رسوائی - غازی عرفان خان

ارے،ارے،ارے، کہاں جا رہے ہو تمہیں پتا نہیں باہر پولیس ہے اور گھر کے باہر نکلنا منع ہے اگر پولیس نے دیکھا تو مار مار کر ہڈیاں توڑ ڈالے گی۔ایک تو غریبی نے ہمارا چین و سکون چھین لیا ہے اور بھوک سے مر رہے ہیں اور اب یہ آفت برداشت سے باہر۔گھر میں ہی بیٹھو۔شرافت بہن نے اپنے بیٹے عامر سے کہا۔

عامر اداس ہو کر کمرے میں داخل ہوا اور اپنا سرپکڑکررونے لگا اور اپنی قسمت کو کوستا رہا۔کچھ دیر بعد! مجھے کھانا دو بہت بھوک لگی ہے۔عامر نے اپنی ماں سے کہا۔
کہاں سے لاؤں گی میں کھانا تیرے ابو تو پچھلے دس دنوں سے گھر پر ہی ہے۔جو کچھ بھی تھا وہ سب انہی دس دنوں میں ختم ہوا ہے۔ اللہ ہمارےحال پہ رحم کرے ۔۔شرافت بہن نے اپنے بیٹے سے کہا۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے عامر کے ابو کام پر نہ جاسکے اور گھر میں جتنا بھی راشن تھا وہ ختم ہوچکا تھا۔ اس رات بھی وہ بھوکے ہی سوگئے۔ اگلی صبح تین چار بندے ان کے گھر آئے اور انہیں کھانے پینےکا سامان فراہم کیا۔عامر بہت خوش ہوا، انہوں نے عامر کے ابو کو چاول، آٹا، نمک، تیل، چاۓ، کھانڈ وغیرہ فراہم کیا اور فوٹو شوٹ کر چلے گیے۔ شرافت بہن نے یہ سب چیزیں اندر لیں اور سب سے پہلے اپنے شوہر اور عامر کے لیے کھانا تیار کیا کیونکہ وہ پچھلے دو دنوں سے بھوکے تھے۔اس دن انہوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اللہ کا شکر ادا کیا اور ان لوگوں کو دعائیں بھی دیں۔

ان کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں تھے۔مگر اگلی صبح ان کی یہ خوشی پھر غم میں تبدیل ہوئی، چاول، آٹا، نمک، تیل، چاۓ، کھانڈ وغیرہ سامان کے ساتھ اپنی تصویر اور ان لوگوں کی تصویر اخبار میں دیکھ کر اندر ہی اندر ان کا دم گھٹنے لگا۔اور یہ کہہ کر اللّٰہ کے حضور ہاتھ جوڑکرکہنے لگے؛اے اللہ تمہاری دی ہوئی غریبی منظور تھی اب یہ ذلت اور رسوائی کیسے برداشت کریں؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com