حج سنہ ۱۴۴۱ ھ،خدشات اور گزارشات - وقاص احمد

کرونا وائرس کے حوالے سے حالا ت واقعات جس طرف تیزی سے قدم بڑھا رہےہیں اور سعودی حکومت جس طرح ملکوں بشمول پاکستان کو حج کی سہولیات کے حوالے سے معاہدے کرنے سے منع کر رہی ہے اس سے یہی اندازہ ہورہا کہ معاملات انتہائی تکلیف دہ اور دل سوز رخ اختیار کر رہے ہیں جس میں ۱۴۴۱ ھ کا حج شاید خاکم بدہن اب اس گہما گہمی اور فرزندانِ توحید کے فقید المثال اجتماع کی صورت میں نہ ہوسکے۔

انسانی نفس اور دماغ کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ مستقبل میں وقوع پزیر ہونے والے واقعات ، ان سے جڑے خدشات اورانکے نتائج کو اپنے خیال و گمان کی دنیا میں آڈیو ویڈیو فلم کی طرح چلا سکتا ہے، ان پر غور و فکر کرسکتا ہے ۔ پھر اچھے نتائج کی طلب و محبت انسان کو اسے حاصل کرنے اور اس کی جانب سفر کرنے پر مجبور کرتی ہے، اس کے لیے منصوبہ بندی اور اقدامات کرنے کا شوق و جذبہ دلاتی ہے۔ اس کے برعکس نتائج اگر نقصان دہ اور خوفناک ہوں تو انسان کی تدبیریں ان برے نتائج سے بچاؤ کے اقدامات اور ان کے سدباب کے لیے ہوتی ہیں ۔ سارا مسئلہ مستقبل کے حوالے سے یقین کےمقدار و معیار کا ہوتا ہے۔ قرآن کہتا ہے نا کہ ’’ تم اصل میں دنیا کی زندگی کو( اس کے یقینی نتائج کی وجہ سے ) بہت اہمیت دیتے ہو جبکہ آخرت اصل خیر اور باقی رہنے والی ہے‘‘۔ ہمارے ہاں دعوت وتبلیغ سے منسلک دوست و احباب یہی تو بار بار کہتے رہتے ہیں کہ دنیا کی خوشی اور غم کی حیثیت آخرت کی خوشی اور غم کے مقابلے میں کچھ نہیں۔مسئلہ یقین کا ہی ہے۔

کرونا وائرس کی وجہ سے مستقبل میں پیدا ہونے والے حالات و واقعات کی وجہ سے مسلمانوں کی غالب اکثریت سخت پریشانی اور بے چینی کی کیفیت میں ہے ۔ شدید خدشہ ہے کہ آنے والے حج کا اجتماع خوف اور احتیاطی تدابیر کی مجبوری کی وجہ سے انتہائی چھوٹا اور صرف سعودی شہریوں کے لیے ہو۔ منیٰ کا میدان خاکم بدہن تقریباً خالی پڑا ہوگا، عرفات کے میدان میں چند ہزار مقامی لوگ ہونگے، مطاف خدا ناخواستہ وہی منظر پیش کر رہا ہوگا جیسا کہ آج کل نظر آرہا ہے۔ کوئی نہیں ہوگا جو ملتزم سے چمٹ کر اللہ سے گڑگڑا کر دعا مانگے۔محترم حجر اسود کا بوسہ لے۔ یہ لکھتے ہوئے ہاتھ کپکپا رہے ہیں ، آنکھیں نم ہیں۔ سادہ سی بات ہے کہ دل و دماغ ان خیالات کے حقیقت میں وقوع پزیر ہو جانے سے انکار کر رہا ہے۔ لیکن کیا کیاجائے ، عمرہ کی پابندی اور دنیا بھر میں نمازِ باجماعت پر پابندی اب ہر نوع کے خدشات کو تقویت بخش رہے ہیں۔

انسان جس چیز کو جتنی اہمیت دیتا ہے اسی کے لیے اتنی ہی تگ و دو بھی کرتا ہے۔ ایک خاص سطح تک مالی تو کیا جانی خطرات بھی مول لیتا ہے۔ کراچی میں جب دہشت گردی عروج پر تھی ، روزانہ بیس پچیس لاشیں گرتی تھیں تب شاید ہی کسی نے اس وجہ سے نوکری سے استعفیٰ دیا ہو کہ وہ خطرات کی وجہ سے گھر سے نہیں نکل سکتا۔ سب احتیاط اور تدابیر اختیار کرتے ہوئے آتے جاتے رہے۔ احتیاطی تدابیر میں میں حالات کی مناسبت سے کمی بیشی بھی کرتے رہے۔ کاروبار زندگی اسی لیے چلتا ر ہا کیونکہ دنیا کے نتائج ، اس کی خوشیاں اور پریشانیاں سب فوراً سا منے آجاتی ہیں، حواس خمسہ سے محسوس ہوتی ہیں۔

ملک بھر میں جب امام بارگاہوں اور مساجد پر دہشت گرد حملے ہوتے تھے تو حفاظتی اقدامات اور مورچہ بند اہلکاروں کے ساتھ جمعہ سے اجتماعات اور عام نمازیں الحمدللہ ہوتی رہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال سڑکوں پر حادثات کے نتیجے میں تیرہ چودہ لاکھ لوگ جاں بحق ہوتے ہیں۔ لیکن سڑکوں پر بذریعہ کار، بس، وین، ٹرک سفر میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ ہاں حفاظتی اقدامات میں، ہدایات میں بھرپور اضافہ کیا جاتا رہا ۔ لیکن انسانوں کے سفر بند کرنے پر کوئی سوچتا بھی نہیں کیونکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنا انسان کی ایک اہم ضرورت ہے ۔ اس طرح حج کی انتہائی اہمیت اور اس کے نہ صرف تمام مسلمانوں بلکہ پورے عالم انسانیت پرروحانی اثرات کے پیش نظر فریضہ حج کو صورتحال کے مطابق بہترین طرز پر سر انجام دینے کے لیے بھی غیر معمولی اقدامات اور تدابیر ہونی چاہیئے۔ حج کی عظیم الشان عبادت اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ اس کی خاطر ایمان و یقین کی دولت کو بھی ٹٹولہ جائے اور محض زبانی جمع خرچ کے بجائے عملاً اس دولت کو بروئے کار لایا جائے۔

کرونا وائرس چونکہ ایک الگ نوعیت کا دشمن ہے اس لیے اس سے نمٹنے کے لیے اس وائرس کے بارے میں اب تک کی دستیاب معلومات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ یہ وائرس اُس شخص کی چھینک اور کھانسی سے پھیلتا ہے جسکے جسم کے اندر کرونا وائرس داخل ہوچکا ہو۔ جن لوگوں کے اندر کرونا وائرس ہو ان میں سے بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو قطعاً بیمار نظر نہیں آتے ۔ نہ بخار ، نہ کھانسی نہ گلے میں درد، کچھ نہیں۔ ان لوگوں کی چھینک یا اتقاقی کھانسی یا ناک صاف کرنے کے بعد ہاتھ ملانے سے دوسرے لوگوں میں بھی کرونا وائرس جا سکتا ہے ۔

البتہ یہ وائرس ان لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے جو عمر رسیدہ ہوں ، یا وہ لوگ جو پہلے سے کسی بڑی بیماری کا شکار ہوں یا کسی بھی وجہ سے کسی شخص کا جسمانی مدافعاتی نظام کمزورہو۔ ڈاکٹرز کی جانب سے ہر کسی کو ہر کسی سے چھ فٹ دور رہنے کی ہدایت اگر دی جارہی ہے تو وہ اسلئے کہ جس شخص کے جسم میں کرونا وائرس ہو اسکی کھانسی ، چھینک یا تھوک آپ کو نہ لگ جائے جوبعد میں کسی طریقے سے منہ، ناک ، آنکھ کے ذریعے آپ کے جسم میں داخل ہوجائے۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق کرونا سے زیادہ بیمار ساٹھ سال سے زائدعمر کے افراد ہورہے ہیں اور اموات 99 فیصد ان لوگوں کی ہورہی جو پہلے سے تین یا تین سے زیادہ یا دو یا کسی ایک جان لیوا مرض کا پہلے سے شکار ہوں۔ اٹلی کے اعداد و شمار آپ کسی بھی قابلِ اعتماد ویب سائٹ سے حاصل کر سکتے ہیں۔

وائرس کے بارے میں اوپر بتائے گئے حقائق اور حج کی انتہائی اہمیت کے پیش نظر اگر اس سال حج میں حاجیوں کی تعداد گزشتہ سال کی نسبت آدھی یعنی تقریباً دس گیارہ لاکھ کردی جائے او ر ہر ملک کا کوٹہ اسی لحاظ سے نصف کردیا جائے۔ اور پھر اسکے بعد یہ طے کرلیا جائے کہ اس سال حج کے لئے اہل وہی لوگ ہونگے جن کی عمریں پچیس سے پچاس سال کے درمیان ہوں۔ انہیں کوئی دائمی سنجیدہ عارضہ لاحق نہ ہو۔ اس کے بعد ہر ملک خصوصی اقدامات کرتے ہوئے ان لوگوں کا کرونا ٹیسٹ روانگی سے دو تین دن پہلے کرلے اور حاجیوں کو تنبیہ کی جائے کہ اس درمیان اپنا بے انتہا خیال رکھیں ۔

سعودی حکومت ایک ٹیسٹ ان حاجیوں کا سعودی عرب میں اترنے کے بعد بھی لے ۔ ان کاموں جیسے ٹیسٹ کرنے اور ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کرنے میں اگر بہت وقت درکار ہو یا ممکنہ وسائل و سہولیات دستیاب نہ ہو تو حاجیوں کی تعداد مزید کم کی جاسکتی ہے۔ آٹھ نو لاکھ کا حج بھی مسلمانوں کا ایک بڑا اجتماع ہوگاجس میں ہر ملک کی نمائندگی ہوسکتی ہے۔ اور سعودی حکومت کو بیس لاکھ حاجیوں کے مقابلے میں انتظامات اور فراہمی ِ سہولیات میں کافی آسانی ہو جائے گی۔

راقم کی یہ عمومی گزارشات درد دل کے ساتھ صرف اس لیے ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم زیادہ ایمان کی کمی اور بزدلی کا شکار نہ ہوجائیں اور حکمت اور تدابیر کو اتنا بھی بروئے کار نہ لائیں جتنا ہم اپنی دنیا کمانے میں لاتے ہیں ۔ اپنی جان و مال کو اتنا بھی آزمائش میں نہ ڈال پائیں جتنا ہم دنیا کے کاروبار حتیٰ کہ تفریحات کے لیے ڈال دیتے ہیں۔ کرونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر، سفری ہدایات، قواعد و ضوابط میں اپنے اپنے شعبوں کے ماہر لوگوں کی رائے سے بہت زبردست اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ عزیزیہ ، حرم اور مدینہ میں قیام کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ممالک پورے پورے ملک کو لاک ڈاؤن کر سکتے ہیں اربوں ڈالر کے ریلیف پیکج دے سکتے ہیں تو حاجیوں کی حفاظت کے لیے بھی یہ کام کیا جاسکتا ہے۔

نہ صرف حج کے انتظامات کرنے والوں کو بلکہ حاجیوں کو بھی اپنے ایمان حقیقی، توکل علی اللہ میں اضافہ کرتے ہوئے استقامت سے ہدایات پر عمل اور مشکلات پر صبر کرنا ہوگا۔حدیث میں آتا ہے کہ سعید بن مسیّب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرفہ سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کو آگ سے اتنا آزاد کرتا ہو جتنا عرفہ کے دن آزاد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ قریب ہوتا ہے اور فرشتوں پر بندوں کا حال دیکھ کر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ کس ارادہ سے جمع ہوئے ہیں؟۔“ ( صحیح مسلم)

اور ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ’’ اللہ جل شانہ عرفہ کی شام اہل عرفات کی تعداد اور اس عظیم منظر کو فرشتوں کو دکھا کر ان سے بطور فخر بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ دیکھو! یہ میرے بندے پراگندہ بال اور گرد آلود چہرے لے کر یہاں حاضر ہوئے ہیں تم گواہ رہو کہ میں نے ان کے تمام گناہوں کو بخش دیا اور اسی طرح ان گناہوں کو بھی بخش دیا جن کی یہ سفارش کر رہے ہیں ۔‘‘

اللہ سے دعا ہے کو ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو اس مشکل وقت میں حکمت اور تدبر کے ساتھ ساتھ ہمت اور حقیقی ایمانی جذبے کے ساتھ فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ اس سال انشاءاللہ جب یوم ِعرفہ ، عرفات کے میدان میں حجاج کرام دعا کے لیے اللہ کے حضور ہاتھ اٹھائیں اور کہیں کہ اے اللہ ہم آگئے ہیں ، اے اللہ ہم حاظر ہیں تو اللہ تبارک تعالیٰ اپنے حبیب رسول اللہ ﷺ کی امت کو دنیا اور آخرت کی ہدایت ، عافیت و مغفرت عطا کردے ۔آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com