کیا خدا ہم سے لاتعلق ہے - محمد مشتاق

ایک دوست نے لکھا کہ اتنے ارب کہکشاؤں میں ہماری ملکی وے بس ایک چھوٹی سی کہکشاں ہے، پھر اس میں اتنے ڈھیر سارے ستاروں اور سیاروں میں ہماری زمین ایک چھوٹا سا سیارہ ہے، پھر اس سیارے پر اتنے کروڑ جانداروں میں انسان ہے، تو خدا کو اس انسان کے اچھے یا برے اعمال سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ اسے تنبیہ کےلیے آفتیں لائے؟

میں سمجھتا ہوں کہ ان کی نیت اچھی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ لوگ "تدبیر" کی طرف آئیں اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہ رہ جائیں، اور وہ مریض سے نفرت کے بجاے اس کی بہتری کا سوچیں، وغیرہ وغیرہ۔لیکن (پی کے جیسی فلموں سے ماخوذ) یہ طرزِ استدلال انتہائی خطرناک اور دینی لحاظ سے قطعاً لغو ہے۔دینی لحاظ سے یہ مسلّم ہے کہ اتنے ارب کہکشاؤں میں ایک ملکی وے کے کروڑہا کروڑ سیاروں میں ایک سیارے کے کروڑہا کروڑ جانداروں میں ایک جاندار کو اللہ نے مخاطب کیا اور اس کی طرف اسی کی جنس میں سے کچھ جانداروں کو میڈیم کے طور پر چن کر اپنی پسند و ناپسند ان کے ذریعے بتادی۔ اس نے یہ بھی بتادیا کہ تم شکر کروگے تو میری جانب سے نعمتوں میں اضافے ہوں گے اور ناشکری کروگے تو میری سزا انتہائی شدید ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اللہ تمھیں کوئی خیر دینا چاہے تو کوئی وہ خیر روک نہیں سکتا اور وہ تمھیں کوئی شر پہنچانا چاہے تو اس شر کو تم سے دور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ تم مجھے پکارو، میں تمھاری سنتا ہوں۔

اگر ہمارے دوست کے طرزِ استدلال سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ انسان کو تکبر نہیں کرنا چاہیے؛ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ؛ تو یہ درست ہے۔لیکن اگر اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ خدا نے مشین چلا کر اس میں کچھ قوانین جاری کردیے ہیں اور اب بس وہ مشین کے بند ہونے تک انتظار کرے گا، مداخلت نہیں کرے گا، یا نہیں کرسکتا، یا اسے نہیں کرنا چاہیے، تو یہ الحاد خدا کے وجود سے صاف انکار سے زیادہ خطرناک ہے۔ ایسے خدا کے ماننے یا نہ ماننے سے کیا فرق پڑتا ہے جس کے متعلق میرا تصور یہ ہو کہ وہ اسباب کا پابند ہے؟

مکرر سن لیجیے کہ atheism سے deism زیادہ خطرناک ہے۔اب ایک پیغمری دعا سن لیجیے:اللھم انی اعوذ بک من البرص و الجنون و الجذام و من سیئ الاسقام۔(اے اللہ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں برص سے، جنون سے، جذام سے اور تمام بری بیماریوں سے۔)ایک منٹ: اللہ کی پناہ مانگتا ہوں؟ وہ پناہ دے گا، اگر میں مانگوں؟ اگر اس نے مشین چالو کرکے چھوڑ دی ہے تو پھر دعا کا کیا مطلب؟
ایک اور دعا سن لیجیے:

اللھم انی اسئلک العفو و العافیۃ فی دینی و دنیای و اھلی و مالی۔

(اے اللہ، میں تیری بخشش اور عافیت مانگتا ہوں اپنے دین کے بارے میں، اپنی دنیا کے بارے میں، اپنے خاندان کے بارے میں اور اپنے مال کے بارے میں۔)اگر یہاں صرف عفو کا ذکر ہوتا تو یار لوگ آخرت سے جوڑ لیتے لیکن اس کے بعد عافیت بھی تو طلب کی گئی ہے۔ جو چیز دی ہی نہ جاسکتی ہو، اسے طلب کیسے کیا جاسکتا ہے؟اے اللہ ہمیں سیدھی راہ مسلسل دکھاتے رہنا۔ اھدنا الصراط المستقیم۔

ہاں، یا اللہ، ہماری سنتے رہنا، قبول کرتے رہنا، ہمیں معاف کرتے رہنا، ہمیں شر سے بچاتے رہنا، ہمیں خیر دیتے رہنا، ہمیں اپنی پناہ میں لیتے رہنا، ہمارے لیے ظاہری اسباب و علل کے سلسلے میں مداخلت کرتے رہنا کہ تو ہر چیز پر قادر ہے اور ہم تیرے عاجز بندے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com