عمران خان کا خطاب ،قرنطینہ - حسین اصغر

ایسامحسوس ہوتا ہے کہ پچھلے دور کےحکمران عوام کےسامنےآنے سے پہلےلکھی گئی تقریروں کوخودبھی کئی کئی بارپڑھ لیاکرتےتھے توتھوڑی بہت سنجیدگی بھی نظر آجاتی تھی، مگر اب لگتاہے کہ حکومت وقت نے اپنےدربار میں مسخروں کوبھی شامل کرلیاہے۔

یہی وجہ ہےکہ اب حکومت وقت کے دربار سے عوام کےلئے صرف تباہی کی ہی نوید نہیں سنائی جاتی بلکہ اب اس کےساتھ ساتھ ان کی دل جوئی کے لئے ہنسی مزاق کابھی بندوبست کیاجاتاہے۔کل ہی کاواقعہ ہےکہ ہم آرام کرنےجارہے تھےکہ اسلام آباد سے“ فقیرے“کافون آگیا اورہم نے مرتے کیا نہ کرتے اس کافون اٹھالیا۔
فون اٹھاتے ہی فقیرا جیسے مجھ پر ہی چڑھ دوڑا، کبھی زورزور سےرونے لگتا اور کبھی ہنسنا شروع کرتا توختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔

میں نے بھی پوچھ ہی لیا فقرے میں تمہارےرونےکے درمیان ہنسی کا مطلب بالکل نہیں سمجھا۔ یہ سوال کرنا ہی تھا کہ وہ تو ہتھے ہی سے اکھڑ گیا کہنے لگا آپ نے ابھی “وچیراچم” کا فرمان سناہے۔ہم نے اسے ٹوکتے ہوئےکہادیکھوبھائی ہم وزیراعظم کی پالیسی کے خلاف ہیں مگر ان کامذاق اڑاناہمیں بالکل پسند نہیں آیا ! آئندہ آپ ہمارے وزیراعظم کو مذاق میں بھی “وچیراچم” نہیں کہیں گے۔ ہماری یہ درخواست سنتے ہیں پھر اس کو ہنسی کا دورہ شروع ہوگیا اور کہنے لگا چند دن پہلے میرا چھوٹا بیٹا گھر کاسامان لینےگیاتھا تو پولیس نے اسےمارمارکر ادھ مواکردیا تھا۔ اور اب جب آپ کے “وچیراچم”نے یہ فرمایا کہ “ہم لاک ڈاؤن نہیں کریں گے” تو ساتھ ہی بشیرے کی امی روتے ہوئے اندر داخل ہوئیں کہ ہائے پولیس نے لنڈن جعفری کو مار مار کے اس کی ٹانگ توڑ دی ہے،اس کا کزن اس کوہسپتال لےگیاہے۔

توجناب جب نہ کرفیوہے، نہ لاک ڈاؤن ہے تو ہر چوک پر پولیس کیوں سب کی مار کُٹائی کر رہی ہے اور مرغا بنا رہی ہے ؟اس کے بعد فقیرے نے حکومت کو وہ وہ سنائی ہے اور ایسے ایسے جملوں کا استعمال کیا کہ ہمارے تو کانوں سے دھواں نکلنا شروع ہوگیا۔پھر ہم نےبھی چیختےہوئےکہا ہماری بھی سنو گے یا اپنی ہی بکے جاؤ گے؟ اس کے خاموش ہونے پر ہم نے بتایا فقیرے ہم پہلےہی کئی بار بتاچکے ہیں کہ عمران اتنا ہی وزیراعظم ہے جتنا آپ اپنے گھر میں حکمرانی آخر چلتی تو بھابھی کی ہی ہے نا!اب خود ہی دیکھو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے چند دن پہلے ہی لکھاہے کہ “عمران خان نے لاک ڈاؤن سے انکار کیا جس پر فوج نے مداخلت کی اورعمران کو سائیڈ لائن کرکےصوبوں کیساتھ مل کرلاک ڈاؤن کر دیا۔

”فقیرے تم نے نہیں دیکھا! جب صحافی نے سوال کیا کہ فیصلےکون کر رہا ہے؟ عمران نے جواب دیا تھا کہ “میں کر رہا ہوں “تو یہ سنتے ہی پیچھے بیٹھے وردی والے کا ہانسا ہی نکل گیا تھا۔پھر ہم نے فرمایا دیکھو فقیرے حالات بہت خراب ہیں “کرونا وائرس “ خطرناک وائرس ہے اس سے اپنے اور اپنے بچوں کو بچا کر رکھو اوراس کا آسان حل اپنی فیملی کے ساتھ گھر میں رہنے میں ہی ہے،حکومت اکیلے کچھ نہیں کر سکتی جب تک عوام اس کا ساتھ نہیں دے۔ کہنے لگا آپ پردیسیوں کا حال بھی عجیب ہے آپ کا کیا مسلہ ہے وہاں حکومت آپ لوگوں کے لئے کچھ نہ کچھ انتظام تو کردے گی ،مگر ہم پاکستانی کیاکریں !کیا بھوکےمر جائیں ؟باہر نہیں جائیں گے تو کمائی کیسےہوگی ؟

اس بار فقیرے کو رونا آگیا اور کہنے لگا بھلا ہو جماعت اسلامی کے الخدمت والوں کا پچھلے ہفتے کچھ راشن دے گئے تھے جو اب تک چل رہا ہے اب آگے کیا ہوگا ؟ اس بار ہمیں بھی رونا آگیا اورہم نےکہا انشاءاللہ ،اللہ بہتریں رزاق ہے وہ کوئی نہ کوئی انتظام کر دے گا۔پھر اچانک فقیرے کو پتہ نہیں کیا ہوا زور زور سے ہنسنے لگا اور کہنے لگا آپ صحیح کہتے ہیں یہ حکمران بڑے فنکار ہوتے ہیں ابھی چند مہینے پہلے تک حکومت نے جگہ جگہ لنگر خانے، پناہ گاہیں بنائی تھیں اور عمران سمیت سارے وزرا نے خوب فوٹوسیشن کیا تھا، مگر اب جب لنگر دینے کا وقت آیا تو لنگر خانے غائب ہوگئے ،آئسیولیشن کے لئے پناہ گاہوں کی ضرورت پڑی تو وہ غائب ہوگئے، اور جب عوام کو مدد کی ضرورت کا وقت آیا تو سارے وزرا بھی غائب ہو گئے ۔ اب تووزیراعظم نے“کرونافنڈاورکروناٹائیگرفورس“بنانےکااعلان کردیا ہے ۔

میں نے کہا فقیرے ان حکمرانوں کے پاس وسائل کا کوئی مسلہ نہیں کرسی بچانے کےلیے سینیٹروں کو خریدتے وقت انکا خزانہ بھرا ہوتا ہے اور جب غریب کو راشن دینے کی باری آتی ہے تو خزانہ پچھلی حکومت لوٹ کر کھا گئی کا ڈرامہ کرتے ہیں،بحریہُ ٹاؤن کی قسطوںُ کا ۵۰ ارب سےزائدفنڈحکومت کےاکاؤنٹ میںُ پڑاہے، وسائل ہونے کے باوجود امداد کےُلئے رونا،عوام کو دھوکہ دینا سے زیادہ کچھ نہیں۔“ڈیم فنڈ“کے نام پر پہلے ہی عوام کے ساتھ فراڈ ہو چکا ہے اور فقیرے رہی بات “کرونا ٹائیگر فورس”کی تو اس طرح کے اقدامات اصل میں حکمرانوں کےلئےسونے کی چڑیااورعوام کے لئے “اندھی ، بہری اور گونگی” کرپشن کی کہانی ہوتی ہے ۔

جس کاکوئی آڈٹ نہیں ہوسکتاابھی ہماری بات جاری تھی کہ فقیرے کے گھر میں پھر سے ایک طوفان برپا ہوگیا بشیرے کی اماں چیختی چلاتی اندر داخل ہوئیں ،ارے سنتے ہو پہلے ہی چھوٹا بیٹا درد سے کراہ رہا ہے بڑےکوکزن ہسپتال لے کرگیاہے اورتم ہو کہ ابھی تک فون کان سے لگائے کیا کر رہے ہو ،ہائے میں مر گئی چھوٹے نے پیشاب کردیاہےاورتمہیں اپنے دوست کے علاوہ کسی کادھیان ہی نہیں ہے،اس ہنگامے میں فقیرے کا صرف یہ سوال سن سکا !بچوں کے پیشاب اور وزیراعظم کے خطاب پر کیسے قابو پایا جاسکتا ہے ؟اس بار ہمیں بھی بے ساختہ ہنسی آگئی اور ہم سونے کے لئے اپنے کمرے میں چل دیئے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com