یه دنیا رفته رفته کشمیربن رهی هے -عصمت اسامه

یه وسیع وعریض کارخانهء عالم کچھ اصول و قوانین کے تحت چل رها هے جو خالق_حقیقی نے اپنی کتاب میں بتادییے هیں۔ الله رب العالمین کا طریقه یه هے که اس نے اقوام کی زندگی ان کی بندگی سے مشروط کردی هے۔ هر قوم کو کچھ مهلت_عمل دی جاتی هے ۔

وه انفرادی غلطیوں کی وجه سے اقوام پر عذاب نازل نهیں کرتا لیکن بحیثیت_ مجموعی جب کویء قوم کسی بڑے گناه میں مبتلا هو جاتی هے اور اپنے هر خیر خواه کی ھدایت کونظر انداز کردیتی هے تو پھر پوری قوم پر ایسا عذاب _ الهی نازل هوتا هے جو هر خاص وعام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا هے۔ایسے کڑے وقت میں افراد کا توبه استغفار کرنا قبول نهیں کیا جاتا بلکه پوری قوم کو اپنا احتساب کرکے اپنی غلطی کی تلافی کرنا هوتی هے جو اس پر منڈلاتے عذاب کو ٹال سکے ۔

الله تعالی ' کو حاضر ناظر جان کر هم اهل _ پاکستان اگر اپنا احتساب کریں تو ایک ایسا سنگین گناه هم سے بھی هوا هے ۔ بانیء پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شه رگ قرار دیا تھا لیکن هم اپنی شه رگ کی حفاظت نهیں کر سکے بلکه اپنا یه اهم ترین حصه کٹوا بیٹھے ۔سالها سال تک کشمیر کے برفانی پهاڑوں سے "کشمیر بنے گا پاکستان " اور " هم پاکستانی هیں ،پاکستان همارا هے " کے نعروں کی گونج هماری سماعت سے ٹکراتی رهی لیکن بحیثیت قوم هم نے عملی طور پر(سواےء تقریروں کے) ان کے لیےء کچھ نه کیا !! کشمیر کی ماٶں بهنوں نے متعدد بار همیں پکارا لیکن هم کرکٹ میچوں کے سحر میں ڈوبے رهے ۔

بھارتی سرکار همارے کشمیری بھاییوں کے خون سے هولی کھیلتی رهی اور هم امن کے گیت گاتے رهے ۔حتی ' که 5 اگست2019 کو بھارت نے غیر آیینی طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے دفعه 35-A کی حفاظتی دیوار گرادی اور پھر کشمیر کو اقوام _ متحده کے ایجنڈے سے هی خارج کردیا گیا ۔باقی دنیاکی بے حسی کی تو بات هی کیا کریں لیکن هم تو کشمیر پر اپنادعوی' رکھتے تھے !! کیونکه یه بھارت نے فوج کشی کر کے پاکستان سے چھینا تھا !! اب دیکھیں هم کس حال میں هیں؟ وهی لاک ڈاٶن هم تک آن پهنچا هے ۔۔۔۔هماری مارکیٹوں په تالے لگے هیں۔ هماری پررونق سڑکیں سنسان هو چکی هیں ۔کرونا کی شکل میں هر طرف موت پھر رهی هے ۔نجانے کون کب اس وباء کا شکار هوجاےء؟؟ هر ذی نفس خوف میں مبتلا هے !

ؔ~تخیل میں اچانک تصویر بن رهی هے

یه دنیا رفته رفته کشمیر بن رهی هے !!

کیء سالوں سے کشمیری مسلمان ظلم کی چکی میں پس رهے هیں ۔انھیں انکے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جارها هے ۔پچھلے آٹھ ماه سے بھارتی مقبوضه جموں و کشمیر پر لاک ڈاٶن مسلط هے۔ کشمیری اپنے کھانے پینے اور اشیاےء ضرورت کی خاطر بھی گھر سے باهر نهیں نکل سکتے ورنه پولیس اهلکار انھیں بهیمانه تشدد کا نشانه بناتے هیں۔ حتی ' که وه بھوک سے مرنے والوں کی تدفین کے لیےء قبرستان نهیں جا سکتے اور اپنے پیاروں کو گھروں میں هی دفنانے پر مجبور هیں ۔هزاروں کی تعداد میں کشمیری بیٹے بھارتی جیلوں میں قید کردییے گیےء هیں ۔ان بچوں کے اهل خانه ان کی سلامتی کے بارے میں پریشان هیں۔ حریت کانفرنس کے سینیر رهنما یاسین ملک کی جان خطرے میں هے۔ مقبوضه کشمیر سوشل یوتھ فورم کےچیرمین عمر عادل ڈار نے قابض انتظامیه سے مطالبه کیا هے که وه کرونا وایرس کے خطرے کے پیش نظر جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند تمام کشمیریوں کو فوری طور پر رها کرے ۔

یه وقت هے اھل _ پاکستان کے لیےء خود احتسابی کا ۔۔۔اس سے قبل که هم په کشمیر فروشی کا جرم ثابت هوجاےء اور الله کی بارگاه میں هم په فرد_ جرم عاید کرکے عذاب کا کوڑا برسا دیا جاےء ۔۔۔اس سے قبل که توبه کا دروازه هم په بند کردیا جاےء ۔۔۔۔اے اھل _ پاکستان آٶ کشمیر کا مقدمه ایک بار پھر لڑیں!!اھل کشمیر کی آواز بنیں ۔اپنی شه رگ کو دشمن سے چھڑوانے کے لیےء متحد هوں وگرنه یاد رکھیں

~فطرت افراد سے اغماض کر بھی لیتی هے

نهیں کرتی کبھی ملت کے گناهوں کو معاف !

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com