کوئی تو ہے نظام ہستی چلارہا ہے وہی خدا ہے - صالحہ نور

شاید زمین بھی اپنے اوپر برپا اس تیزرفتاری سے نالاں تھی.. بھاگم بھاگ زندگی کی شاہراہ پر افراتفری کا شکار اشرف المخلوقات کی شرافت زمانہ کی گردش کا شکار ہوکر اسے سبب تخلیق سے اس حد تک غافل کرچکی تھی کہ انس نادان اپنی تقدیر بزور بازو لکھنے کی کوشش کرنے لگا.اس میراتھن میں سائنس کی سرعت کے کیا کہنے؟؟ کہ زمین کے بعد دیگر سیاروں کی تسخیر کو بے تاب ہورہے تھے.

مظلوموں کی بے بسی..ان کے بڑوں کی مصلحت و بزدلی نے مل کر طاقت وروں کی ایسی سلطنت بنائی جس کے آگے سب سر بسجود ہوگئے..اپنا مفاد اتناعزیز کہ اس کے آگے انسانیت ہیچ.. جس دنیا میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ بھوکے مررہے ہیں وہاں ہر ملک کا اربوں کھربوں کا دفاعی بجٹ.. کمزور طبقہ بے روزگاری سے مرے یا بھوک سے لقمہ اجل بنے کوئی فرق نہیں پڑتا سپر پاور گیم چلتا رہے.. یمن کے بھوک سے بلکتے بچے.. شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے تڑپتے لوگ.. چین کے کیمپس میں سسکتے مسلمان..بنئے کی سفاکیت کا شکار کشمیر....احباب واغیار کی چیرہ دستیوں کا شکار فلسطین افغانستان وعراق جو عالمی استعمار کے لئے ایندھن کی حیثیت اختیار کرگئے تھے... ٹیبل پر بیٹھ کر بزعم خود اقوام عالم کے مستقبل کے فیصلے کرتے سپر پاورز قطعی فراموش کرچکے تھے کہ کوئ تو ہے جو نظام ہستی چلارہا ہے.

دنیا کے گرد گھومنے کے بعد ذرا افراد کی طرف نظر دوڑاتے ہیں.. جن افراد کے ہاتھ میں اقوام کی تقدیر تھی.. اور ہم میں سے ہر ایک جس کو ملت کا ستارہ بننا تھا ہم کہاں ہیں... ذات وشخصیت ..۔..قوم واجتماعیت..کسی بھی حیثیت میں بطور انسان مسلمان ہم تو کہیں بھی نہیں.. ہر طرف دولت وبزنس... لوٹ مار ....حق تلفی... ایک دوسرے سے مقابلہ بازی ..آپس کے تعلقات کو دیمک کی طرح تباہ کرتا حسد..ظلم وناانصافی.... کا ایسا جمگھٹا لگا کہ اس کے ازدحام میں ہم خود کو کھو بیٹھے.... ایک عام سے بندے کے پاس بھی اپنے لئے وقت نہیں.. کہ کہیں رک گئے تو دنیا کی فریبی ٹرین نہ چھوٹ جائے... سب ایک بے نتیجہ جلد بازی میں اس طرح ریس میں لگے ہوئے کہ فرائض نظر انداز.. حقوق غصب کرنا کسی کی حق تلفی.. دل توڑنا.. ناراض کر دینا ..جیسے شعور واحساسات تو لایعنی ہوگئے کہ کس کے پاس اتنی فرصت کہ وہ اپنا محاسبہ کرتاپھرے...

فرصت نہیں یا ہمارے پاس وقت نہیں کے عنوان کے تحت کئے گئے عالمی اقدامات ہو یا شخصی فیصلے.. ہر دو نے اس دنیا کی گٹھن کو اتنا بڑھایا کہ بلاخر قدرت کی الارمنگ بیل بج اٹھی..... رک جاؤ... بس..... بہت ہوگیا...اب ۔گھروں میں محصور پوری دنیا کے پاس وقت ہی وقت ہے... رب نے ایک نادیدہ وائرس کے ذریعے جھنجوڑا تو زندگی کی وہ تیزرفتار ٹرین بھی ایسے رکی کہ جس کے لئے رب کو بھلابیٹھے اسی دنیا میں بقاء کے لالے پڑگئے... خود ساختہ افراتفری سے نجات ملی تو سمجھ آیا کہ ہم تو مقصد حیات ہی فراموش کر بیٹھے. اصل تو اطاعت وعبادت خالق ہے بھروسہ کے بغیر تو ایک معمولی افسر بھی کسی کو ساتھ نہیں بٹھاتا.

ہروردگار ہم کیسے بھٹکے کہ ہمارا تجھ پر یقین ہی متزلزل ہوگیا .انسان یہی سمجھتا رہا کہ میں ہی کررہا ہوں اور مجھے ہی سنبھالنا ہے.استغفرک یا رب.... الہی ہم تیرے ضعیف وگنہگار بندے اس وباء کو ہم سے اور ہمیں اس وباء سے دوکردے اور ہماری زندگیوں کو پروردگار اپنی رضا کے سانچے میں ڈال دیجئے. ۔.وتب علینا انك انت التواب الرحيم

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com