یورپ کورونا کی زد میں - حافظ نعیم

چین سے شروع ہونے والا کورونا وائرس بے قابو جن کی طرح پوری دنیا میں پھیل چکا ہے،جہاں جہاں اس نے ڈیرے ڈالے ہیں وہاں خوف و دھشت کا سما ہے،لوگ لاک ڈائون کے باعث گھروں تک محدود ہیں۔

اب تک پوری دنیا میں 43 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں،پوری دنیا پہ اگر سرسری نگاہ ڈالی جائے،تو ایشیا کی بنسبت یورپ زیادہ متاثر نظر آتا ہے،وہاں ہر آئے روز ہزاروں کی تعداد میں کیس رپورٹ ہو رہے ہیں،کورونا نے یورپی ممالک میں سے سب سے پہلے اٹلی کو اپنا ہدف بنایا،جہاں موجودہ اعداد و شمار کے مطابق کورونا سے متاثر افراد کی تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی ہے،اور ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 12 ہزار سے بھی زائد ہے،اسپین میں ہزاروں افراد اس وبا سے متاثر ہوچکے ہیں،جہاں موت سے شکست خوردہ افراد کی تعداد 9 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے،اب تو برطانیہ سے معاملات نہیں سنبھالے جا رہے ہیں،کورونا نے چین،اٹلی کے بعد اب اپنا نیا مسکن امریکا کو بنالیا ہے۔

جہاں ہر آئے روز ہزاروں کیس رپورٹ ہو رہے ہیں،اب تک صرف امریکا میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 76 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے،جبکہ دنیا کے سپر پاور ،ٹیکنالوجی میں اپنا کوئی شریک نہ رکھنے والے امریکا کو آج وینٹیلیٹرز کے سخت بحران کا سامنا ہے۔امریکا اس وقت کورونا میں مبتلا افراد کی تعداد کے اعتبار سے سرفہرست ہے،اور کورونا وائرس کا مرکز شمار ہوتا ہے،امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے بحران کی وجہ سے بے روزگاری میں بھی وحشتناک رفتار سے اضافہ ہو رہاہے،امریکا کہ مرکزی بینک کے اعلان کے مطابق رواں سال کی دوسری سہ ماہی کی اختتام تک اس ملک میں چار کروڑ ستر لاکھ افراد متاثر ہوچکے ہونگے۔

خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ اعتراف کر چکے ہیںکہ ''کورونا ہمارے اندازے سے کئی گنا آگے نکلا'' کسی سپر پاور ملک کے صدر کا یوں اعتراف کرنا کہ وبا ہم سے بہت تیز ہے ،تو اس ملک کو کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہوگا،اس بیان سے ہر کوئی اندازہ لگا سکتا ہے،آج یورپ میںمالیاتی اور تجارتی اداروں کو مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے،اور ا ن کاروباری کمپنیوں نے مالی رکاوٹوں کو عبور کرنے کے لئے بینکوں کا سہارا لینا شروع کردیا ہے،جرمنی میں بینکوں کی جانب عمومی طور پر انتہائی کم شرح ورنہ پھر بغیر بھاری سود کے قرضے فراہم کئے جاتے تھے۔

لیکن کورونا وائرس کے بعد کاروباری اداروں اور تجارتی کمپنیوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے،اور یہ مشکلات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں،ایک رپورٹ کے مطابق مالی مشکلات سے دوچار کمپنیاںبحران کی اس گھڑی میں بینکوں کی جانب دیکھ رہی ہیں،بینکوں نے بھی کمپنیوں کو مشکلات کافائدا اٹھاتے ایک فیصد سالانہ شرح پر قرضہ دینا شروع کیا ہے،دوسری طرف موجودہ حالات پہ اگر غور کیا جائے تو افراتفری کے اس عالم میں باہمی عدم تعاون کے باعث یورپی اتحاد بھی کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔

اٹلی کے وزیر اعظم جوسیپی کونٹے پہلے ہی یورپی یونین کے رکن ممالک پر زور دے چکے ہیں کہ کورونا وائرس کے جنگ میں اگر سنگین غلطیاں کی گئیں تو یورپی یونین کا اتحاد خطرے سے دوچار ہوسکتا ہے،ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین اگر اس خطرے سے نمٹنے میں فعال کردار ادا کرنے میں ناکام رہی تو یہ ان کی آنے والی نسلوں کے لئے معاشی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔جبکہ برطانوی حکام پہلے ہی انتباہ کر چکے ہیں کہ موجودہ حالات ٹھیک ہونے میں 6 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے،اور لاک ڈائون جون تک جاری رکھا جا سکتا ہے۔

لہٰذا یورپ کہ موجودہ حالات اور حکمرانوں کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کے حالات کتنے سنگین ہیں،دنیا کے اندر ہونے والی اموات میں سے 80 سے 90 فیصد کا تعلق یورپ سے ہے،اس وقت یورپ کے پاس ایشیا کی طرح اقدامات کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے،آج قدرتی عتاب کی شکار عالمی قوتیں اپنے شہریوں کو لاک ڈائون کے ذریعے گھروں میں محصور کرنے پر مجبور ہیں۔

آہ۔۔۔۔!

آج عالمی قوتیں بھارتی ظلم کے ستائے کشمیر کے لاک اور کرفیو کا بہتر اندازہ لگا سکتی ہیں،آج دنیا کی ٹیکنالوجی کائنات کے مدبر کل کی ان دیکھی ادنیٰ مخلوق کے سامنے بے حسی کا شکار ہے،لہٰذا وقت آن پڑا ہے کہ انسانیت خدا کی طرف پلٹے،اللہ تعالیٰ ہم سب اس وبا امان میں رکھے (آمین)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com