کرہ ارض کا زہر یلا، ماحول- پروفیسر جمیل چودھری

کرہ ارض کے بگڑتے اور زہریلے ماحول سے تمام ممالک پریشان ہیں۔ گزشتہ 4 دہائیوں سے اس پر کانفرنس ہو رہی ہیں۔ کیوٹو پروٹوکول کی بجائے 2015 میں فرانس کے شہر پیرس میں تمام ممالککے درمیان معاہدہ ہوا۔

اس پر اطلاق 4 نومبر 2016 سے ہوا۔ 197 ممالک نے اس پر دستخط کئے۔طے ہوا کہ کرہ ارض کے درجہ حرارت کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کیا جائے گا۔لیکن چند ماہ پہلےامیکہ نے اس معاہدہ سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔آج کل کرو ناوائرس کے سب سے زیادہ کیس امریکہ سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔اور صدر امریکہ ایک حالیہ ویڈیو میں نیچے منہ کرکے ،مایوسی کی کیفیت میں کسی سے دم کرواتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ جب بھی کرو نا وائرس پر سنجیدہ اور گہری تحقیقات ہونگی تو اس وائرس کاتعلق کرہ ارض کے بگڑتے اور زہریلے ماحول سے ثابت ہوگا۔جیسے جیسے کرہ ارض معاشی ترقی کی طرف جارہا ہے، اسے ترقی کی قیمت ماحولیات کی خرابی کی صورت میں ادا کرنی پڑ رہی ہے ۔

چند ہفتوں سے پہلے کسی بھی ملک کو ماحولیات کے بگڑتے کا اتنا احساس نہیں ہوا،جتنا اب کرو نا وائرس کی وجہ سے ہو گیا ہے۔ جب چین میں لاک ٹائون ہوا، تمام چینی کارخانے اور کروڑوں گاڑیاں بند ہو ئیں ، کرہ ارض کے ماحول میں فرق پڑنا شروع ہو گیا۔ پھر یورپ میں مکمل لاک ٹائون ہو گیا اب ناسا NASA بتارہا ہےک nitrous oxide کے اخراج میں بہت تیز کمی آئ ہے.اس کی وجہ تیل،گیس اور کوئلہ کے استعمال میں کمی ہےچین اور یورپ میں کارخانوں کے ساتھ کرو ڑ وں گاڑیاں بھی بند ہو گئ ہیں۔کاربن کے استعمال میں کمی سے اوپر کے ماحول میں بھی بہتری آگے ہے۔ناسا کے مطابق چند ہفتوں میں فرق پڑ گیا ہے۔اگرچند ماہ کےبعد تمام کارخانے،بھٹیاں،اور گاڑیاں پھر رواں دواں ہونگی ۔

تو کاربن کے اخراج میں اضافہ پھر تیز ہو گا اور ماحول دوبارہ کثیف ہو جائے گا۔کرو نا وائرس کے خاتمے کے بعد دنیا اپنی معاشی پیداوار کو تیزی سے پورا کرنے کی کوشش کرے گی۔ اب اموات اور معیشت تباہ ہو رہی ہے۔جب حالاتبدلیں گے ماحول پھر خراب ہو گا ۔سوال یہ ہے کہ انسان کرے تو کیا کرے؟ انسان نے معاشی ترقی کی بلندی پر چڑھ کرکے اپنے آپ کو بہت مشکل میں ڈال لیا ہے۔ کرو نا وائرس کے خاتمے تک بے شما رلوگ بے روزگار ہو چکے ہونگے۔ان لوگوں کا کیا بنے گا؟ وباءی امراض بڑی عمرکے لوگوں کو ذیادہ متاثر کرتے ہیں۔غریب طبقہ مزید غریب ہو جا تا ہے۔دونوں طرح کے لوگوں کامدافعتی نظام بہت کمزور ہو تا ہے ۔

ایسے لوگ بھی جو ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ وابستہ ہوتے ہیں مرض کے زیر اثر آجاتے ہیں۔زیادہ سفر تیز تجارت ،سپلائی چین میں تیزی ، بڑے مذہبی اجتماعات یہ سب ماحول کو خراب کرتے ہیں۔ وباء ی امراض زیادہ تر شہروں کو متاثر کیا ہے۔ ان امراض سے وہ لوگ بھی متاثر ہو تے ہیں جنہوں نے کاربن کے اخراج میں زیادہ حصہ نہیں لیا ہوتا۔کارخانوں سے تجوریاں تو امراء بھر تے ہیں لیکن کاربن کے اثرات غرباء برداشت کرتے ہیں۔کرہ ارض کے درجہ حرارتمیں اضافے زیادہ سیلاب آتے ہیں ۔سطح سمندر اونچی ہو رہی ہے۔

ترقی یافتہ ملکوں یہ طے کیا تھا کہ کاربن کے اخراج میں تیزی سے کمی شروع کریں گے لیکن کرو نا نے اچانک حملہ کر کے انہیں اپنا وعدہ یاد دلا دیا ہے اب دیکھتے ہیں کہ بعد میں کیا ہو تا ہے؟ کیا موجودہ اچانک آنے والی کمی برقرار رہے گی؟ لگتا نہیں کہ بعد میں اخراج کم ہوگا۔لگتا ہے کہ انسان نے اپنی تباہی کے انتظامات خود ہی کر لئے ہیں۔ترقی کی بلندی سے نیچے آکر سادہ قدرتی زندگی بسر کرنا اب انسان کے بس میں نہیں رہا۔ایک بہتر صورت یہ ہوسکتی ہے کہ معدنی ایندھن کا استعمال ختم ہو جائے ۔تیل گیس اور کوئلے کا استعمال بند ہوجائے اور اسکی جگہrenewable انرجی لے لے۔جیسے سورج کی روشنی،ہوا سےحاصل کردہ انرجی، سمندری لہروں سے حاصل شدہ انرجی،زمین کے اندر کی حرارت کا استعمال اورسب سے اہم ہائیڈرو انرجی۔کارخانے اور اور تمام ٹرانسپورٹ کے ذرائع صرف اسی کو استعمال کریں کاربن اور زہریلی گیسوں کا اخراج فورا ختم ہو جائے گا۔

اور یہ فائدہ بھی ہوگا کہ ان ذرائع کو بار باراستعمال کیا جاسکے گا۔ یہاں جل کر کچھ ختم نہیں ہو تا۔نہ ہی کوئ زہریلا مادہ پیدا ہوتا ہے۔اس سے کرہ ارض کا ماحول صاف ستھرا رہے گا۔اوزون تہ میں دراڑیں نہیں پڑیں گی۔آکسیجن کم نہی ہو گی انسان انتہائی صاف فضاء میں سانس لے گا۔نقصان دہ جراثیم اور وائرس پیدا نہیں ہونگے۔کرو نا وائرس جیسی دبائیں پیدا نہیں ہونگیں۔renewable انرجی کے صرف فوائد ہیں۔لیکن انسان نے صدیوں کی کوششوں سے جو کچھ بنایا ہے یہ سارے کا سارا معدنی ایندھن پر انحصار کرتا ہےاسے تبدیل کرنے میں ایک لمبا عرصہ اور بے شمار وسائل درکار ہونگے۔کم وسائل والے غریب ملکو کیلئےتو شروع کرنا ہی ممکن نہیں ہو سکے گا۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ صاف ٹکنالوجی کی طرف اب لوگ جارہے ہیں۔بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کو سڑکوں پر دوڑتے ہوئے دیکھا جارہا ہے۔صاف انرجی کا استعمال
کارخانوں اور بھٹیوں میں استعمال بہت ضروری ہے۔یہی طریقہ ہے کہ ہم اپنے کر ارض کو صاف رکھ سکیں ۔اسے امیر ممالک بڑے پیمانے پر شروع کریں اور کم وسائل والے مما لک کی عالمی مالیاتی ادارےمد کریں۔

صرف یہی متبادل ہے۔ہم اپنے کرہ ارض کو گرم ہونے اور زہریلی گیسوں سے بچا سکتے ہیں کرو نا وائرس جیسے خطرناک امراض بھی نہیں پیدا ہونگے۔تمام ممالک قررت
کے قریب رہنے سے ہیمحفوظ رہ سکتے ہیں۔بہتری کیلئے کچھ بڑا کرنا پڑے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com