چاند کے گرد روشنی کا ہالہ کیوں اور کیسے بنتا ہے، کیا یہ کسی طوفان کی علامت ہے - شعیب احمد شاہد

ان سوالوں کے جواب جاننے کے لیے ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں کو سائنسی نقطہ نظر سے دیکھنا ہو گا۔ انسانی آنکھ آسمان پر رونما ہونے والے روشنی کے جتنے غیر معمولی مظاہر دیکھتی ہے ان کے بننے مٹنے کا انحصار بالائی فضا(upper atmosphere) میں موجود برف کے بلوری ذرات(ice Crystals) پر ہوتا ہے۔

یہ برفانی بلور (ice crystal ) شش پہلو ساخت رکھتے ہیں جسے انگریزی میں (hexagonal structure) کہا جاتا ہے۔ جب سورج کی شعاعیں ایک مخصوص فاصلے سے ان کرسٹلز سے گزرتی ہیں تو منعطف ہو کر روشنی کے مختلف نظارے پیش کرتی ہیں۔ جن کی ہیئت، ضخامت، رنگت بلوری ذرات کا سورج یا چاند سے فاصلہ اور منعطف ہونے والی شعاعوں کا زاویہ طے کرتا ہے۔ ان مظاہر میں سورج اور چاند کے گرد روشنی کے ہالے خصوصی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ حلقے انسانی انکھ پر 22 یا 46 ڈگری کے زاویے سے پڑنے والی منعطف شعاعوں کی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں۔

یہ عمل بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہوا میں موجود پانی کے چھوٹے چھوٹے قطروں پر سورج کی شعاعیں 42 یا 51 ڈگری کے زاویے سے منعطف ہو کر انسانی آنکھ سے ٹکراتی ہیں اور ہمیں آسمان پر ایک خوبصورت منظر نظر آتا ہے جسے قوسِ قزح کہا جاتا ہے۔یہ دائرے سورج اور چاند دونوں کے گرد بنتے ہیں۔ لیکن سورج کی روشنی میں انہیں دیکھ پانا مشکل ہوتا ہے مگر چاند کے گرد واضح طور پر نمودار ہوتے ہیں۔

عہدِ قدیم میں ان دائروں کو موسم کی خرابی یا کسی طوفان کی آمد کا اعلامیہ سمجھا جاتا تھا اور لوگ انہیں دیکھ کر خوف و ہراس اور توہمات میں مبتلا ہو جاتے تھے. مگر آج سائنس نے فطرت کے اس ماحولیاتی عمل کو انسانی عقل پر منکشف کر دیا ہے اور کسی حد تک اس بات کی تائید بھی کی ہے کہ یہ دائرے اکثر طوفانی بارشوں سے پہلے نمودار ہوتے ہیں لیکن ہمیں توہمات کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

بلکہ اسے دیگر موسمیاتی عوامل کی طرح فطرتی عمل سمجھنا چاہیے۔اور موسمی سختیوں کے لیے بھی الله پاک سے حفاظت کی دعا مانگنا چاہیے۔الله پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہماری خطاؤں کو معاف فرمائے! آمین یارب العالمین!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com