کرونا صورتحال پر حکومتی تذبذب - غضنفر عباس سہو

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مہلک وبا نے دنیا کے لگ بھگ 200 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اٹلی اور سپین میں شدید ترین تباہی پھیلانے کے بعد دیگر ممالک میں تیزی سے بڑے پیمانے پر قہر ڈھانے کے راستے پر گامزن ہے۔

ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک تاحال اس کی روک تھام کے لیے ویکسین بنانے میں ناکام ہیں۔ تاہم چائنا کے ووہان ماڈل کی طرز پر لاک ڈاؤن سے کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے جیسی پالیسی قدرے کار آمد ثابت ہوئی ہے۔ مگر لاک ڈاون بھی اس وبا کا فیصلہ کن یا حتمی حل نہ ہے۔ سماجی فاصلہ اور خودساختہ تنہائی جیسی اصطلاحیں بھی عام ہو چکی ہیں۔ بہرحال ان احتیاطی تدابیر کے بھی حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔

شنید ہے کہ اگلے دو تین ماہ تک لیباٹریز سے اس وبا کے تدارک کی دوا مارکیٹ میں دستیاب ہوسکے گی۔ یقینا بنی نوع انسان کی بقا کے لئے مصروف عمل طبی ماہرین دوا کی تیاری میں کامیاب ہوجائیں گے مگر تب تک شرح اموات کس قدر ہوگی حتماً اس بارے میں کہنا مشکل ہے۔ عموما ایسے ہی مواقع پر کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی مصیبت اکیلے نہیں آتی بلکہ بہت ساری دیگر مشکلات بھی ساتھ لاتی ہے۔ بالکل ایسی ہی صورتحال کا ان دنوں ہر ایک ملک کو سامنا ہے اس موذی وائرس نے موت کے ساتھ ساتھ دنیا کی معاشیات کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ خود ساختہ تنہائی میں رہنے کی وجہ سے افراد میں ذہنی بیماریاں بھی پیدا ہونے لگی ہیں۔چڑچڑا پن۔ ڈپریشن۔ بلڈپریشر اور خوف کی وجہ سے گھریلو تشدد میں اضافہ ہوچکا ہے جسمانی مشقت نہ ہونے اور گھر میں بیکار پڑے رہنے سے شوگر۔موٹاپا و دیگر بیماریاں بھی سر اٹھانے لگی ہیں۔

محترم وزیراعظم صاحب د وبار قوم سے خطاب کر چکے ہیں مگر ہر بار ان کے خطاب میں شدید کنفیوژن اور بے بسی کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔ ایک طرف تو وائرس سے لڑنے کے لیے مناسب وسائل کی کمی اور دوسری جانب وباءکی روک تھام اور بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن۔ کرفیو جیسے اقدامات کرنے سے معاشی بدحالی کی بدترین صورت حال کو قابو میں لانے کے لیے کمزور ملکی معیشت۔ اب ایسی صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں صرف جزوی لاکھ ڈاؤن ہی نافذ کیا جائے ۔جزوی لاک ڈاؤن کی صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ ہر گھر کے ایک کمرے کو قرنطینہ کا درجہ دے دیا جائے۔ عوام الناس کو بھی بذریعہ پرنٹ۔ الیکٹرونک اور سوشل میڈیا طبی تربیت دے دی جائے۔

ہر گھر میں دو میڈیکل کٹس 1 برائے مریض اور دوسری اٹینڈنٹ کے لیے اور چند متعلقہ ضروری دوائیں بذریعہ ہیلتھ ورکرز اور طبی رضاکاروں کے تقسیم کرا دی جائیں ۔مریض کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں 1122 ریسکیو۔ میڈیکل ریلیف سینٹر یا کنٹرول روم پر فوری اطلاع کا نظام رائج کردیاجائے۔ تمام تفریحی مقامات۔ پارکس اور انٹرمیڈیٹ لیول تک کے تعلیمی اداروں کو مکمل بند رکھا جائے۔ ہوٹل محض پارسل یا ہوم ڈلیوری کی سروسز دے سکیں۔ فیکٹریز میں شفٹ بڑھا دی جائے تاہم ورکر کی تعداد میں مناسب کمی کردی جائے یعنی اگر ایک شفٹ میں 50 افراد کام کر رہے ہیں۔

تو ان کی تعداد 25 کر دی جائے اور بقیہ 25 ضوری احتیاطی فاصلے کی وجہ سے اگلی شفٹ میں ٹرانسفر کر دیئے جائیں۔ یہی فارمولا سرکاری دفاتر میں بھی ترمیم کے ساتھ نافذ کیا جاسکتا ہے۔ شاپنگ مال اور بازار وغیرہ کے بارے میں موجودہ پالیسی اچھی ہے تاہم اگر کچھ حفاظتی اقدامات کے ساتھ( مثلاً سینیٹایزر۔ ماسک ۔گلووز اور مناسب فاصلہ وغیرہ) نرمی کر دی جائے تو بہتر ہوگا کہ شاپنگ مالز اور بازار وغیرہ بھی جزوی کھول دیے جائیں۔ مزدوروں کے چولہے تو بالکل ٹھنڈے پڑ چکے ہیں اسلیے تعمیراتی کام تو بلا تاخیر شروع کرا دینے چاہیں۔

حکومت قدرت پر توکل کرتے ہوئے محض جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کرکے تذبذب کی کیفیت سے باہر آکر عوام کو واضح پالیسی دے۔ موسم کی صورتحال اپریل کے وسط تک گرم ہوجائے گی اور ماہرین کے مطابق یہ موذی وبا ایک خاص درجہ حرارت پر ختم ہوجاتی ہے خدا کرے ایسا ہی ہو بصورت دیگر اس وباءکی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والا معاشی اور معاشرتی بحران زیادہ بھیانک اور خطرناک ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com