ایک خط اللہ میا ں کے نام - ایمن طارق

اللہ میاں أپ کی حمد و تسبیح ،آپ رحمان و الرحیم ستر ماوں سے بڑھ کر محبت کرنے والے آپ شہہ رگ سے قریب تر آپ بھیجنے والے ہمیں اس دنیا میں اور ہمیں واپس بلانے پر قادر آپ مالک کائنات ہر ملک آپ کا ہر قوم آپ کی آپ نعمت دینے والے اور نعمت واپس لے لینے پر قادر ۔

اللہ میاں آپ سے باتیں تو روز ہوتی ہیں لیکن آج ایک بات کرنا چاہتی ہوں ۔ بہت پریشانی میں آپ سے مخاطب ہوں ۔خوفزدہ ہوں کیونکہ دل یہ کہتا ہےکہ آپ ہم سب سے ناراض ہیں ۔ یہ نہیں کہ آپ کی ناراضگی کی وجہ نہیں پتا لیکن پھر بھی انجان بننا چاہتی ہوں کیونکہ کوتاہیوں اور غلطیوں پر نظر ڈالی تو شاید آپ سے درخواست کرنے کی آپ سے اس سرگوشی کی ہمت نہ کر سکوں۔
ہم آپ کی مسجدوں کی طرف سے غافل تھے آج ان کے دروازے ہم پر بند ہیں۔أپ کی کتاب ہمارے گھروں میں موجود تھی لیکن اس کے مطابق اپ کی مرضی کی زندگی بنانے سے کوتاہی کرتے تھے ۔ ہم آپ کی کائنات میں آلودگی پھیلاتے تھے آج ہم اپنے گھروں میں قید ہیں اور کائنات ہم سے محفوظ ہوکر سکھ کا سانس لیتی ہے . آپ کے دیے ہوے رزق کو ضائع کرتے تھے آج رزق کی تنگی کا شکار ہیں ۔
ایک دوسرے کے حقوق مارتے تھے اور آج ائک دوسرے کی شکل دیکھنے کو تڑپتے ہیں ۔ آپ کے مظلوم بندوں کے لیے آواز اُٹھانے میں سستی دکھاتے تھے اور آج خود وہی تنہائ ، قید اور اذیت کئ کیفیت میں مبتلا ہیں ۔مال خرچ کرتے ہوے جان جاتی تھی اور آج ہم فارغ ہیں اور ہمارے جاب اور بزنس ڈوبتے نظر آتے ہیں ۔جرم تو بہت ہیں مالک اتنے کہ ہم گنتے جائیں اور ختم نہ ہوں ۔ اللہ میاں دنیا کا ہر شخص خوف میں ہے ایک نظر نہ آنے والے دشمن کا خوف ۔ ایسا خوف کہ جس سے ہمارے دماغ مفلوج ہوۓ جاتے ہیں ۔ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہوئ جاتی ہے ۔

آپ نے ہمیں ایمان کی دولت دی مسلمان بنایا ۔ یہ یقین کہ ہمیں زندگی کے خاتمے کے بعد آپ کے پاس ہی آنا ہے ہمیں موت سے نہیں ڈراتا لیکن اللہ میاں یہ دنیا اس کسمپرسی کی حالت میں چھوڑنے کا خیال بہت بے چین کرتا ہے ۔یہ غیر یقینی کی کیفیت ، اپنی آنکھوں سے موت اور زندگی کی یہ آنکھ مچولی دیکھنا دل ڈبوتا ہے ۔ قیامت کے دن پر ایمان تھا لیکن دنیا اتنی پرکشش تھی کہ بار بار روز قیامت بھلا دیتی ۔اب ایسا لگا کہ جیسے کچھ وقت کے لیے اپ نے اُس کی ایک جھلک ہمیں دنیا میں ہی دکھا دی ۔ آج ہر شخص دوسرے سے بھاگتا ہے اور قریبی عزیز ایک دوسرے سے ڈرتے ہیں ۔ نفسا نفسی کا عالم ہے.یہ نہ کہیے گا کہ مصیبت پڑنے پر ہی میری طرف کیوں آے۔پیارے اللہ میاں أپ کے علاوہ اس دنیا کے انسانوں کو بچانے والی کوئ ذات نہیں ۔ وہ جو بڑے بڑے آپ کے وجود کے منکر تھے وہ آج ہمت ہار چکے ہیں ۔ زمین کے خدا بننے کے دعوے دار آج سارے وسائل لگا کر بھی اس خوفناک موذی بیماری سے اپنی عوام کو بچانے سے قاصر ہیں ۔
آپ دیکھتے تو ہیں ہم سب کو ۔ اپنے عرش سے ہماری دعائیں سنتے ہوں گے ، ہمارا خوف آپ سے پوشیدہ نہ ہوگا ۔ ہمارے دل کی کیفیت سے بھی آپ آگاہ ہیں تو بتانے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کو یہ سب پتا نہ تھا لیکن شاید ابھی آپ اتنے ناراض ہیں کہ ہماری دعائیں جمع کرتے جاتے ہیں جواب نہیں بھیج رہے ۔

ایسا لگتا ہے جیسے ایک خاموشی ہے آپ کی جانب سے ۔ آپ کی دنیا میں جو فساد انسان نے برپا کیا ہے اپ اس سے سخت نالاں ہین ۔ اس عفریت سے زیادہ اس خاموش ناراضگی سے ڈر لگتا ہے ۔
آپ نے کہا تھا کہ میری رحمت سے مایوس نہ ہونا اسی اُمید پر ساری دنیا کی طرف سے اور امت مسلمہ کی طرف سے خصوصا آپ سے التجا ہے ہم پر رحم کیجئے ۔ ہمیں معاف کر دیجیے ۔ آپ نے یونس علیہ اسلام کو مچھلی کے پیٹ سے نکالا آپ نے ابراہیم علیہ اسلام کے لیے آگ ٹھنڈی کر دی ۔ موسی علیہ اسلام کو فرعون کے لشکر سے بچایا ۔ یا مالک ہمیں ہماری دنیا کو اس مرض سے شفا دے دیجیے ۔ ہم بے بس ہیں ہم آپ کی آگے جھکے ہیں ۔ أپ کئ بارگاہ میں ہاتھ پھیلاے ہیں مالک ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالیے جسکے اُٹھانے کی ہم طاقت نہیں رکھتے ۔
ہم پر اپنی رحمت کی بارش برسا دیجیے ، ہمارے لیے معاملات آسان کر دیجیے ، آپ کی طرف سے جلد جواب آنے کی منتظر ،
آپ کی بندی
ایمن طارق

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com