بلی زندہ تھی - لطیف النساء

صبح ہی صبح سات چالیس پر اسے گھر سے آفس کے لئے نکلنا تھا ۔ دس منٹ کی واک پر گاڑی سے اسٹیشن اور پھر اسٹیشن سے ٹرین 8بجے کی پکڑنی تھی ۔ سردی کے دن تھے درمیانی سردی تھی ۔ مجھے آج بھی سوچ کر خوشی ہوتی ہے ۔ زاہد آفس کے لئے نکلے چائے اور جوس کو بھی منع کردیا کہ آفس جا کر ناشتہ کر لونگا آپ پریشان نہ ہوں زرینہ شوہر کے لنچ باکس سے فارغ ہو کر بچوں کے لنچ باکسز تیار کر رہی تھی اور میں بچوں کی تیاری میں مدد دے رہی تھی اور تیزی تیزی سے سب کام کر رہے تھے جسے کہ صبح میں اکثر کام منٹوں میں کرنے ہوتے ہیں کہ کچھ رہ نہ جائے اور سب اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں.

ابھی میں دروازہ بند کر کے اندر ہی آئی تھی کہ زاہد نے پانچ ہی منٹ بعد واپس آکر بیل بجائی ، چہرہ کافی پریشان اور بے بس سا تھا ، بے چین تھا ۔ میں نے کھڑکی سے ہی دیکھ لیا تھا ۔ دروازہ کھولتے ہی پوچھا کیا ہوا ؟ گاڑی تو ٹھیک ہے ۔ اس نے کہا جی امی لیکن گاڑی کے پیچھے پہیے کے پاس ایک بلی ہے جس کا پورا منہ ٹین کے چھوٹے سے کھانے کے ڈبے میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔ وہ سانس بھی لے رہی ہے تھوڑا تھوڑا کیونکہ اس کا جسم پھولتا سکڑتا محسوس ہورہا ہے ۔ میں کیا کروں وہ زندہ ہے یا ؟ میں نے کہا کہ فوراً وائیلڈ لائف ریسکیو والے کو فون کرو میں ابھی چل کر دیکھتی ہوں ۔ جب میں باہر دوڑتی ہوئی پہنچی تو زاہد وائیلڈ لائف ریسکیو پرسن کو فون ملا تے میرے ساتھ ہی باہر آگئے ساتھ ہی دونوں بچے اور ذرینہ بھی باہر آگئی بلی کیلئے ۔ میں نے دیکھا تو بلی کا منہ پورا کا پورا غائب تھا صرف دھڑ خا صا بڑا، اچھی گرے سے کلر کی بلی تھی۔ میں نے چھوا ہی نہیں بلکہ اس کو فوراً ہاتھوں سے پکڑ کر ٹین کے ڈبے کا جائزہ لیا ۔ بلی گرم تھی مگر بے حس و حرکت ٹانگیں وغیرہ تھوڑی ٹھنڈی تھیں میں تو بے چین ہو گئی سوچا اگر زیادہ زور لگائونگی تو کہیں اس کی آنکھیں وغیرہ زخمی نہ ہوجائیں ۔ تیز دھار ٹین کے کناروں سے لیکن فوراً ہی خیال آیا زخمی ہی ہوگی نا مرے گی تو نہیں ۔ پھر فوراً میں نے اپنی گرفت بلی اور ڈبے پر ٹا ئٹ کی جیسے چوڑی پھنسی ہوئی نکالتے ہیں ۔

اس طرح پہلے اس کے کانوں کا حصہ نوٹ کیا اور کا ن کو آہستہ آہستہ دبا دبا کر باہر نکالنا شروع کیا او ردونوں کان بیک وقت تھوڑا ایک تھوڑا دوسرا وہ بے چین ہو گئی اور ایک دم ہاتھ سے بری طرح نکل کر ڈبے سمیت لوٹنے لگی ۔ اتنے میں مجھے آواز آئی کہ امی ! ریسکیو ٹیم کے ممبر نے کہا ہے کہ ہم 5منٹ میں آتے ہیں بس ذرا خیال رکھیں کہیں گھس نہ جائے ۔ زاہد نے جواب دیا میری ماما کوشش کر رہی ہیں ۔ میں نے فوراً ہی اسے ایک پیارے بچے کی طرح زبردستی پکڑا اور اپنی پوری کوشش سے دوبارہ دونوں کانوں اور سر کو ڈبے سے نکالنے کی بھرپور کوشش کی جیسے ہی اس کے آدھے پونے کان با ہر آئے اس کو کچھ گنجائش ملی اور اس نے خود بھی پورا زور لگایا جو پہلے بڑے تعاون سے مجھے میرا کام کرنے دیتی رہی ۔ پھر خود زور لگا کر ڈبے سے منہ نکالا اور ایک دم تیزی سے ایک طرف دو طرف کئی طرف گرتی گراتی ، چکراتی ٹکراتی ، ادھر ادھر کرکے تیزی سے بھاگ گئی اور سامنے درختوں میں گھس گئی اسی لمحے زاہد کی آواز آئی تھینک یو سر! پرابلم حل ہو گیا بلی زندہ تھی بھاگ نکلی اب آپ کو آنے کی ضرورت نہیں۔ فوراً سب نے اللہ کا شکر کیا ۔ بچے اور ذرینہ بھی بلی کو دور تک جاتا دیکھ کر خوش ہوئے اور زاہد کا تو رنگ ہی بدل گیا۔ خوشی سے اتنا مطمئین ہوا ۔ گویا اس کا چبا کانٹا بھی نکل گیا ہو ! اور میرے تو تن بدن میں خوشی کی ایسی لہر دوڑی کہ کیا بتا ئوں ؟

مجھے تو کافی دیر تک اس کے جسم کی گرمی اور سانس لینے کی حرکت محسوس ہوتی رہی مگر دل اتنا شاد ہوا کہ بیان کرنا مشکل ہے۔ میں یہ سوچتی رہی کہ بیچاری نہ جانے کتنی بھوکی تھی اور کب سے اس طرح ڈبے میں منہ پھنسائے بے حس و حرکت تکلیف میں تھی۔ سانس کیسے لیتی ہوگی ؟ چلا بھی نہیں سکتی تھی لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ۔ وقت اتنی تیزی سے گزر گیا کہ ٹرین کیلئے صرف سات منٹ رہ گئے میں نے زرینہ سے کہا آپ اسے اسٹیشن چھوڑ آئو میں بچوں کو تیار رکھتی ہوں ۔
ایک دن پہلے ہی زاہد نے کسی ضروری کام کی وجہ سے چھٹی کی تھی مزید آج لیٹ جانا بھی مشکل تھا ۔ ٹرین کے قریب ترین جگہ پر زرینہ اسے چھوڑ آئی ۔ اس برح زاہد کی ٹرین بھی مس نہ ہوئی اور واپسی تک بچے تیار تھے جو پہلے ہی تھوڑا بہت تیار ہوچکے تھے ، بیگ لیکر باہر ہی تھے تو اس طرح زرینہ بچوں کو بھی اسکول ڈراپ کر آئی ۔ چھوٹی بے بی گھر پر تھی میں خوش تھی کہ قدرت نے مجھ سے یہ کام لے لیا ۔ گھر میں بہو اور بچے بلی سے بہت زیادہ ڈرتے تھے ۔ مجھے اس طرح بلی کے ساتھ کشتی دیکھ کر بہت ہی زیادہ حیران بھی تھے اور خوش بھی ۔ ساتھ ہی زاہد نے مجھے ویلڈن کا اشارہ کیا تھا تو پورا سین میرے لئے باعث مسرت اور باعث سکون تھا ۔ اس طرح بلی کو زندہ پا کر ہم سب خوش ہوئے جبکہ زاہد کا خیال تھا کہ امی وہ شاید ہی بچ پائے کیونکہ اس کا جسم کچھ ٹھنڈا لگ رہا تھا اور وہ حرکت بھی نہیں کر رہی تھی لیکن میں نے پیٹ کی حرکت اور تھوڑی گرمی سے پورا اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ زندہ ہے اور بچ سکتی ہے ۔

اس لئے لمحہ ضائع کئے بغیر میں نے اسکو نکالنے کی پوری کوشش کی اور اللہ نے کامیا بی عطا کی۔ کافی دیر تک میں اور ذرینہ اس موضوع پر بات کرتے رہے ۔ شام کو زاہد اور بچوں نے کھانے کے ٹیبل پر پھر اسی قصے کو بڑی خوشی سے دہرایا تو میری خوشی اور دوبالا ہو گئی ۔ جب ہی میں نے سب کو سمجھا یا کہ بیٹا زندگی میں اگر کبھی ایسے موقع آئیں تو کبھی نہیں ڈرنا چاہئے بلکہ اللہ کا نام لیکر اپنے سے پوری کوشش کرنی چاہئے کیونکہ آپ نے سنا ہی ہوگا کہ "ہمت مرداں مدد خدا" مطلب جو ہمت کرتا ہے اللہ اس کی ضرور مدد کرتا ہے لہٰذا ہمیں ہر حال میں ہر جگہ ہر وقت مشکل میں پھنسے لوگوں کی بروقت اور فوری مدد کرنا چاہئے یہی تو انسانیت ہے ۔ یہ حسین جانور تو اللہ نے ہمارے ہی لئے بنائے ہیں اور ہمیں انسان بنا کر ان پر فوقیت دی انہیں کبھی تنگ نہیں کرنا چاہئے ۔ انکی بھی دعا لینا چاہئے ۔ آج اس واقعے کو دو سال ہو گئے ہیں مگر جب بھی میں اسے سوچتی ہوں مجھے یقین مانیں دوبارہ خوشی ہوتی ہے یہ اللہ ہی کی ذات ہے۔ جو ہم سے یہ کام کروا لیتی ہے جس پر ہمیں اس کا ہی شکر گزار ہونا چاہئے ۔ اترانا نہیں چاہئے سا تھ ہی مجھے ایک محاورہ سمجھ آگیا کہ "ایک حسین نظارہ ہمیشہ مزہ دیتا ہے " بالکل صحیح ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com