کراسنگ پوائنٹ - عالیہ چودھری

طاقت اور اختیار ایک حد تک ہی انسان کو دیا گیا ہے اور اس سے آگے کی اتھارٹی ساری خدا کے پاس ہے ۔دروازے علم کے کھول دیے گے مگر کن کے لیے ۔۔۔ ؟ غور کریں تو پتا چلے گا وہ جو اس کی کھوج میں نکل پڑے ۔

کوشش کرنے والے خالی دامن لوٹ سکتے ہیں مگر ہارے ہوئے لشکروں میں کبھی بھی ان کو کھڑا نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ایسے ہی سائنس خدا کی نشانیوں کے پیچھے لگ جائے تو راز بہت سے عیاں ہوتے ہیں مگر وہی علم پاتے ہیں جو جستجو کریں اور انسان جستجو کرنے کے لیے ہے کیونکہ قدرت تو ہر شے پہ خدا کو ہی ہے۔ کچھ بھی اس کی دسترس سے باہر نہیں ۔ اس نے انسان میں روح پھونک کر اسے سانسیں عطا کیں اور جب یہی انسان اپنا اصل بھول کے اپنی طاقت کے نشے میں مست رہتا ہے تو پھر اللہ بھی ان مظلوموں کی سنتا ضرور ہے جو اس انسان کے ظلم اور جبر کی نذر ہوئے ۔

کیا فلسطین کے مسلمانوں کا لہو بے رنگ تھا ۔۔۔ کیوں کشمیر کی مٹی سے زندہ لاشوں کی آہ سنائی نہ دے سکی ۔۔۔ کیسے شام کی گلیوں میں ملبے کے ڈھیر پہ بیٹھے یا کسی دیوار کے ساتھ چھپ کے ڈر کے مارے آنسو بہاتے وہ معصوم چہرے کسی کو نظر نہ آئے جو دنیا کو فریادی نظر سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔ قتل، بے انصافی اور جبر کیوں نہ کہیں رک سکا. ہم اتنے مردہ دل کیسے ہوگئے ؟چلیں حساب ان کا رہنے دیں جو ہمارے لیے ہیں ہی کافر، لیکن بات تو ساری ہے ہی ان کی جن کے جسم کے کسی حصے میں یہ سب دیکھ کر تکلیف نہیں ہوئی۔ پھر یہ بھی مان لیتے ہیں ہار یقینی تھی کوئی نہیں ماننے والا تھا۔لیکن سوال کے لیے سر اٹھایا کسی نے کب تھا ؟کیوں بھول گے ان کو جو تمہیں یاد کر رہے تھے؟ جب خاموشی میں ظلم پنپ رہا ہو تو سمجھتے کیوں نہیں کہ تمھارے لیے بھی طوفان تیار ہے ۔

اب دیکھو دوسروں کو حقیر سمجھنے والوں کو ان کی طاقت سے بھی کم شے نے مات دے دی ۔ہر طرف افراتفری ہے ، گھر بے گھر لگ رہیں ہیں ، سڑکیں بے رونق ہیں،وہ جو خود کو مقتدر اعلی سمجھتے ہیں کھیل ان کے بس سے باہر کا ہو چکا ۔سائنس بھی اپنے لیے کوئی راستہ نہیں تلاش کر پا رہی۔حکمران بے بس ہو چکے ہیں ۔ وجود ہیں جن کا دم گھٹ رہا ہے ۔اس پاک ذات کے گھر میں جانے کی توفیق ہم سے چھین لی گئی ہے ۔دو مہینے کے اندر دنیا ایسے بدلتی دکھائی دے گی کسی نےنہیں سوچا تھا ۔2020 اتنا بے رحم ہو گا کہ پوری دنیا کو سوگ میں رکھے گا یہ دعا تو کسی نے نہیں کی تھی ۔

معاملہ اختیار سے باہر کا ہے اور صرف اسی کے کن پہ اب سب منحصر ہے۔ لیکن ذرا دیکھیں ہم کیا کر رہیں ہیں۔ ہم زمانہ جہالیت کی ان قوموں کی طرح لگ رہے جو ہر چیز کا مزاق اڑاتے تھے چاہے وہ خدائی عذاب ہی کیوں نہ ہو ۔ہم اپنی وہ ساری خوبیاں کہاں گنوا آئے کہ جب کسی ایک کے گھر پریشانی ہوتی تھی تو دوسرے کے گھر کا در اس کی مدد کے لیے کھلا رہتا تھا ، وہ گھر بھی اتنا ہی اداس اور افسردہ رہتا تھا ۔ ایک ملک اس وبا کی زد میں آ گیا ہم نے اس کے لیے کتے ،بلیوں کے طعنے دینا شروع کر دیے ۔غرض حرام جیسے صرف وہاں پہ کھایا جاتا رہا ہو ،اور جیسے ہی اس نے اس زمین پہ قدم رکھے ہم نے کرونا یہاں نہ آنا پہ ہزاروں مزاحیہ پوسٹ بنا کر شیئر کیں۔جبکہ ساری دنیا میں لوگ مر رہے تھے ۔اور اب بھی جب اٹلی جیسا اجڑا ملک دہائیاں دے رہا کہ محتاط رہو، ہم باہر ایسے گھوم رہے جیسے یہ کچھ ہے ہی نہیں ۔

کیا ہے جو مکہ ،مدینہ کے در بند ہو گئے لیکن ہم نماز گھر نہیں پڑھیں گے کیونکہ ہم نے مسجد میں جا کر دوسروں کی جان مشکل میں ڈال کر جانتے بوجھتے اپنی نماز کا ثواب ضائع کرنا ہے ۔کیونکہ ہم نے مسجد کے منبر اور وہاں ادا کیے گئے سجدوں سے کچھ سیکھا ہی نہیں ۔اسلام مشکل اور آسانی میں کیا درس دیتا یہ پتا ہی نہیں، دین تو مکمل ہے پھر اس کو اپنی مرضی سے لینا چھوڑ کیوں نہیں دیتے ؟ ایک چیز کا جب واضع جواب موجود ہے تو پھر اپنی دکان کیوں چمکا رہے ہو ؟ اگر کسی کو لگتا کہ جب حکم کے موجود ہوتے ہوئے بھی وہ دوسروں کی زندگیوں سے ایسے کھیل سکتا تو وہ غلط ہے اس سے اس کی پوچھ ہو گی ۔ ہم نے یہاں جو بویا ہے آگے وہی کاٹنا ہے۔ نیکی کی ہے تو نیکی آگے آئے گی ،اور برا کیا وہی ہمارے پاس پلٹے گا ۔

جو علماءکرام فہم وفراست سے کام لیتے ہوئے اللہ اور نبی صلي الله عليه وآله وسلم کا فرمان ان حالات کے تناظر میں ہم تک پہنچا رہے ہیں خدا کے لیے ان کو سنیں ، ان کی باتوں پہ عمل کریں ۔جہاں یہ وائرس ساری دنیا کو جکڑے ہوئے ہے وہاں اور بھی عجیب قسم کے لوگ ہمارے ہاں ہی موجود ہیں جو سائنس کے پیچھے اسلام اور مسلمانوں کا مزاق اڑا رہے ۔ وہ بھول رہے کہ بہت سے مسلمان بھی اس وقت اس فیلڈ میں اپنا کام کر رہے ہیں ہاں آپ خود مسلمان ہو کر بھی اس جستجو کی راہ پہ نہیں نکلے تو پھر بیٹھ کر خود کو کوس لیں،بجائے دین کا مزاق اڑانے کے ۔

اور پھر آتے ہیں وہ لوگ جن کے نزدیک ہمیں آج میزائل اور ٹینکوں کو چبا کے کھا لینا چاہیے کیونکہ یہی تو ہماری بس ایجاد ہے ۔تو ان لوگوں کے لیے کہ جن ممالک کے وہ گن گاتے وہاں کا دفاعی بجٹ دیکھ لیں اور ہر وقت پہ مختلف ہتیھاروں کی ضرورت پڑتی ہے ،خدانخواستہ اگر ملکی سلامتی پہ بات آئی تو یہی آپ کے کام آئیں گے اور انہی کی وجہ سے آپ کا ملک محفوظ ہے ۔ خدا کے لیے حالات کی جو ضرورت اس پہ بات کریں۔کراسنگ پوائنٹ پہ یہاں لوگوں کو ہمیں بہت کچھ سکھانا ہے۔ اس وقت سب کو یکجا رہ کر اس وائرس کے خلاف آگاہی دینی ۔ایک وبا ہے جس نے دنیا کو ہلا کے رکھ دیا ہمیں اس وقت اپنی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے احکامات پہ عمل کرنا ہے ۔لوگوں کو ہم اپنے اپنے طور پر آگاہی دیں ، میڈیا افراتفری نہ پیدا کرے۔

لوگوں کو آسان زبان میں سمجھایا جائےکہ وہ کیسے خود کو محفوظ رکھ سکتے۔ اور کیسے دوسرے ممالک کی غلطیوں کو ہم نہ دہرا کر ان سے سیکھ سکتے ہیں ۔ محتاط رہ کر زندگی بچ سکتی تو اتنی اختیاط ہی کر لیں ۔ یہاں سب سے اہم ذمہ داری میڈیا کی بھی ہے جب آفات یا مشکلات آتی ہیں تو اس ملک کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا عوام اور حکومت کو باہمی طور پر مظبوط کرتا ہے اور یہی صحافتی اقدار ہیں ۔لیکن ہمارے ہاں اس وقت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی نسبت سوشل میڈیا ذیادہ معاون اور مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ جو آگاہی ٹی وی پروگرام دے سکتے تھے وہ سوشل میڈیا پہ لوگ رضاکارانہ طور پر عوام کو متحد کر رہے۔

صرف گنے چنے ہی کچھ صحافی ہیں جو شروع دن سے کرونا وائرس کے اوپر عوام کو سہی سے آگاہ رکھ رہے ہیں۔ باقی تو اپنی جانبداری اور بغض کی ریٹنگ کے چکر میں خود کو سیٹ کیے جا رہے ۔ کوئی ادارہ کوئی تنظیم اگر انسانی جانوں کو بچانے میں آگے آ رہی ہے تو ان کی حوصلہ افزائی کریں ۔ان کی جتنا ہو سکے اپنی استطاعت کے مطابق مدد کریں ۔ اس وقت ہماری مدد محدود نہیں ہونی چاہیے، یہاں صرف ہماری قوم یا قبیلے اور فرقے کی بات نہیں ، یہاں انسانیت مر رہی ہے ۔ اس کا دم گھٹ رہا ہے ۔ اس کو خوف سے آزاد کریں۔ لاک ڈاون واحد آپشن ہے ،خود کو پابند کرلیں۔

یہ وبا مرض سے پہلے شعور کی جنگ ہے ۔افواہ سازی پر دھیان نہ دیں ۔کوئی لہسن ، پیاز کا ٹوٹکہ کرونا وائرس کا علاج نہیں ۔اور نہ ہی ان لوگوں کے پاس بھاگتے ہوئے جائیں جنہوں نے اپنی طرف سے کوئی دوائی کرونا کے علاج کی دریافت کرکے اس کا پوسٹر باہر لگایا ہوا ۔اور نہ ہی ایسا جعلی مواد دوسروں کے ساتھ شیئر کریں ۔صرف ڈبلیو ۔ ایچ۔ او کی مستند رپورٹس پر ہی انحصار کریں اور جو ہدایت نامہ وہاں سے جاری کیا جا رہا اس پر عمل کریں ۔ کچھ وقت کے لیے خود کو پابند کر کے ہم بہت سے انسانوں کو کھونے سے بچ جائیں گئے۔

اللہ سبحان وتعالی ہمیں اس مشکل وقت سے نکالے ۔ہم سے یہ بوجھ نہیں اٹھایا جا سکتا وہ پاک ذات ہمارے گناہوں کو معاف کرے اور ایسا راستہ ہمیں دکھائے جہاں یہ آزمائش ختم ہو سکے ۔ایک دعا یہ بھی ہے کہ انسانوں کے مرنے سے بہت پہلے خدا ہمارے اندر انسانیت کو زندہ رکھے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */