کرونا وائرس،ایک لمحہء فکریہ آئیں رجوع الی اللہ کریں - عاصف یوسف

انہی دنوں میں کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کے تناظر میں امام صاحب مسجد نبوی شریف نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا ھے۔ یہ خطبہ جہاں بہت فکر انگیز تھا وھاں کرب اور سوز و گداز سے بھی لبریز تھا۔اس کے دوران وہ خود بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے ۔

اور حاضرین کو بھی رلا دیا انہوں نے فرمایا،" اللہ نے مخلوقات اور آباد شہروں میں ایک چھوٹی سی مخلوق چھوڑی تو شہروں کے شہر خالی ھو گئے۔سخت سے سخت جسم برباد ھو گئے۔مجمعوں کے مجمعے بکھر گئے۔ مال کا کثیر حصہ تباہ ھو گیا۔اس نے بڑے بڑے سرکشوں کو رسوا کر دیا۔ان کے جمے قدموں کو اکھیڑ دیا۔ اونچی عمارتوں کو چھوڑا نہ بڑے بڑے لشکروں کو۔ نہ نیک و کاروں اور عبادت گزاروں کو اور نہ نافرمانوں اور سرکشوں کو۔ جب یہ گنجان اور آباد شہروں اور سخت اتحاد و اتفاق والے علاقوں میں پہنچی تو سانسیں رک گئیں اور حرکت شل ھو گئی۔۔گویا کہ کل وھاں کچھ تھا ھی نہیں۔۔۔دوستوں کو بھی دشمنوں کے اخلاق لگ گئے۔ اب وہ ایک دوسرے کی ملاقات سے بھاگتے ھیں بڑی قربت کے بعد اب وہ دور دور نظر آتے ھیں پیاروں کے بیچ بھی اس نے دوریاں پیدا کر دیں ، اب وہ ایک دوسرے کو یوں دیکھتے ھیں جیسے پیاسا سراب کو دیکھتا ھے یا قحط زدہ علاقے والا بادل کو تکتا ھے۔ "

امام صاحب اس کا سبب بتاتے ھیں کہ،" اس سب کی وجہ ھماری اپنی برائی ھے اور اللہ کی مہربانی کا ہٹ جانا ھے مت سمجھنا کہ دشمن غالب آ گیا ھے، بلکہ یقین کرو کہ محافظ روٹھ گیا ھے۔"
قرآن مجید میں مذکور واقعات کے حوالے سے امام صاحب نے ذکر کیا کہ اللہ تعالی نے گزشتہ امم کو مختلف قسم کی آزمائشوں میں اس لئے ڈالا کہ شائد وہ تائب ھو جائیں، پلٹ آئیں، عاجزی اختیار کر لیں اور شائد کہ انہیں ھوش آجائے۔دلوں کا زنگ بڑھ جائے تو اسے دور کرنے کی تدابیر کی جاتی ھیں۔۔۔۔۔انہوں نے قرآن کی سورہ یوسف کی آیت 100 کا حوالہ دیا جس میں فرمایا گیا ھے،

اِنَّ رَبِّىۡ لَطِيۡفٌ لِّمَا يَشَآءُ‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ

(واقعہ یہ ھے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ھے۔ بے شک وہ علیم و حکیم ھے۔ ان حالات میں امام صاحب نے عوام کو جو تاکید کی ھے اس کا خلاصہ یہ ھے کہ لوگ صبر و پامردی کے ساتھ صورت حال کا مقابلہ کریں۔ احکام الہیہ کے اندر رھتے ھوئے حکمرانوں اور علماء کی طرف سے دی گئی ھدایات پر عمل کریں۔ اپنی اور دوسروں کی جانیں بچانے کے لئے Isolation اختیار کریں اور اس تنہائی کو غنیمت جانتے ھوئے اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔دعائیں کریں ،زاری کریں، اپنے گھروں ھی کو مسجدیں بنالیں اور وھاں نماز قائم کریں، جلدبازی نہ کریں اور نہ افواہیں پھیلائیں۔

اللہ تعالی کی اس آزمائش کو اس لحاظ سے ایک نعمت کے طور پر بھی لیا جائے کہ اس نے لوگوں کو رجوع الی اللہ کی راہ دکھائی جیسا کہ امام ابن قیم کا قول ھے کہ،" اللہ تعالی بطور رحمت اپنے بندوں کو مصائب، پریشانیوں اور آزمائیشوں میں مبتلا کرتا ھے تاکہ وہ ان کی خطائیں معاف فرما دے۔لہذا یہ اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ھیں اگرچہ لوگوں کے دل اسے ناپسند کرتے ھیں۔ حکومتیں اور ذمہ دار ادارے جہاں اپنے وسائل کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھا رھے ھیں وہاں ھم سب کو چاہئیے کہ بھرپور تعاون کریں اور وہ سب طریقے اختیار کریں جن سے یہ وبا جلد از جلد ختم ھو ھماری بے احتیاطی اور عدم تعاون اجتماعی خرابی اور اس پریشانی کے بڑھنے اور طویل تر ھونے کا باعث بن سکتی ھے اس حوالے سے Isolation سب سے ضروری ھے یوں سمجھ لیا جائے کہ گویا ھم جیل میں ھیں۔۔۔۔۔اس کی سختیاں حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح خندہ پیشانی سے برداشت کریں۔

اس فرصت کے زمانے کو ھم بہت مفید اس طرح بنا سکتے ھیں کہ ھم اللہ تعالی کی طرف رجوع بڑھائیں۔نماز کی پابندی کریں۔تمام افراد خانہ مل کر جماعت کا اھتمام کر لیا کریں۔ قرآن مجید نہ صرف ناظرہ پڑھیں بلکہ ترجمہ و تفسیر کے ساتھ بھی اس کا مطالعہ کریں۔ احادیث میں مذکور اور علماء و مشائخ کی طرف سے ھدایات کردہ اوراد و وظائف بھی اپنے معمول میں شامل کریں درج ذیل کا اہتمام ان شاءاللہ بہت مفید رھے گا۔ آیت کریمہ۔

۔ یا حیی یا قیوم برحمتک استغیث

۔ حسبنا اللہ و نعم الوکیل

طلبہ اپنا نصابی مطالعہ منقطع ھرگز نہ کریں ، بلکہ ٹائم ٹیبل بنا کر اسے جاری رکھیں دینی لٹریچر کے مطالعے کے لئے بھی کچھ وقت نکالیں۔۔۔۔۔۔جن جن امور میں خامیاں رہ گئی ھوں انہیں دور کرنے کی سعی کریں۔۔۔۔۔گزشتہ کے out standing کام اس وقت سے فائدہ اٹھاتے ھوئے انجام دے لیں۔اپنے اھل خانہ ، اقارب اور احباب سے بہت حسن سلوک اور اعلی اخلاق سے پیش آئیں غلطیوں اور زیادتیوں کی معذرت کر لیں۔

اگر ممکن ھو اور ضروری ھو جائے تو ان ھنگامی امدادی سرگرمیوں کو سپورٹ کریں۔ لوگوں میں اس وبا کے حوالے سے Awareness عام کرنے کے لئے انٹرنیٹ یا دیگر ذرائع بھی اعتدال کے ساتھ استعمال کریں۔ سب سے اہم بات یہ کہ اسے اللہ کی طرف سے آزمائش سمجھ کر ھمت اور صبر سے اس کا مقابلہ کریں۔جو تقدیر میں لکھا ھے وہ تو ھو کر رھنا ھے ، اصلاح احوال کے لئے جو ھم کر سکیں اس میں کوتاھی نہ کریں ان شاءاللہ مشکل کے ساتھ آسانی بے۔ان مع العسر یسرا ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com