جوابدہی - ندا الیاس

فضا میں عجب سی خاموشی ہے ۔اس کے برعکس ذہن میں سوچوں کا شور سا ہے ۔کچھ دن پہلے کتاب میں پڑھے الفاظ ذہن میں بازگشت کر رہے ہیں ۔ غور و فکر پر مجبور کر رہے ہیں ۔
حضرت عمر احساس جوابدہی کے خوف سے کہا کرتے تھے کہ کاش میں کچھ نہ ہوتا میرا وجود ہی نہ ہوتا۔ مطلب کے وہ عمر کہ جس راہ پر چلتا شیطان راستہ بدل لیتا اسے جوابدہی کا ایسا ڈر تھا کہ اس سے بچنے کے لیے اس نے بےجان ہونا چاہا۔

اور ہم کیسے چند فرائض کی ادائیگی کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ چلو فرض تو ادا کر لیا ناں۔ آرام سے اور نیکیاں بھی کر لیں گے ابھی تو بہت وقت پڑا ہے۔ اس غفلت کی زندگی کی مجھے جو وجہ لگتی ہے وہ یہی کہ ہماری موت ہمارے نزدیک ابھی برسوں کی مسافت پر ہے ۔جوابدہی تو ہمیں بھی کٹھن ہی معلوم ہوتی ہے بھلے وہ اس فانی دنیا کی ہی کوئ معمولی سی جوابدہی کیوں نہ ہو اس کا ڈر بھی ہوتا ہے اور اس کی تیاری بھی زوروں کی ہوتی ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ ہمیں یہ جوابدہی قریب معلوم ہوتی ہے اور وہ جوابدہی دور ۔

رسول اللہٌ کے اصحاب تو وہ لوگ تھے جن کی موت انکے بےحد نزدیک تھی ۔ آپٌ نے حضرت علی سے دریافت کیا :”علی تمہیں موت پر کتنا یقین ہے ؟ حضرت علی نے کہا یا رسول اللہ ایک قدم اٹھاتا ہوں تو سوچتا ہوں کے اگلا اٹھا سکوں گا کہ نہیں ۔ آپٌ نے فرمایا علی تمہیں زندگی پر بڑا یقین ہے ! میں تو جب پلک جھپکتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ دوبارہ جھپک پاؤں گا کہ نہیں"(مفہوم)

مولانا مودودی سے پوچھا گیا کہ اگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ ایک گھنٹے بعد آپ کی موت آنے والی ہے تو آپ کیا کریں گے ؟ مولانا نے جواب دیا میں اسی کام میں لگ جاؤں گا جو پہلے سے کر رہا تھا ۔

یہ اللہ کے وہ بندے تھے جو ہر نماز کو آخری سمجھ کر پڑھا کرتے تھے تو پھر کیسے نہ بن جاتے وہ سراپا خیر اور نیکی کے پیکر ۔ جو اس راہ کے مسافر تھے جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے ۔ وہ اس صراط مستقیم پر عجلت بھرے قدم اٹھانے والے تھے کیونکہ انہیں مہلت ختم ہونے کا خدشہ لاحق تھا لہذا ہر بڑھتے قدم پر رفتار تیز ہو جاتی۔ جتنی اللہ کی خشیعت حاصل ہوتی تڑپ مزید بڑھتی جاتی اور اسی راہ پر فنا ہوجاتے ۔

انسان کو جس چیز میں کمال ہوتا ہے اس پر مرتا ہے ۔ چنانچہ دھنتر دید کو سانپ پکڑنے میں کمال تھا ، اس کو سانپ نے کاٹا اور مر گیا ۔ ارسطو سل کی بیماری میں مرا ۔ افلاطون فالج میں ۔ لقمان سرسام میں اور جالینوس دستوں کے مرض میں حالانکہ انہیں بیماریوں کے علاج میں کمال رکھتے تھے ۔ اس طرح جس کو جس سے محبت ہوتی ہے اسی کی خیال میں جان دیتا ہے ۔ قارون مال کی محبت میں مرا ، مجنوں لیلیٰ کی محبت میں ۔ اسی طرح طالبِ خدا کو خدا کی طلبی کی بیماری ہے وہ اسی میں فنا ہو جاتا ہے ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 409

اللہ تعالی نے اس راہ کا اختتام نہیں رکھا شاید اس لیے کیونکہ ہر کمال کی اگلی سیڑھی زوال کی طرف لے جاتی ہے۔ بس قدم اٹھاتے جانا ہے اور حقیقی جوابدہی کی تیاری کرتے جانا ہے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */