وبا کے دنوں میں امریکہ سے ایک خط -عامر گمریانی

کونٹیکٹ (سی۔ او۔ این۔ ٹی۔ اے۔ سی۔ ٹی) یعنی کنفلیکٹ ٹرانسفارمیشن اکراس کلچرز سکول آف انٹرنیشنل ٹریننگ ورمونٹ کا سالانہ ٹریننگ پروگرام ہے۔ اس میں ہر سال دنیا کے مختلف خطوں سے پچاس کے قریب ایسے لوگ بلائے جاتے ہیں جو اپنے معاشروں میں امن کے لئے کام کرتے ہیں۔

ڈاکٹر پالا گرین جن کی عمر اسی سال سے اوپر ہے اس پروگرام کی بانی ہیں۔ ڈاکٹر پالا امریکہ اور امریکہ سے باہر تنازعات کے پر امن حل کے لئے عرصہ دراز سے کوشاں ہیں۔دنیا کے تقریبا ہر ملک میں ڈاکٹر پالا کے پروگرامز سے مستفید ہونے والے افراد اپنے ملکوں میں گراں قدر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ دو ہزار تیرہ میں، میں نے کونٹیکٹ پروگرام میں سکالرشپ پر پاکستان کی نمایندگی کی اور ڈاکٹر پالا سمیت دنیا کے جانے مانے ٹرینرز سے امن اور عدم تشدد کی تعلیم حاصل کی۔ موجودہ عالمی وبا کے تناظر میں ڈاکٹر پالا نے کونٹیکٹ سے فارغ التحصیل افراد کو ایک معرکتہ الآرا خط لکھا۔ اس خط کا ٹوٹا پھوٹا ترجمہ پیش خدمت ہے۔

عزیز کونٹیکٹ فیملی، ۔

کافی عرصہ گزر چکا جب ہم نے مکمل کونٹیکٹ پروگرام کا رابطہ کیا۔ دنیا کی تاریخ کا یہ لمحہ جس میں ہم سب کو ایک عالمی وبا کا سامنا ہے، ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ استوار کرنے، تجدید عہد اور گہرے غور و حوض کا وقت ہے۔ہر سال ہم ایک عالمی گروپ بناتے ہیں جو ایک دوسرے کی محبت اور حمایت میں ایک دوسرے کے بہن بھائی ہیں۔ ہم نے سیکھا ہے کہ ہم اپنی حیرت انگیز تنوع میں بہت سارےاور ایک دوسرے کا خیال اور تعلق رکھنے میں ایک ہیں۔ ہم نے دریافت کیا ہے کہ ہم مکمل طور پر ایک دوسرے پر منحصر ہیں اور ہماری حفاظت اور خوشحالی ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں، ان حقائق کا آج ہمیں جس طرح تجربہ ہو رہا ہے، پہلے کبھی اتنے واضح طور پر نہیں ہوا تھا۔

آج پوری دنیا وہ سب کچھ سیکھ رہی ہے جو ہم نے کونٹیکٹ میں ساتھ گزارے ایام میں دریافت کیا تھا۔ سرحدیں اور حدود ہمیں محفوظ نہیں رکھتیں۔ مناصب اور استحقاق ہمیں نقصان سے نہیں بچا سکتے۔ کوئی بھی ملک یا گاؤں بہت زیادہ دور نہیں ہے۔ اس وائرس کی نظر میں ہم سب کمزور ہیں۔ اپنے معاشروں کے لیڈرز کی حیثیت سے، امن اور انصاف کے علمبرداروں کی حیثیت سے، باشعور عالمی شہریوں کی حیثیت سے، آج ہم سے کیا تقاضا ہو رہا ہے؟ کس طرح ہم میں سے ہر ایک اس عالمگیر وبا کو ہم آہنگی، مہربانی، معاشی اور سیاسی انصاف اور سماج کے زخم بھرنے کے ایک موقع کے طور پر بروئے کار لا سکتا ہے؟

میں سوچتی ہوں کہ ہمیں اکٹھے پکارا گیا ہے کہ ہم بہ آوازِ بلند اپنی باہم انحصاریت کا دعویٰ کریں، اور اس فریب سے کہ ہم الگ اور جدا ہیں، باہر نکل آئیں۔ یہ وقت ہے ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا، یہ یاد کرنے کا کہ شفقت ہماری قوت مدافعت بڑھاتی ہے، یہ کہ ہماری انسانی ضروریات آفاقی ہیں اور یہ کہ ہماری سخاوت ایک ایسا تحفہ ہے جو کہ ایک لہر کی طرح چلتی ہے اور واپس دینے والے کے پاس آجاتی ہے۔ کونٹیکٹ میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہے، ایک دوسرے کے لئے میسر رہے اور ایک دوسرے کے لئے میسر رہ کر ہم نے اپنی مشترک انسانیت اور سماجی یکجہتی کو محسوس کیا۔

یہی وہ چیز ہے جو ہمیں دنیا کو دینی پڑے گی، دنیا آج شاید سننے کے لئے تیار ہے کیونکہ وائرس کو کسی پاسپورٹ کی حاجت نہیں ہے اور یہ ہر جگہ کو تاراج کر سکتا ہے۔ ہمیں منادی دی گئی ہے کہ خیال رکھنے اور لوگوں کو ساتھ ملانے کے اپنے دائرے کو وسعت دیں، کسی کو باہر نہ چھوڑیں اور ہر ایک کو گلے لگائیں۔ ہمیں خصوصی طور پر پکارا گیا ہے کہ اپنے ان کروڑوں لوگوں کی خدمت کریں جو کہ کمزور ہیں، جو بدترین معاشی سختی، سیاسی جبر اور صحت کی تکالیف جھیل رہے ہیں۔یہ زمین کے لئے وقت ہے کہ آلودگی اور زہریلے مادوں سے سہمی زمین سانس لے، اپنے زخموں کو بھر دے۔ شاید آہستگی کے اس وقت میں ہم انسان بھی اپنی بازیافت کا آغاز کریں اسی طرح جس طرح ہمارے گرد مٹی، پانی اور ہوا زہریلے مادوں سے اپنے آپ کو واگزار کر رہی ہے۔

یہ وہ موقع ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے اقدار اور روئیوں کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایسے معاشرے دوبارہ تخلیق کریں جن میں ایثار اور امن نمایاں ہوں۔ بہت سارے لوگ اس وقت دریافت کر رہے ہیں کہ کس طرح کم وسائل میں جیا جائے اور یہ کہ جب ہم اپنی ہوس کو کم کرتے ہیں تو ہم مسلح تصادم کے ایک بنیادی سبب کو کم کر لیتے ہیں۔
ہمارے لئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل متاثر کن ہو سکتے ہیں جنہوں نے دنیا کے ملکوں کو فوری جنگ بندی کا کہا ہے۔ سیکرٹری جنرل نے فرمایا ”وائرس کا طیش جنگ کی حماقت کو سمجھا رہا ہے“۔ آئیے کہ اپنے آپ کو حقیقی جنگ کے لئے وقف کریں جو کہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی صحت اور اپنے زمین کی صحت کے تحفظ کے لئے ہے۔

ہمیں معلوم ہے کہ سماجی تبدیلی انتہائی آہستہ اور مزاحم ہوتی ہے، پر ہم اس سے بھی آگاہ ہیں کہ نئے کا خمیر ہمیشہ پرانے کی تہہ سے اٹھتا ہے، بالآخر پرانے طریقوں میں دراڑیں پڑتی ہیں اور نئے حقیقتیں نمودار ہوتی ہیں۔ ہمارا مشترکہ عالمی تجربہ یہ دراڑیں پیدا کر رہا ہے۔ آگے جو پیش آتا ہے، شاندار بھی ہوسکتا ہے اور ڈراؤنا بھی۔ ہاں ہمارے ذہن میں بڑھتی ہوئی آمریت، تحکم پسندی، عسکریت پسندی اور نا انصافی کے خیالات آ سکتے ہیں لیکن اپنے خوف پر توجہ مبذول کر کے ہم اپنا کچھ بھی بھلا نہیں کر سکتے۔ بجائے اس کے، ہمیں اپنی آگاہ و بیدار ذات پر توجہ مبذول کرنی چاہیے کہ ہم کیا دیکھ سکتے ہیں اور کیا کر سکتے ہیں؟

پورے کرہ ارض پر پھیلا ہوا یہ وائرس المناک ہے لیکن اس میں انسانوں کی بھیڑ کو بیدار کرنے صلاحیت موجود ہے جس طرح کونٹیکٹ نے ہم میں سے ہر ایک کو جگایا۔ ایک دفعہ بیدار ہونے کے بعد دیواروں، سرحدوں، نفرت اور ’ہم۔ وہ‘ ذہنیت کے سرابوں کی طرف واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ ایک دفعہ بیدار ہونے کے بعد ہم سب ’ہم‘ ہیں۔آپ (کونٹیکٹ فیملی) نے ایک دوسرے کے ساتھ متعلق ہونے کے حقائق تخلیق کیے ہیں۔ اس تکلیف دہ وقت میں محبت و یگانگت، باہم مربوط ہونے اور ایک دوسرے سے متعلق اور منسلک ہونے کے اپنے تجربات سے دنیا کو آگاہ کیجئے۔ اس تجربے کو یاد کیجئے جس نے آپ کی کایا پلٹ دی، آپ کو مکمل طور پر تبدیل کرکے ایک نئی سوچ عطا کی، اس کو ہماری (انسانوں کی) مشترک بقاء اور خدمت کے لئے استعمال میں لائیے۔

اپنا اور اپنے خاندان کا خیال رکھئے تاکہ آپ وقوع پذیر ہوتے اِس عظیم تغیر کا حصہ رہ سکیں جس کو رونما ہوتا دیکھنے کے لئے ہم انتہائی بیتاب رہے ہیں اور جو عین ہماری دسترس میں ہے اگر ہم سب نے میدانِ عمل کا انتخاب کیا۔چونکہ ہم زندگی کی عظیم بناء میں بندھے ہوئے ہیں، سماجی ذمہ داری اور سماجی ہمدردی کا چھوٹے سے چھوٹا ہمارا ہر عمل دوسروں کے زخم بھرتا ہے، بہت سوں کو متاثر کرتا ہے، امید کو آگے لے کر جاتا ہے اور عزم اور ہمت کی ایک وسیع زنجیر کو حرکت میں لاتا ہے۔

جس بھی براعظم پر آپ زندگی کے شب و روز گزار رہے ہیں، یہ جان رکھیں کہ آپ اپنی ذات سے بہت بڑی شے کا حصہ ہیں اور جو کچھ بھی آپ کرتے ہیں کائنات میں معانی اور اہمیت رکھتا ہے۔ اس خط کا جواب دیں اور ایک دوسرے سے جڑ جائیں اگر آپ چاہتے ہو تاکہ ہم ایک دوسرے کی مزید مدد کر سکیں اور بہ حیثیت ایک عالمی شہری ایک دوسرے سے تاثر اور طاقت لے سکیں۔

محبت فکر اور تشویش کے ساتھ

ڈاکٹر پالا گرین

بانی کونٹیکٹ پروگرامز: کنفلیکٹ ٹرانسفارمیشن اکراس کلچرز

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */