہ ہے کہ وہ اپنی منکوحہ پر اعتماد کرے اسے ماضی کے بارے سوال نہ کرے اسکے موبائل فون کی تلاشیاں نہ لے اور اسے ایسا ماحول دے کہ وہ اگر وقتی مجبوری میں اس کی بیوی بن ہی گئی ہے تو اب دل سے اس کے اچھے رویے کی بنا پر بطور شوہر قبول کر لے۔

اسی طرح بیوی بھی اپنے شوہر کو سپیس دے۔۔ اس پر حاکم بننے کی کوشش نہ کرے۔۔ اس کے ماضی کے طعنے نہ دے اور اپنی خوش اخلاقی سے اس کا دل جیتنے کی کوشش کرے۔ میاں بیوی کے رشتے میں اگر اعتماد نہیں ہے تو پھر یہ بانڈ مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہوتا چلا جائے گا۔ یہ کوئی شارٹ ٹرم تعلق نہیں بلکہ ساری زندگی اکٹھے رہنا ہے۔ اگر اعتماد نہیں ہو گا تو گاڑی نہیں چل سکے گی۔ایسا بھی ممکن ہے کہ میاں یا بیوی کا کوئی سابقہ ریلشن یہ سب برداشت نہ کرتے ہوئے دونوں کے مابین تفریق ڈالنے کے لئے کوئی گھٹیا حرکت کرنے پر اتر آئے، جھوٹے سچے سکرین شاٹ یا فوٹوشاپ تصاویر یا ویڈیوز بھیجے یا سوشل میڈیا پر ڈالے۔

ایسی صورتحال میں میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے شیطان صفت لوگوں کی چال کو ناکام بنائیں اور کسی بلیک میلنگ میں نہ آئیں۔ سمپلی سائبرکرائم کو رپورٹ کریں۔ ماضی کی کسی بھی غلطی کو زندگی سے منہا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اگر بندہ یا بندی کسی غلطی پر شرمندگی اور پشیمانی محسوس کر رہی ہے تو اٹس او کے۔ ہم سب ہی خطاکار ہیں ۔ کئی مرد بیوی پر بلاوجہ شک کرتے ہیں اور کئی عورتیں شوہروں پر۔۔ شک کی وجہ سے خانگی زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ اگر دونوں میں سے کوئی شادی کے بعد بھی پرانے ریلیشن نہیں چھوڑ رہا اور کھلم کھلا قائم رکھے ہوئے ہے تو پھر ایسی شادی کو مزید گھسیٹنے کی بجائے آرام سے الگ ہو جانا بہت بہتر ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اگر آپ کا کوئی پرانا ریلیشن رہ چکا ہے اور اب اسکی شادی ہو گئی ہے تو اسے اسکی زندگی جینے دیں خود کے لئے اللہ سے بہترین آپشن کی دعا مانگیں۔ ہوسکتا ہے جو آپکو پسند ہو وہ آپکے لئے بہتر ثابت نہ ہو۔ دور رہ کر محبت کرنا اور بات ہے اس میں بندے کی خامیاں، آنکھوں اور دماغ پر محبت کی بندھی ہوئی پٹی کی وجہ سے نظر نہیں آتیں۔ جب اکٹھے وقت گزرے تب پتہ چلتا ہے کہ کیا کیا مسائل ہیں اس بندے میں۔

آج کل وبا کے موسم میں ہی دیکھ لیں کہ اکثر میاں بیوی اکٹھے گھروں میں بند ہو کر ایک دوسرے سے کتنے تنگ پڑے ہوئے ہیں۔ اپنے جیون ساتھی کے بارے اللہ سے دعا ہی سارے مسائل حل کر سکتی ہے۔ دعا میں جتنا خلوص ہو گا اتنی ہی جلدی اس کا رزلٹ ملے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com