سچی توبہ - عالیہ زاہد بھٹی

" اللہ کے دین کے کچھ اصول ہیں فرعون اک عرصے تک ظلم ڈھاتا رہا مگر اس کی رسی دراز رہی موسی علیہ السلام سے جب اللہ نے چاہا کام لیا ٹائم پیریڈ اللہ نے طے کیا،کس کا؟،کتنا؟،کب؟
یوسف علیہ السلام اک عرصے تک امتحان میں مبتلا رہے۔ایوب علیہ السلام کا صبر بھی عرصے پر محیط رہا۔قوم لوگ،عاد،ثمود،سب کو معلوم ہے ان کا انجام،
ابراہہ کے لشکر کا حشر،جب،جس کو اور جیسے،یہ ترتیب اللہ کے ہاتھ میں ہے،عذاب کو عذاب سمجھا جائے یہ اہم ہے۔یہ اہم نہیں کہ یہ بحث اختیار کی جائے کہ باعث عذاب کس کی ذات ہے۔

آپ دونوں درست کہہ رہے ہیں ۔وہ بھی جن کی رائے ہےکشمیر میں ظلم کے باعث ایسا ہوا میں اس میں اضافہ کروں تو نہ صرف کشمیربلکہ برما ، مصر،شام فلسطین،ہر وہ جگہ جہاں جہاں ظلم ہوا کہ بچوں نے رب کے پاس جاتے ہوئے ہمیں انتباہ کر دیا کہ"میں اپنے اللہ کو جاکر بتادوں گا"اور یہ بھی کہ جس کا خیال ہے کہ پوری انسانیت کے گناہوں کے باعث عذاب آیا۔
اس پر تو مجھے سب پہلے بہ حیثیت فرد اپنے گناہ لرزا رہے ہیں میں دوسروں کے بارے میں لب کشائی کے بجائے اپنے دامنِ داغدار کی طرف دیکھوں تو مجھے یقین ہے کہ میرا رب اتنا پیارا ہے کہ کہ میری ایک جان کر،مان کر،قبول کرلینے کے بعد بدلنے کے عہد والی توبہ پر میرے گناہ معاف کر دے گاضرورت اس وقت بحث کی نہیں،مان کر بدل جانے کا عہد کرنے کی ہےآئیں اور بدلنے کی کوشش کریں مودی اور ٹرمپ ہو یا اسرائیلی شیطان سب کو ہماری توبہ اللہ کے دربار سے سزا دلواکر رہے گی انشاء اللہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com