گونتاناموبے کی کہانی ملا ضعیف کی کہانی -عاصم رسول

’زندانی ادب‘ یا ’ادبِ زندان‘ اردو ادب کی قدیم اور اہم صنف ہے۔ زندانی ادب سے مراد وہ تحریریں ہوا کرتی ہیں جنہیں ان کے مصنفین دورانِ اسیری یا قید و بند سے رہائی کے بعد ضبط تحریر میں لائے ہوں ۔

اصولی طور پر تو اس کا تعلق روداد اسیری، داستان قید و بند، احوال زنداں اور جیل کے کوائف و روزنامچوں سے نظم یا نثر کی زبان سے ہے اور جہاں تک بات ہے ان تحریروں کی جو ایام قید میں قلم بند کی گئی ہوں، تو امتداد زمانہ کے ساتھ اس کے دائرہ میں وسعت آتی گئی ہے، یہاں تک کہ اب ہر وہ تحریر اس صنف میں شامل سمجھی جاتی ہے، جو اسیری و نظر بندی کے دوران رقم کی گئی ہو، خواہ وہ نظم میں ہو یا نثر میں، اس کا تعلق خالص مذہبی عناوین سے ہو یاٹھیٹھ ادبی مضامین سے، اس کا موضوع تدریسی و علمی ہو یا فکری و اصلاحی، تاریخ و سیاست سے اس کا رشتہ ہو یا تحقیق و تنقید سے، خلاصہ یہ ہے کہ علم و ادب کی تمام مرکزی وذیلی شاخیں اس کے دائرہ اطلاق میں شامل ہیں، بس شرط یہ ہے کہ موئے قلم سے صفحہ قرطاس تک کی منتقلی کا سفر دوران اسیری پیش آیا ہو۔

زندانی ادب کے نام سے جو سرمایہ ہمیں دست یاب ہے، اس کا شمار ہزاروں نہ سہی، سینکڑوں میں ضرور کیا جاسکتا ہے۔اسے ہم درسی و مذہبی، سوانحی و واقعاتی، علمی و تاریخی، نثری و شعری، اور مکتوبات و متفرقات جیسے چند مرکزی عناوین میں تقسیم کرکے ہر ایک کے تحت کچھ اہم اور نمائندہ کتابوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔
درسی و مذہبی تصنیفات:۔دیگر عناوین کے مقابلے میں اس عنوان کے تحت نسبتاًکم کتابیں پائی جاتی ہیں ،لیکن پھر بھی اس ذیل میں جو کتابیں دست یاب ہیں ، وہ ’’بہ قامت کہتر بہ قیمت بہتر‘‘ کی حقیقی مصداق ہیں۔

مثلا: تحریک ریشمی رومال کے کارساز مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ کا ’’ترجمہ قرآن مع حواشی‘‘ جو اسارت مالٹا کے زمانہ میں ۱۹۱۷ء تا ۱۹۱۸ء تحریر کیا گیا، مشہورخطیب اور قائد آزادیٔ ہند مولانا ابوالکلام آزاد کا ترجمہ و تفسیرموسوم بہ ’’ترجمان القران‘‘ ،جماعت اسلامی کے بانی اور عظیم مفکر مولانا ابو الاعلی مودودی ؒ کی تفسیر’’ تفیہم القرآن‘‘ کے اکثر اجزا ،مفتی عنایت احمد کاکوری کے کچھ درسی رسالے، خصوصا علم صرف کی مشہور کتاب’’ علم الصیغہ‘‘ ،مولانا سید عروج احمد قادری کی ’’تفسیر سورہ یوسف‘‘ مشہور اخوانی رہنما سید قطب شہید کی تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ ،ترکی کے اسلامی انقلاب کے روح رواں ’’ سعید نورسی ‘‘کے مختلف دینی رسالے، نیز اس طرح کی دیگر درجنوں کتابیں ،جو ہمارے درسی و مذہبی ذخیرے کے لیے سرمایۂ افتخار ہیں۔

سوانحی و واقعاتی تصانیف :۔یہ’’ ادبِ زنداں ‘‘ کی سب سے وسیع ، اہم اور دلچسپ صنف ہے، اسی پر اس کی بنیاد قائم اور اس کی عمارت استوا ر ہے ، بل کہ حق تو یہ ہے کہ یہی وہ گوشہ ہے ،جس پر’’ زندانی ادب‘‘ کا کامل اور بلاواسطہ اطلاق ہو تاہے ،اس کے تحت اسماے کتب کی ایک طویل فہرست ہے ،’’مشتے نمونہ ازخروارے ‘‘چندبہترین اور اہم کتابوں کے نام پیش ہیں ،مولانا حسین احمد مدنی کی’’ نقش حیات ‘‘ ، اور’’سفرنامہ مالٹا ‘‘،مولانا ابوالکلام آزاد کی ’’تذکرہ‘‘ ،رئیس الاحرار قاضی فضل حق کی ’’میرا افسانہ‘‘، مولانا حسرت موہانی کی ’’مشاہدات زنداں ‘‘،گاندھی جی کی خودنوشت سوانح ’’تلاش حق ‘‘،پنڈت جواہر لال نہرو کی ’’میری کہانی ‘‘ اور’’تلاش ہند‘‘،پروفیسر خورشید احمد کی’’تذکرئہ زنداں ‘‘ ،قائدمحترم سید علی گیلانی کی ’’مقتل سے واپسی‘‘ اور ’’رودادِ قفس‘‘،صحافی افتخار گیلانی کی’’ تہاڑ میں میرے شب وروز‘‘، مہرکاجیلوی کی’’داستان زنداں ‘‘۔

امداد صابری کی’’ تاریخ جرم و سزا‘‘،ریاض الرحمن ساغر کی’’ سرکاری مہمان خانہ‘‘ ،عبد اللہ ملک کی ’’جیل یاترا‘‘،جاں باز مرزا کی’’ بڑھتا ہے ذوق جرم‘‘ ، عقیل جعفری کی’’ جیل خانہ‘‘ ،محترمہ انجم زمرد ہ حبیب کی’’ قیدی نمبر سو‘‘،ہبہ الدباغ کی ’’صرف پانچ منٹ‘‘، محمد اکرم کی’’ قید یاغستان‘‘ ، برکت علی غیور کی’’ جرم جیل اور پولیس‘‘،اخوان المسلمین سے وابستہ مجاہدہ زینب الغزالیؒ کی تصنیف ’’ زنداں کے شب وروز‘‘ ،مخدوم جاوید احمد ہاشمی کی ’’ہاں میں باغی ہوں ‘‘، راجہ انور کی ’’قبر کی آغوش‘‘،یوسف رضاگیلانی کی ’’چاہ یوسف سے صدا‘‘،مفتی عبد القیوم کی’’ گیارہ سال سلا خوں کے پیچھے‘‘، ترک نژاد جرمنی صحافی مراد کرناز کی کتاب ’’ گوانتا نامو بے میں پانچ سال‘‘ عبدالواحد شیخ کی’’ بے گناہ قیدی‘‘۔

یہ تذکرہ ناقص رہ جائے گا اگر ذکر نہ کیا جا ئے پاک و ہند کے عظیم خطیب اور پا کستان کے مشہور صحافی آغاشورش کاشمیری کا، جن کی چھ سے زائد کتا بیں زندانی ادب کی اس صنف کا اہم حصہ ہیں ،یعنی’ موت سے واپسی ،پس دیوارزنداں ،تمغۂ خدمت ،قید فرنگ ،بوے گل ،نالۂ دل دود چراغ محفل اور قیدی کا روز نامچہ۔شعری مجموعے:۔اس ذیل میں بہادر شاہ ظفر،مولانا حسرت مو ہانی ،مولانا محمد علی جوہر،مولانا ظفر علی خان ، شورش کاشمیری ،علامہ انور صابری، سردار جعفری ،حفیظ میرٹھی ،فراق گو رکھپو ری ،حبیب جالب ،احمد فراز،اسرار جامعی اور دیگر انقلابی شعرا کے نام کافی اہم ہیں، ان حضرات کے مجموعۂ کلام اورکلیات کا بیش تر حصہ پس دیوار زنداں ہی تیار ہوا، فیض احمد فیض کے دو اہم مجمو عۂ کلام کا سبب ہی قید وبند کے ساڑھے تین سالہ ایام بنے، یعنی’’ دست صبا‘‘ اور’’ زنداں نامہ‘‘، جو اب ان کی کلیات کاایک اہم حصہ ہے۔

مکاتیب:۔موجودہ مواصلاتی نظام کی ترویج وترقی یا ان کے وجود سے پہلے، بل کہ کچھ حد تک اس کے بعد بھی قید کیے جا نے والے اکثر اہل علم ،صحافی ،شعرا اور ادیبوں نے باہری دنیا سے تعلقات کے لیے مکتوبات ہی کو ذریعہ بنایا ، یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے کچھ ہی زیورِ طباعت سے آراستہ ہو ئے ،ورنہ اکثر یا تو دست برد زمانہ سے محفوظ نہ رہ سکے یا پھر ان کے متعلقین نے کسی وجہ سے انہیں قابل توجہ نہ گردانا ، پھر بھی زندانی ادب کے موجودہ ذخیرے میں دسیوں مجموعۂ مکاتیب کا ذکر ملتا ہے، مثلاً مولانا ابوالکلام آزاد کی ’’غبار خاطر‘‘ ،فیض احمد فیض کی’’ صلیبیں میرے دریچے میں ‘‘ ،سجاد ظہیر کی’’ نقش زنداں ‘‘ ،خرم مرا د کی’’ لمحات زنداں ‘‘،میا ں محمد طفیل کی’’ مکاتیب زنداں ‘‘ ،انعام الرحمن خاں کی’’ میسا کے شگوفے‘‘ اور’’ زنداں کا داعی‘‘ ، اشفاق اللہ خاں کی’’ ماں کے نام خطوط‘‘ اور مولاناسید مودودیؒ کے’’ زندانی مکاتیب ‘‘جو ان کے مجموعۂ مکاتیب میں شامل ہیں۔

علمی، تاریخی ،فکری اور اصلاحی کتابیں :۔درجِ بالا سطور میں ذکر کردہ اصناف کے تحت شامل ہو نے والی کتابوں کے علاوہ باقی تمام کتابیں اسی صنف کے تحت رکھی جاسکتی ہیں ، ا س میں متعدد اہل علم اور مختلف دانش وران کی خوب صورت اور بہترین تحریریں شامل ہیں ،مثلا: مصرو اسکندریہ کی اسارت کے دوران تصنیف کی گئی علامہ ابن تیمیہ کی چند کتابیں ،مختلف جیلوں میں تحریر کیے گئے مولانا ابوالکلام آزاد کے چند رسالے اور کتابچے ،ایامِ تعذیب وابتلا کے دوران سپرد قرطاس کی گئی سید قطب شہید کی متعدد تحریریں ،مولا نا مودودیؒ کے چنداہم علمی رسائل ،’’زمیندار‘‘ میں شائع ہونے والے مولانا ظفر علی خاں کے بہت سے علمی و ادبی مضامین ،مولانا غلام رسول مہر و عبدالمجید سالک کی چند تاریخی و تحقیقی کتا بیں ،ایڈیٹرروزنامہ’’ جسارت‘‘ پاکستان صلاح الدین مرحوم کی مشہور کتاب ’’بنیادی حقوق‘‘ اور مولانا عبد العزیز مدرا سی کی اہم کتاب ’’اللہ کی نشا نیاں ‘‘۔

زیر تبصرہ کتاب درج بالا ثانی الذکر کے قبیل سے ہے۔ گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ میں امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پنٹاگون پر ہوئے حملے کا الزام طالبان اور القائدہ پر عائد کیا گیا۔ اور آناً فاناً وحشیانہ بم باری کرکے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ لاکھوں معصوموں کو شہید اور ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان گرفتار شدگان میں اس وقت کے سربرآوردہ طالبان قائدین اور کمانڈ بھی شامل تھے۔ ملاعبد السلام ضعیف اس وقت پاکستان میں امارت اسلامی افغانستان کی طرف سے سفیر تھے۔پاکستان کے اس وقت کے ڈکٹیٹر اور مغرب کے پروردہ جنرل پرویزمشرف نے شرم ناک طریقے پر اور تمام مسلمہ سفارتی آداب اور جنیوا کنوینش کی دفعات کو بالائے طاق رکھ کر ملاضعیف کو چند ٹکوں کے عوض امریکیوں کو فروخت کردیا۔

خود کو ’مہذب‘ کہنے والے امریکہ کے فوجیوں نے ملاضعیف کے ساتھ انتہائی انسانیت سوز برتائو کیا۔ ۲ جنوری ۲۰۰۲ کو انہیں سفارت خانہ سے لے جاکر پہلے نامعلوم جگہ پر رکھا گیا۔ اور اس کے بعد سفاک امریکی فوج کے حوالہ کردیا گیا۔ ملا ضعیف نے تین سال دس ماہ گونتا نامو بے اور افغانستان کی مختلف جیلوں میں سخت جسمانی اور روحانی اذیت اور تکالیف برداشت کیں۔ واقعہ یہ کہ اس مختصر رودادِ الم کو پڑھتے ہوئے گھِن آتی ہے مغربی تہذیب کو ’تہذیب‘ کہتے ہوئے۔ اس کتاب میں مصنف نے ایسے واقعات لکھے ہیں کہ پڑھتے ہوئے انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتاہے۔ ایساگھنائونا سلوک انہوں نے ایک ملک کے قابلِ عزت سفیر سے کیا۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عام قیدیوں سے ان کا برتائو کیسا وحشیانہ ہوتا ہوگا۔ مصنف نے رودادِ غم ضبط تحریر میں لاکر مغربی تہذیب کے امام امریکہ کے دعوائے جمہوریت، انسانی حقوق ، بقائے باہم اور انسانیت کی حقیقت کو طشتِ از بام کیا ہے۔اس کتاب کے جستہ اقتباس ہدیۂ قارئیں کرتا ہوں۔

معصوم لوگوں بل کہ مسلمانوں کے لیے گونتانامو بے اور ابو غریب جیسے پنجرے’ سجانے کا سہرا ‘بھی امریکہ بہادر کو ہی جاتا ہے۔ اس کے متعلق مصنف لکھتے ہیں:
’’گونتاناموبے میں وقت کے فرعون کے مظالم سہنے ولا ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ زندان ہر اس مسلمان کے لیے بنایا گیا ہے جو امریکی پالیسیوں کا مخالف ہے۔ دہشت گردی کے نام پر گرفتارہونے والوں کے ساتھ امریکہ ہرغیر انسانی سلوک کرسکتا ہے، کیوںکہ گونتاناموبے کے جزیرے میںدنیا کا کوئی قانون نہیں چلتا‘‘۔امریکی فوجیوں کے غیر انسانی رویہ کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’ان کا اخلاقی درجہ صفر تھا قیدیوں کو ہمیشہ بھوکا رکھتے تھے، ان کو گندے کپڑے دیتے تھے، نیند کے وقت بلیوں اور کتوں کی طرح آوازیں نکال کر پریشان کرتے اور قیدیوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرکے ان کو غصہ دلاتے تھے۔۔چابی والے گروپ کے فوجیوں کو انسانیت چھو کر بھی نہ گزری تھی، تعصب ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ہر وقت بداخلاقی کے مظاہرے کرتے رہتے اور ہمارے مذہبی شعائر کا احترام نہ کرتے تھے۔ اپنے اعلیٰ حکام کو جھوٹی رپورٹیں ارسال کرتے اور قیدیوں کو سخت سزائیں دلواتے تھے۔ قرآن مجید کی بار بار بے حرمتی کرتے، قیدیوں کو مشتعل کرتے ، ان کو تشدد کا نشانہ بناتے اور رات کے وقت بے جا تلاشی لیتے اور جب قیدی محو خواب ہوجاتے تو فرش کے ساتھ اپنے بھاری بوٹ مار کر شور مچاتے۔۔۴۹ گروپ کے فوجیوں میں شیطانی خصلتیں تھیں، وہ تمام کے تمام وحشی اور مغرور تھے۔ قیدیوں کی تکلیف میں خوشی محسوس کرتے تھے‘‘۔

قندھار سے جب ملا ضعیف اور دوسرے قیدیوں کو گونتانامو بے لے جایا گیا تو پہلے ان کی خوب پٹائی کی گئی اور ہتھکڑیاں اور بیڑیاں اتنی کس کر باندھی گئیں کہ وہ ذرا حرکت نہ کرسکتے تھے اور اسی حالت میں انہیں دھکے دے کر جہاز میں بٹھا دیا گیا۔ لکھتے ہیں:’’میرے ساتھ ہی بندھے خیر اللہ خیر خواہ(سابق گورنر ہرات) نے کئی بار ہاتھوں میں تکلیف کی شکایت کی مگر بے سود۔ میں بھی سخت اذیت سے دوچار تھا، کمر ٹوٹتی محسوس ہورہی تھی، پائوں میں اتنا شدید درد تھا جیسے کاٹے گئے ہوں۔ شکایت اس لیے نہیں کرسکتا تھا کہ قصائی کو کون ڈاکٹر سمجھتا ہے۔ کچھ دیر بعد بہت سے ساتھیوں نے تکلیف کے مارے باقاعدہ رونا شروع کردیا، جیسے ہر کوئی نزع کی حالت میں ہو۔ ہمیں پرواز سے چار گھنٹے قبل جہازمیں باندھا گیا تھا، تین گھنٹے جہاز اترنے کے بعد رکھا گیا جب کہ بیس گھنٹے کی مسافت تھی۔

اس طرح جہاز سے قید خانے تک ہم نے جو وقت لیا وہ کل ملا کر ۳۰ گھنٹے بنتا ہے۔ ہم ۳۰ گھنٹے زندگی کے سخت ترین عذاب سے گزرے۔ ہمیں توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کڑے وقت کی جزا اپنی رضا کی صورت میں ضرور عطا فرمائے گا۔ قندھار سے گونتاناموبے تک ہر قیدی کو صرف ایک گلاس پانی اور ایک عدد سیب دیا گیا۔‘‘کتاب کے ورق ورق پر ظلم و تشدد کی رونگٹے کھڑے کر نے والی داستانیں رقم ہیں ۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’یہاں رہ کر بہت سے قیدی نفسیاتی مریض بن گئے تھے۔ قیدی یہاں چیختے مگر ان کی چیخوں کی آوازیں کسی کو سنائی نہ دیتی تھیں۔۔۔برطانوی شہریت رکھنے والا ہمارا ایک بھائی احمد اس کیمپ میں تین سال گزارنے کی وجہ سے شدید ڈپریشن کا مریض بن گیا تھا۔۔احمدکو بعد میں اتنے امراض لاحق ہوگئے تھے کہ وہ بالکل بے حس ہو کر رہ گیا تھا، کوئی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ ہر وقت اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا۔ گونتاناموبے میں کبھی کبھار رات کو اٹھ کر نعتیں پڑھتا اور تلاوت کرتا، اکثر قرآنی آیات غلط پڑھتا تھا۔۔طب کے شعبے سے منسلک افراد کو قید نہیں رکھا جاسکتا، مگر ڈاکٹر ایمن سعید(یمنی) کو گرفتار کرکے گوانتاناموبے پہنچادیا گیا۔ ان کو اتناذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ آخر میں پاگل ہوگئے۔ ان کی طرح اوربھی بہت سے قیدی پاگل ہوگئے تھے مگر ان کو سزا باقاعدگی کے ساتھ دی جاتی تھی‘‘۔

ملاضعیف کو قید سے مشروط رہائی کی پیش کش کی گئی اور اس ضمن میں حلف نامہ پر دست خط کرنے کو کہا گیا۔ ملاضعیف نے جب اس حلف نامہ میں وہ جرائم لکھے ہوئے دیکھے جو انہوں نے کیے ہی نہیں تھے تو انہوں نے مومنانہ جرأت کا اظہار کرکے وہ حلف نامہ دور پھینک دیا اور کہا:’’میں مظلوم ہوں، مجرم نہیں ہوں، کبھی بھی اپنا ناکردہ جرم تسلیم نہیں کروں گا، کبھی معافی نہیں مانگوں گا، کبھی بھی اپنی رہائی پر امریکہ کا شکریہ ادا نہیں کروں گا، میںنے کون سا جرم کیا ہے؟ مجھے کس قانون کے تحت مجرم ثابت کیا گیا ہے؟ میں طالب تھا، ہوں اور طالب رہوں گا، البتہ القاعدہ کا کبھی ساتھی نہیں رہا۔ کس دہشت گردی کے واقعے میں میرا ہاتھ تھا ؟ مجھے بتائیے، اگرآپ سچے ہیں۔‘‘

بہ ہر حال ایک سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب اصل میں پشتو زبان میں لکھی گئی ہے جس کا ترجمہ و تلخیص مولانا رافع القدر نے کیا ہے۔ یہ داستانِ جدوجہد جو دراصل جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کی روداد ہے نہایت ہی واضح، شفاف، اور غیر مبہم انداز میں بیان کی گئی ہے۔ یہ داستان نہایت ہی دل خراش واقعات و حالات پر مشتمل ہے۔ گونتانامو بے کی دہشت اور ہولناکیوں کی شہادت کی اہمیت کے علاوہ ’’گونتاناموبے میں بیتے ماہ و سال‘‘ انسانی عزم وہمت، حوصلے اور برداشت کی ایک ولہ انگیز کہانی بھی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com