تصور کی آنکھ - چوہدری شبیر

آپ گھروں میں محصور ہونا پسند نہیں کررہے اور قانون توڑنا آپ کا اس وقت پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے ۔ حکومت نے ہر ادارے کو بند کردیا ہے بلکہ ملازمین تک تو کم کردیا ہے تاکہ ملاپ کم سے کم ہوسکے ۔ آپ آج بھی سر شام یار دوستوں میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں اور پولیس ودیگر اداروں سے آنکھ بچا کر ان تک پہنچ بھی جاتے ہیں ۔

فرض کریں آپ کی انہیں بدانتظامی معاملات اور بے احتیاطی کی وجہ سے کرونا جیسا مہلک مرض آپ کو لگ جاتا ہے۔ فرض کریں آپ کو پہلے چند دنوں میں معلوم تک نہیں ہوپاتا کیوں کہ آپ کا مدافعاتی نظام کمال کا ہے ۔ فرض کریں پہلا ہفتہ آپ کو معلوم تک نہیں ہوتا اور آپ اپنی روزمرہ زندگی کو اسی آن، شان اور بان سے جی رہے ہیں اور فرض کریں کہ اک رات آپ کو محسوس ہوتا کہ آپ کا سانس سینے کی کسی نکڑ میں رک رہا ہے ، سینہ سانس کی اکھاڑ پچھاڑ سے پھٹ رہا ہے ، آپ کا گلا آپ کی خوراک والی نالی سے کوشش کررہا ہے کہ اندر سے سانس باہر نکل آئے اور فرض کرلیں کہ آپ کے سانس والی نالی حتی المقدور کوشش کررہی ہے کہ سانس بحال ہوجائے ۔ فرض کرلیں کہ اس کے ساتھ آپ کو کھانسی کا دوری بھی پڑ چکا ہے اور ذرا چشم تصور سے فرض کریں اس وقت آپ کی صورتحال کیا ہوگی ؟

رات کے اک بجے آپ کے گھر والے آپ کے گرد جمع ہوچکے ہیں اور جب وہ آپ کی موجودہ حالت دیکھتے ہیں تو آپ کا بھائی سب کو منع کردیتا ہے کہ بھائی کے پاس نہ جائیے گا ۔ وہ فوری طور پر محکمہ صحت کو فون کرتا ہے اور وہ آدھے گھنٹے کے وقفے سے آپ کے گھر کے باہر ہوتے ہیں ۔ ویگو ڈالے والے بھی ان کے ساتھ ہیں ۔ پوری ٹیم ساتھ موجود ہے ۔ مخصوص لباس میں ماسک زدہ چہروں کے ہیولے آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں اور بول بھی سکتے ہیں۔ لیکن ان کے ہاتھوں کا لمس تک آپ کو محسوس نہیں ہورہا کیونکہ انہوں نے حفظ ماتقدم کے طور پر دستانوں کے اوپر دستانے پہنے ہوئے ہیں ۔ وہ فوری طور پر آپ کو سٹریچر پر ڈال کر ایمبولینس جیسی گاڑی میں ڈالتے ہیں اور پورے علاقے کو بشمول آپ کے گھر والوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ کوئی بھی گھر سے باہر قدم نہ نکالے ۔ آپ کو لے جاکر قرنطینہ منتقل کردیا جاتا ہے ۔ آپ سے کسی کو ملنے تک نہیں دیا جاتا ۔ فرض کریں کہ آپ کمرے میں اکیلے ہیں ، آپ کے پاس موبائل تک نہیں ہے ۔ جب طبیعت خراب ہوتی ہے تو آنکھوں تلے اندھیرا آجاتا ہے اور آپ سے کوئی بات تک نہیں کرتا ۔ ڈاکٹر و دیگر عملہ آتا ہے تو وہ بھی کپڑوں کے اوپر کپڑے پہنے ہوئے اور صرف ان کی آنکھیں نظر آتی ہیں وہ بھی صاف شفاف شیشوں کے عقب سے گھورتی ہوئیں یا ان کی آواز سنائی دیتی ہے۔

14 دن ہوچکے ہیں آپ کو اپنے گھر والوں سے ملے ہوئے اور ان کی آواز تک سنے ہوئے ۔ ذرا دیر کے لیے فرض کرلیتے ہیں کہ آپ اس دنیا فانی سے کوچ کر کے ہیں اللہ جباروقہار کی بارگاہ میں حاضر ہوچکے ہیں ۔ ذرا تصور کی آنکھ کو سامنے لائیے اور دیکھیے کہ آپ کے جسم کے ساتھ کیا ہورہا ہے ۔ کپڑے اتار کر محکمہ صحت والے اک سپرے ماررہے ہیں اور پھر انہیں میں سے چند لوگ آپ کو غسل دیتے ہیں اور غسل میں بھی وہ اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھے ہوئے ہیں ۔ غسل کے بعد پھر سے سپرے مار کر لباس پہنایا جارہا ہے اور پھر جس تابوت میں رکھا جارہا ہے اس کو بھی سپرے مارا جارہا ہے ۔ آپ کو اس میں رکھ کر تالا لگا دیا جاتا ہے ۔ گاڑی میں میت کو رکھ کر گھر بھیجا جاتا ہے اور گھر والوں کو صرف مطلع کیا جاتا ہے اور پھر چند ہی لمحوں بعد آپ کو قبرستان اس طرح سے لاجارہا ہے کہ گھر والوں کو ساتھ آنے سے منع کردیا گیا ہے کیوں کہ اب کے بھی ٹیسٹ ہوں گے وجہ آپ کا احتیاط نہ کرنا تھا ۔

معدودے لوگ آپ کی نمازجنازہ گاڑی میں ہی آپ کی میت کو رکھ کر پڑتے ہیں جن میں شاید ہی کوئی آپ کا عزیز، دوست ، رشتے دار یا جاننے والا ہو ۔ پھر قبر میں رکھنے کا انداز بی ذرا تصور کرلیجیے کہ رسیوں سے آپ کے تابوت کو باندھ کر قبر میں رکھ دی جاتی ہے اور اوپر سے مٹی ڈال دی جاتی ہے ۔ دفنانے والے واپس آتے ہی پہلا کام گاڑی کو اسی سپرے سے دھونے اور اپنے آپ کو کپڑوں سے آزاد کرنے میں جت جاتے ہیں کہ کرونا انہیں نہ چمٹ جائے ۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ آپ کے گھر والوں پر کیا بیت رہی ہوگی آپ کی احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے ۔ آپ کو چاہیے کہ اپنے آپ کو محفوظ رکھیں ، اپنے لیے اور اپنے پیاروں کے لیے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com