تمہارے باپ کا پیسہ ہے - حسین اصغر

دنیا اس وقت ایک عذاب سے گزر رہی ہے ،گیا گزرا حکمران طبقہ بھی اس وقت اپنے عوام کو سہولت دینے کے بارے میں سوچ رہا ہے ۔کہں لوگوں کے ٹیکس معاف کئیے جارہے ہیں ،کہیں یوٹیلٹی بیلوں میں نرمی کا سوچا جارہا ہے تو کہیں روزانہ اجرت کمانے والوں کے لئے اسکیمیں لائی جارہی ہے۔

مگر اس پریشانی اور ابتری کے حالات میں بھی پاکستان میں اس وقت بندر کا پتلی تماشہ جاری ہے ۔ آپ اس بات سے ہی اندازہ لگا لیں یہ کرپٹ اور انسانیت سے عاری حکمران طبقہ روز ٹی وی پر آکر غریبوں کے ساتھ ہمدردی کا چھوٹا ناٹک کرتا ہے اور جس اسکیم کا بھی اعلاج کرتا ہے اس کے اپنے پارٹی لیڈر آکر اس کی تردید کر دیتے ہیں ۔ دوسری طرف کرونا جیسے عذاب سے بچنے کے لئے عملی اقدامات کے بجائے عمران خان نے سب سے پہلے بیالیس ملین کے سرکاری خزانے سے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹیم کو ازسر نو مرتب کیا اور اب اربوں لگا کر “کرونا ٹائیگرفورس” بنائی جارہی ہے۔ایک طرف عمران روز میڈیا پر آکر بتاتے ہیں کہ حکومت کے پاس راشن اور میڈیکل سامان کے لئے فنڈ نہیں ہے اور اس مقصد کے لئے “کرونا وائیرس فنڈ “ قائم کیا گیا ہے ۔ہمیشہ حکمران طبقہ عوام کی توجہ اصل ایشو سے ہٹا کر پتلی تماشے کی طرف لگا دیتی ہے خود ہی دیکھ لیں ابھی کرونا وائیرس پاکستان میں آیا ہے ابھی حکمرانوں نے اس کے لئے اقدامات کرنے ہیں تو جگہ جگہ ڈاکٹروں کو سلوٹ مارا جارہا ہے اور ڈاکٹر بے چارے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں ہمیں“ سلوٹ “نہیں چائیے ہمیں” ماسک اور حفاظتی کیٹ “ چائیے جبکہ دوسری طرف ٹائیگرفورس کے لئے پارٹی جھنڈوں پر مشتمل یونیفارم سرکاری خرچ سے لاکھوں کی تعداد میں تیار کروائی جا رہی ہے !

اس مشکل وقت میں بھی کیا حکومت کا عوام کے اربوں روپے سے اپنی پارٹی کی پبلسٹی کرنا بدترین کرپشن نہیں ہے؟سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر ماسک اور حفاظتی سامان کےلیے ترس رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سرکاری پارٹی کے ٹائگر فورس کےلیے وردی بنایا جا رہا ہے ۔پوچھنا یہ تھا کہ ڈا کٹروں کے لئے ماسک اور حفاظتی سامان زیادہ ضروری تھا یا نام نہاد “ٹائیگرفورس” کی وردی؟وزیراعظم عمران خان کے “کرونا وائیرس فنڈ “ کا وہی انجام ہونے جارہا ہے جو چند مہنے پہلے “ڈیم فنڈ” کا ہوا تھا ،ڈیم فنڈ کے اربوں روپئے ان حکمرانوں کے کرپشن کی نظر ہوگئے۔اگر عمران خان کی یہ بات مان بھی لیں کے “ٹائیگر فورس” کا اقدام اچھا اقدام ہے تو بھی اس پر آنے والا خرچہ قومی خزانے کی بربادی کے علاوہ کچھ نہیں۔ فرض کریں اگر ٹائیگر فورس میں 10 لاکھ لوگ رجسٹرڈ ہو جائیں۔ اور انکو کام کرنے کے لئے پیٹرول اور کھانے کا خرچ 300 روپے دیا جائے (جیسا کہ عمران نے علان کیا ہے ) تو ایک دن میں تقریبا 30 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔

اگر یہ لاک ڈاؤن صرف 15 دن تک رہے تو یہ خرچہ 4 ارب 50 کروڑ تک چلا جائے گا تو وزیراعظم صاحب اگر اتنا پیسہ قومی خزانے میں ہے تو یہی 4 ارب 50 کروڑ روپے سے عوام کو راشن اور ڈاکٹروں کو حفاظتی کیٹ تقسیم کر دیں !میری ہمیشہ سے یہ رائے رہی ہے کہ “کرونا ٹائیگر فورس “ جیسے اقدامات اصل میں حکمرانوں کے لئے سونے کی چٹریا اور عوام کے لئے “اندھی ، بہری اور گونگی” کرپشن کی داستان ہوتی ہے جس کا کوئی آڈیڈ نہیں ہو سکتا۔
ریاست کا کام چندے اکٹھے کرنا اور” کرونا ٹائیگرفورس “ بنانا نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہوتا ہے حکومت نے چندہ لے کر ہی لوگوں کے مسائل حل کرنے ہیں تو یہ کام تو الخدمت فاؤنڈیشن اور دیگر خیراتی ادارے حکومت سے بھی بہتر انداز میں کررہے ہیں ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com