صدقہ کریں پبلیسٹی نہیں - غازی عرفان خان

اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کی زد میں ہیں۔ایسا کوئی بھی دن نہیں جس دن یہ خبر نہ ملتی ہو کہ آج فلاں ملک میں اتنی اموات ہوئی فلاں ملک سے اتنے نئے افراد میں کروناوائرس کی تصدیق ہوئی ہیں۔ اب تو پوری دنیاایک قیدخانہ بن چکا ہے۔ہر سو موت کا عالم چھایا ہوا ہے۔دنیا کے تمام ممالک اس دوڈ میں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح اس وبائی بیماری سے چٹکارا پایا جائے۔

لوگ اپنے گھروں میں قید ہوئے ہیں۔کوئی بھی اپنے گھر سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں کر رہا ہے۔کاروباری ادارے،فیکٹریاں، گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئے ہیں۔اس قید(LOCKDOWN) کی وجہ سے ایک غریب طبقہ بہت متاثر ہوا ہے۔جو شخص دن کو کماتا اور شام کو اپنے اہل و عیال کو کھلاتا تھا آج وہی شخص لوگوں کے سامنے ہاتھ پھلانے کے لیے مجبور ہے ۔ہوسکتا ہے کہ ان کے بچے بھوکے ہی سوتے ہو۔ان مشکل حالات میں ہمیں ان جیسے لوگوں کی مدد کے لیے سامنے آنا ہوگا۔

الحمد اللہ! بہت سے لوگ اس مشکل حالات میں ان لوگوں کی مدد کرنے میں مصروف ہیں۔ہمیں یہ کام اللہ کی رضا اور اجر و ثواب کی نیت سے کرنا چاہیے۔افسوس اس بات کا ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہے جن کے کاموں میں ریا صاف نظر آتاہے۔جیسے آپ لوگوں نے بھی ملاحظہ کیا ہوگا کہ پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر وہ اپنے صدقات کی نمائش کر رہے ہیں۔سیلفی اٹھاکر یا ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا سایٹس پر جیسے فیسبک ، واٹس ایپ پر اپلوڈ کرتے ہیں۔ہمارے ملک ، ریاست ، گاوٓںیا محلے میں ایسے بہت سے لوگ ہونگیں جو اس وقت پریشان ہونگیں، جن کو کھانے کے لیے گھر میں کچھ نہیں ہوگا اور خریدنے کے لیے پیسے بھی نہیں ہونگیں۔مگر وہ لوگوں سے مدد لینے کے لیے ڈر رہیں ہیں جس کی وجہ یہی نمائش اور پبلیسٹی ہے۔وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ جو لوگ ہماری ایک ہاتھ سے مدد کریں گے وہی دوسرے ہاتھ سے سیلفی اٹھاکر اس کی پبلیسٹی کریں گے۔انہیں بھوک سے زیادہ تکلیف اس پبلیسٹی سے ہوتی ہیں۔صدقہ دینے سے پہلے یہ ضرور سوچے کہ ہم ان کی مدد کر رہے ہیں یا پبلیسٹی کر کے ان کو معاشرے میںذلیل کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی مدد کرنے کے وقت اخلاص کا ہونا لازمی ہے۔صدقہ اجرو ثواب کی نیت سے کرے ۔اگر اس میں زرہ برابر بھی ریا ہوگا تو یہ نیکی ضائع ہوجائے گی۔اخلاص کے بجائے ایسی مذموم اور فاسدنیت سے نہ صرف یہ نیکی ضائع ہوجاتی اور بندہ اجروثواب سے محروم رہ جاتا بلکہ یہ شدید عذاب الٰہی کا بھی باعث ہے۔

مولانا محمد عابد ندوی ریا کے بارے میں لکھتے ہیں،ــ ـریاکاری ،نام ونمود اور شہرت کاجذبہ، نہاے قبیح عادت اور برے اخلاق وکردار میں سے ہے۔اسلام کی اخلاقی تعلیمات میںاس بات کو بڑی اہمیت دی گئی کہ بندہٓ مومن جو بھی نیک کام کرے وہ اللہ کے لیے کرے،اس کادل اخلاص و للہیت کے جذبے سے معمور ہو،اس کا مقصد عمل صالح سے اللہ کی رضا جوئی اور خوشنودی کا حصول ہو نہ کہ نام و نمود اور لوگوں میں اپنے کو بڑا ظاہر کرنا یا ان کی تعریف اور دنیاوی فائدہ حاصل ہو۔اللہ تعالٰی بڑا بے نیاز ہے،اسے وہ نیکی ہر گزقبول نہیں جس کے کرنے میں بندہ مخلص نہ ہو، ریا کاری ، اخلاص کے منافی اور اس کی ضد ہے۔قرآن پاک میں جابجا ریا کی مذمت بیان ہوئی ہے، اسے باعث عذاب اور نیکی کو ضائع کرنے والا عمل قرار دیا گیا،یعنی جس نیکی میں بھی ریا شامل ہوجائے وہ نیکی ضائع ہوجاتی ہے،اللہ کے یہاں شرف قبولیت نہیں پاتی۔

اللہ تعالٰی فرماتے ہے:
اے ایمان والو! احسان جتاکر اور دل آزاری کر کے اپنی خیرات کو اکارت مت کرو،اس شخص کی مانند جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کیلے خرش کرتا ہے اور اللہ اور روز آخرت پر وہ ایمان نہیںرکھتا، ایسے شخص کی تمثیل یوں ہے کہ ایک چٹان ہو،جس پر کچھ مٹی ہو، پھر اس پر زور کا مینہ پڑے اور وہ اس کو بلکل سپاٹ پتھر چھوڑ جائے۔ان کی کمائی میں سے کچھ بھی ان کے پلے نہیں پڑے گا اور اللہ ناشکروں کو بامراد نہیں کرے گا۔ ( البقرۃ: 264)۔
وہی دوسری طرف صدقہ کرنے والوں کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہے۔

آپﷺ نے فرمایاکہ سات طرح کے آدمی ہوں گے۔جن کو اللہ اس دن اپمے سایہ میں جگہ دیگا ،جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا ،جس میں ایک صدقہ کرنے والا بھی ہے، فرمایا وہ شخص جس نے صدقہ کیا، مگر اتنے پوشیدہ طور پر کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوئی کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔وہ بھی اللہ کے سایے میں ہوگا۔ ( ابو ہررہـؓ: بخاری)

اور قرآن میں اللہ تعالٰی فرماتے ہے: جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں،پھر اپنے اس انفاق کے پیچھے نہ احسان جتاتے، نہ دل آزاری کرتے ، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے اور نہ تو ان کے لیے کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔( البقرۃ: 262)۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com