چند لمحے - طاہرہ ثمرہ خان

"ثمرین بیٹا کب سے فون بج رہا ہے.دیکھیں کس کی کال ہے۔"جی بابا میں دیکھتی ہوں۔"اسلام ُ علیکم۔" جی کون۔۔۔"دوسری طرف سے کہی جانے والی بات سن کر ثمرین کے ہاتھ سے فون چھوٹ پڑا۔

"کیا ہوا بیٹا۔۔۔۔""وہ بابا آپی۔۔۔۔۔۔۔""کیا ہوا ثمین کو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟""آپی کی دوست کہہ رہی ہیں وہ آج کالج نہیں پہنچیں۔""مگر ثمین تو کالج گئی ہے ۔اگر وہ کالج نہیں گئی تو پھر کہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟نہیں میری بیٹی میرا مان ہے وہ کچھ غلط نہیں کر سکتی۔وہ میرا سر نہیں جھکا سکتی۔"

'بابا آپ پریشان نہ ہوں وہ کالج میں ہی ہوں گی ۔کیا پتہ انھوں نے مذاق کیا ہو میرے ساتھ ۔میں آپی کو فون کرتی ہوں۔"موبائل کان سے لگائے وہ دوسری طرف جاتی گھنٹی کی آواز سن رہی تھی لیکن کال ریسیو نہیں کی ثمین نے ۔"بابا آپی فون نہیں اٹھا رہی ہیں۔"بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے آپ کو ۔۔۔۔۔؟"

عارف صاحب دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے زمین پر جھک گئے۔بھائی۔۔۔۔۔ بھائی ثمرین نے چیخ کر بھائی کو بلایا۔"کیا ہوا ثمرین ۔۔۔۔۔۔؟" علی بھائی بابا کو دیکھیں۔"
"بابا کیا ہوا آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔؟" ثمرین پانی لاؤ جلدی۔""ابھی لائی ۔۔۔۔۔۔۔۔""بابا کیا ٹینشن ہو گئی ہے آپ کو۔۔۔۔۔۔؟""وہ ثمین"۔۔۔۔۔ "کیا ہوا اس کو وہ کالج گئی ہے۔""وہ نہیں گئی کالج۔۔۔۔۔۔" آپ کو کس نے کہا ۔۔۔۔؟"اس کی سہیلی کا فون آیا یے۔""مگر میری بات ہوئی ہے گھنٹہ پہلےاس کے ساتھ وہ کلاس میں جا رہی تھی۔ "بھائی اب آپی کا فون نہیں مل رہا۔""وہ کلاس میں ہو گی آپ پریشان نہ ہوں چلیں میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس نہیں میں ٹھیک ہوں بس ثمین سے بات کروا دو میری۔"میں کرواتا ہوں آپ کی بات بس تھوڑا انتظار کریں وہ کلاس سے فارغ ہو کر کال کر لے گی۔"

تھکا دیا آج کے لیکچر نے تو نوٹس لکھ لکھ کر میری انگلیاں دکھ گئی ہیں ۔"ہاں یار غلطی سے آج میں بھی سر کی کلاس میں آ گئی اور اب ہاتھوں میں درد ہو رہاہے۔"جویریہ تم کبھی سنجیدہ بھی ہو جایا کرو پڑھائی کو مذاق بنایا ہوا تم نے ثمین نے اپنی دوست کو لتاڑا اور ساتھ ہی موبائل کے لئے بیگ میں ہاتھ ڈالا۔اس کی دوستیں کن آکھیوں سے اس کی کاروائی دیکھ رہی تھیں۔ثمرین کی اتنی کالیں۔۔۔۔۔۔ الہیٰ خیر ۔۔۔۔۔وہ فون ملا کر پریشانی سے گھنٹی کی آواز سن رہی تھی۔جیسے ہی فون ریسیو ہوا وہ بیتابی سے بولنے لگی۔"ہاں ثمرین خیریت اتنی کالز کیں تم نے ۔۔۔۔۔؟"

"جی آپی ۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے،آپ کہاں ہیں۔۔۔۔۔۔؟"میں کالج میں ہوں اور کلاس لے رہی تھی اس لئے فون نہیں اٹھا سکی۔""وہ آ پی ۔۔۔"ہاں بولو ۔۔۔۔۔ آپ جلدی سے گھر آ جائیں بابا پریشان ہیں آپ کے لئے۔مگر ہوا کیا ہے۔۔۔۔؟""جویریہ باجی کی کال آئی تھی کہ آپ کالج نہیں آئیں اور بابا میرے پاس تھے وہ یہ بات سن کر پریشان ہو گئے اور پھر ان کی طبیعت خراب ہو گئی ،علی بھائی نہ ہوتے تو پتہ نہیں کیا ہوتا ۔"تم بابا کو بتاؤ میں ٹھیک ہوں اور گھر آ رہی ہوں۔"وہ کتابیں سمیٹتے ہوئے اٹھ گئی۔"ثمین کیا ہوا کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔۔۔؟

گھر جا رہی ہوں میرے بابا کی طبیعت خراب ہے۔"کیا ہوا ان کو۔۔۔۔؟جویریہ نے سوال کیا۔"جویریہ بی بی جس سوال کے جواب کا علم ہو تو پھر خاموشی بہتر ہوتی ہے۔"مگر ہم۔بولو اب سر کو مت جھکاؤ۔"تم لوگ بتاؤ مجھے کیا ایسا مذاق زیب دیتا ہے تم لوگوں کو اگر میرے بابا کو کچھ ہو جاتا تو۔۔۔۔۔۔۔؟ہم نے تو بس ثمرین سے مذاق کیا آج یکم اپریل ہے تو ۔"تو۔۔۔۔۔۔۔؟تو کیا بتاؤ۔۔۔۔۔؟"کیا ہمارے مذہب میں ہے جھوٹ بولنے کا حکم۔۔۔۔؟"اس دن کی کیا حیثیت ہے ہمارے دین میں۔۔۔۔۔۔؟"کوئی جواب دو تم لوگ ۔۔۔۔۔۔۔۔؟"نہیں ہے نا کوئی جواب ۔۔۔۔۔۔؟" اللّہ تعالیٰ نے جھوٹ بولنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ ہمارے اسلام میں اس چیز کی سختی سے ممانعت ہے ۔"سوچنا میری بات کو کچھ لمحوں کے لئے۔"

یہ چند پل جو آپ کے لئے ہنسی مذاق کا سبب ہوتے ہیں یہ کسی کی حیات کے لئے عذاب بن جاتے ہیں۔کسی کی ہنستی بستی ذندگی کو اجاڑ دیتے ہیں اور کسی کو موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔بس یہ چند لمحے۔"

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com