پاکستانی کرونا وائرس سُنی ہے یا شیعہ - قادر خان یوسف زئی

کرونا وائرس کے مبینہ ظہور کوتقریباََ تین ماہ سے زائد کا عرصہ ہوچکا،ایک جانب دنیا اس کی وک تھام کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے تو دوسری جانب وطن عزیز میں کرونا کے مذہب و مسلک پر لاحاصل بحث کی جارہی ہے۔

یہ بہت افسوس ناک معاملہ ہے کہ اس اَمر پر بحث ا الزام تراشیاں کی جا ئیں کہ کرونا کس کے مسلک و فرقہ سے پھیلا۔ ابتدائی طور پر راقم نے اپنے مختلف مضامین میں اس نظریے پر تحقیق کی کہ کرونا کا پھیلاؤ دراصل عالمی معیشت کی تباہی کا عالمگیر ایجنڈا ہے یا کچھ اور، اس کے بعد اس پہلو کا بھی بغور مطالعہ کیا کہ آیا کرونا وائرس کسی جراثیمی ہتھیار کا نتیجہ تو نہیں، ایسے میں میری توجہ نیو ورلڈ آرڈر کی جانب بھی گئی، اس پہلو پر بھی تحقیق کی کہ 1990میں کُل مطلق العنان حکومت کی سازشی نظریے پر عمل درآمد تو نہیں کیا جارہا، ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پایا تھا کہ ایک نیا پہلو سامنے آیا کہ مخصوص دوساز اداروں نے سپر پاورز ممالک کے ساتھ معاہدے کے بعد مبینہ کرونا وائرس بنایا اور اُسے پھیلا دیا، لیکن اس بار انہوں نے وائرس سے پہلے ویکسین تیار نہیں کی، جس کے باعث وائرس کے مزید پھیلاؤ کو بروقت نہیں روکا جاسکا۔لیکن مسلک و فرقے کی بنیاد پر کرونا کے پھیلاؤ کی قیاس آرائیاں غیر مناسب عمل ہے۔

صرف بھارت میں کوروناوائرس کو اسلام مخالف جذبات کو ہوا دینے کے لئے استعمال دیکھنے میں آیا۔بھارتی اخبار دی ہندو نے کرونا وائرس کو‘جہاد’جیسی اصطلاحات کے ساتھ تشبیہ د ی۔ایک کارٹون جسے انڈیا کے اس اخبارنے شائع کیا، اس کارٹون میں کرونا وائرس کو کرتا شلوار میں ملبوس دکھایا گیا جو ایشیائی مسلمانوں کا مخصوص پہناوا ہے، ساتھ ہی ساتھ اس کے ہاتھ میں بندوق بھی ہے، اسی طرح ہندو توا کے پیروکاروں نے نماز کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب قرار دے کر شعائر اسلام پر الزام تراشیاں شروع کردیں۔

تاہم کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے دنیا کا سب سے بڑا و جرات مندانہ اقدام، مسجد الحرام میں جمعہ کی نماز کا دورانیہ کم کرنے کے علاوہ عمرے کی ادائیگی کو احتیاطی تدابیرکے تحت موخر کرنے اور مسجد نبوی ﷺ میں زائرین کے داخلے پر پابندی تھا، جو سعودی حکام نے احتیاطاََ اٹھایا، جس کے بعد کئی مسلم اکثریتی ممالک نے حتیاطی تدابیر کے تحت گھروں میں نمازوں کے اہتمام کرنے کو یقینی بنانے کی ضرورت اجاگر کی، ایران، عراق اور شام میں مزارات کو بھی احتیاطی تدابیر کے تحت بند کردیا گیا، حالاں کہ اس اقدام پر زائرین نے احتجاج بھی کیا لیکن حفظ ماتقدم کے طور پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بڑے اجتماعات کی پابندی کو برقرار رکھا گیا۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے مسجد، مندر، کلیسا،گوردوارے، مزارات، مقدس مذہبی و تفریحی مقامات،اولمپک وکھیلوں کے بڑے بڑے ایونٹ سمیت عالمی سمینارز میں اجتماعات پر پابندی ہے۔اس سے عالمگیر سطح پر یہ پیغام گیا کہ کرونا وائرس کا تعلق کسی مذہب، مسلک، معاشرت یا کسی سیاسی جماعت سے نہیں۔ کرونا وائرس کو بلا امتیاز رنگ و نسل بنی نوع انسان کے لئے خطرناک قرار دیا گیا۔تاہم ایک سوال ضرور کھڑا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں بد انتظامی کی غفلت کا ذمے دار کون؟۔ روس نے امریکا، امریکا اور چین نے ایک دوسرے پر بد انتظامی کے الزامات عاید کئے کہ کرونا وائرس کو روکنے میں سہل پسندی کا مظاہرہ کیا،تلخ، تند و تیز بیانات کے تبادلہ ہونے کے باوجود اس اَمر پرباہمی اتفاق ہوا کہ دونوں ممالک کو مل جل کر کرونا وائرس کے خلاف مقابلہ کرنا ہی ہوگا۔ یہ عالمگیر سطح پر مبنی مثبت پیغام تھا لیکن پاکستان میں غیر سنجیدگی و سیاسی جماعتوں کا ایک صفحے پر اکھٹے نہ ہونا افسوس ناک ہے۔دوم وطن عزیز میں مختلف نظریات کے منفی پروپیگنڈے افسوس ناک ہیں۔

پاکستانی حکام نے ووہان میں کرونا وائرس کے بدترین پھیلاؤ کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پرچینی شہریوں کی اسکریننگ کی اور جنوری سے تاحال پاکستان میں کرونا وائرس کا ایک بھی ایسا کیس منظر عام پر نہیں آیا جو چینی باشندوں سے آیا ہو، تاہم جب ایران میں کرونا نے تباہی مچانا شروع کی تو حکومت نے پاک ایران سرحد و تفتان پر توجہ مبذول کی، لیکن اس دور افتادہ و بنیادی ضروریات سے محروم علاقے میں عالمی ادارہ صحت کے معیار و ہدایات کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں انتظامی کوتاہی سامنے آئی، پاکستا ن میں کرونا کے پہلے دو کیس26فروری کو سامنے لائے گئے، ایک متاثرہ شخص فضائی سفر کرکے ایران سے کراچی آیا تھا، جبکہ دوسرا کیس گلگت بلتسان میں سامنے آیا، یہ ایک خاتون بھی ایران سے آئی تھی۔

مقامی طور پر کرونا وائرس کا منتقلی کا پہلاکیس اسکردومیں سامنے آیا جو ایک 14 برس کے بچے میں ظاہر ہوا۔ کوئٹہ میں تفتان سے آئے ایک بچے میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تو اُس کے بعد ذرائع ابلاغ کی توجہ تفتان پر مبذول ہوئی اور ہوش الربا حقائق سامنے آئے کہ تفتان کے قرنطینہ میں حفظان صحت کے بنیادی اصولوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا، اسی طرح کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت عمرے سے واپسی پر مردان کے رہائشی ہوئی، تو احساس ہوا کہ فضائی راستوں کے ذریعے آنے والے عمرہ زائرین سے بھی کرونا وائرس کا پھیل رہاہے، جس کی بنیادی وجہ بد انتظامی و مریضوں کی لاپرواہی بنی، ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کرونا مریضوں کی نصف سے زائد تعداد ایران و افغانستان کے راستے آنے والے زائرین کی وجہ سے، کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنے، اس کے بعد تبلیغی مراکز سے مبلغوں کی تشکیل سے ملک گیر سطح پر جانے و مقامی طور پر سماجی رابطوں میں احتیاط نہ برتنے کی وجہ سے کرونا وائرس پھیل رہا ہے۔

اقوام متحدہ نے بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بے احتیاطی کے باعث پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے شدید خطرات موجود ہیں۔ تاہم افسوس ناک پہلو سامنے یہ آرہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس، فرقوں، مسالک، صوبائیت و گروہ بندیوں میں بٹ گیا ہے، کرونا وائرس کو اس تناظر میں لے کر فرقہ واریت و مسالک کے درمیان تقسیم کردیا گیا، ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ بد انتظامی، بے احتیاطی، لاپرواہی اور طبی سہولیات کی کمی اپنی جگہ، لیکن کرونا وائرس بلا امتیاز رنگ و نسل و مذہب سب پر یکساں حملہ آور ہے، ان حالات میں ہمیں فروعی سیاست و الزام تراشیوں کے بجائے، کرونا وائرس سے بچاؤ کو اپنانے کی ضرورت ہے، بدترین حالات سے دوچار ہونے سے بیشتر ہمیں اپنے فروعی طرز عمل کو درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com