خوف کا بت توڑ دیجئے - عصمت گل خٹک

اس وقت ایک بے چہرہ سا قاتل _____ ہم زمیں زادوں کے تعاقب میں ھے مگر سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس قاتل سے زیادہ اس کے خوف کا حصار ہماری ہمت اور حوصلوں کی سپاہ کے مدافعاتی نظام میں نقب لگاکر اس کو شکست و ریخت سے دوچار کررہا ہے _ یہ اسکی سب سے بڑی کامیابی ہے جو بدقسمتی سے ہماری سب سے بڑی ناکامی ہے .

کورونا کی اس کرہ ارض پر اس وباء کے عالم میں آپ یقین کیجئے میں اپنے آپ کو کبھی حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں محسوس کرتا ہوں تو کبھی قوم لوط کا فرد تو کہیں حضرت شعیب علیہ السلام کے دیار میں سانس لینے کا احساس ہوتا ہے ___ میں نہیں جانتا کہ آنیوالا لمحہ میرے لئے یا میری اس دنیا کیلئے کیا پیغام لیکر آنیوالا ہے ؟
مگر میرا خیال ہے کہ ہم سب مرنے سے پہلے ہی مرگئے ہیں . خوف کے کفن میں لپٹے ___ وہ زندہ لاشے بن گئے ہیں جو اپنی اپنی چاردیواری کی قبروں میں گلنے سڑنے لگے ہیں .

قران کریم میں حشر کے جس میدان کا نقشہ باندھا گیا ہے __ اس کے کچھ آثار ____ اگر ہم بغور اپنے اردگرد دیکھیں تو بہت واضح دکھائی دینے لگے ہیں __ مخلوق نے اپنے اور خالق کے درمیان فاصلے کیا پیدا کئے کہ اس نے مخلوق ہی کے درمیان فاصلے پیدا کردئیے ___ اس کو ہماری یہ ادا پسند نہ آئی تو یہ وباء بھیج دی ہے ______¡¡¡¡

باہر سے گھر میں داخل ہونے والے بیٹے کیلئے آج ایک ماں کے دل کے ترازو کا محبت کے مقابل خوف کا پلڑہ زیادہ جھکا دکھائی دیتا ہے _____ دوست اپنے دوستوں سے آنکھیں نہیں ملاتے کہ کہیں ہاتھ نہ ملانا پڑ جائے ___ صاحب ثروت لوگوں نے اس آزمائش و امتحان کے موسم میں بھی اپنی حویلی کی طرح اپنی جیبوں کے دروازے پر تالے لگا دئیے ہیں _____ غریب کیلئے یہ زمیں پہلے کیا چکی کا ایک پاٹ تھی کہ اب اس کا شکستہ سا جھونپڑا بھی اس کیلئے دوسرا پاٹ بن کر اس کو زندہ ہی پیسنے لگی ہے .

محترم زمیں زادو __ ¡¡ قاتل سے زیادہ قاتل کے خوف کا حصار توڑنا اتنا ہی ضروری ہوگیا ہے ____ جتنی احتیاط کی دیوار ضروری ہے مگر ایک ایسی دیوار ___ جس میں دعاء اور دواء کے روزن بھی بہت ضروری ہیں ۔

الحمدللہ ‛ بحثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اس عارضی دنیا کے بعد ایک ابدی دنیا بھی ہے ____ لافانی زندگی کی دنیا ‛ جبکہ اس زمیں کی عارضی دنیا میں بھی ___ ہمارا عقیدہ ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے صرف اور صرف اسی کی رضا و منشاء سے ہی ہوتا ہے ___ اگر ہم اپنے ایمان اور عقیدے میں کسی تشکیک اور ضعف کا شکار نہیں تو پھر پریشانی اور خوف کس بات کا ہے ؟

مجھ جیسے گنہ گار پر بھی زندگی میں جب بھی کوئی مشکل ایسی آن پڑی جس سے نکلنے کا کوئی راستہ ہزار کوششوں کے باوجود دکھائی نہ دیا تو سب کچھ اسی پر چھوڑ دینے کی دیر ہوئی اور یقین کیجئے ایک نہیں ___ کئی راستے نکل آئے _____ ¡¡¡¡

خوف درحقیقت پیدا ہی اس وقت ہوتا ہے جب آپ ___ گھر کی چھوٹی سی چاردیواری سے محلہ __ شہر _ اور پھر دنیا تک __ نعوذ باللہ چھوٹے سے بڑے خدا بننے کے خبط میں مبتلا ہوجاتے ہیں ____ جتنے بڑے خدا بننے کی خواہش اور کوشش ہوگی ____ اتنے ہی بڑے خوف کا عذاب آپ کا مقدر بنے گا ____ چھوٹے خدا کیلئے چھوٹا خوف _____ بڑے کیلئے بڑا خوف ____ ¡¡

اور پھر یہ بھی تو ایک اہم سوال ہے کہ جب ہمارا _ __ اپنا کچھ بھی نہیں ___ سب کچھ ہی اسی کا ہے تو پھر چھن جانے کا کیسا خوف ______؟ ایک مسلمان کیلئے اللہ تعالیٰ کا اس سے بڑا انعام بھی اور کیا ہوسکتا ہے کہ کسی وباء کی صورت میں اسکی واقع ہونیوالی موت ___ اس کیلئے شہادت کا رتبہ رکھتی ہے ___ اتنی زبردست آپشن اور بڑی خوشخبری کے بعد ____ خوف چہ معنی دارد؟

جان دی‛ دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا.

اس کی دی ہوئی زندگی کا حق ____ خوف کا ہر بت توڑ کر ادا کیجئے ____ مرنے سے پہلے موت کو گلے سے اتار پھینکیں ___ اور سب سے بڑھ کر اپنے اور اپنے خالق کے درمیان فاصلوں کو اگر ختم نہیں کرسکتے تو کم از کم انکو کم کرنیکی کوشش ضرور کیجئے ____ انشاءاللہ وہ ہمارے یعنی اپنی مخلوق کے درمیان اس وباء کی صورت میں پیدا ہونیوالے تمام فاصلے ختم کردیگا .

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com