فتوؤں کے تاج محل - افشاں نوید

دوھفتہ قبل بروز جمعہ ہم ٹرین کے سفر میں تھے۔ٹرین جس گاؤں دیہات,شہر کے سامنے سے گزرتی بہت روح پرور مناظر, گاؤں دیہاتوں میں بھی اسی طرح جمعہ کا اھتمام۔اجلے لباس,سفید ٹوپیاں,گلی محلہ میں رونق,پھلوں کے ٹھیلے,ایک میلہ کی سی رونق لگی ہر طرف۔جی خوش ہوا مسلمانوں کی چھوٹی عید ہے جمعہ۔

آپ بیمار ہوتے ہیں کمر میں درد۔بالفرض آپ کا ڈاکٹر ھندو ہے وہ کہتا ہے آپ جھک نہیں سکتے مسلز کو مزید خطرہ ہے۔آپ نماز اشاروں سے پڑھیں۔آپ گھر آکر ہرگز کسی مفتی کو کال نہیں کرتے۔نہ گھر کا کوئی فرد کہتا ہے کہ اسلام دشمنی ہے ابا,اپنے ایمان کی فکر کریں۔آپ کو یہ یقین ہے کہ ڈاکٹر مذھبی عقائد سے قطع نظر آپ کا خیر خواہ ہے۔ ڈاکٹرز ہمیشہ خیر خواہ ہوتے ہیں۔اگر وہ کہہ رہے ہیں کہ موذی وائرس سوشل انٹرایکش سے پھیلتا ہے تو اس میں ڈاکٹر کا نہیں ہمارا فائدہ ہے۔

یہ ہماری اجتماعی دانش کی لازوال مثال ہے کہ دوروز سے پورا میڈیا لگا پڑا ہے کہ جمعہ کی اجتماعی نماز ہو یا نہ ہو۔اس طرح مسجدیں ویران ہونا عذاب کو دعوت دینا ہے۔بعض اھل علم دلیل لارہے ہیں کہ حالت جنگ میں جب جماعت ساقط نہیں ہوئی تو یہ بھی حالت جنگ ہے۔جہاں قرآن میں یہ حکم ہے کہ میدان جنگ میں جماعت ہو وہاں یہ حکم بھی ہے کہ ایک گروہ نماز پڑھے اور ایک حفاظت کے لیے کھڑا رہے۔باوجود اس کے کہ اللہ کے نبی ﷺ درمیان میں موجود ہیں یہ نہیں کہاگیا کہ تمام کی تمام فوج سجدے میں چلی جائے,اللہ کفار کی آنکھوں میں دھول جھونک دیگا۔وہاں بھی کہا گیا کہ حفاظت تمہیں"خود"ہی کرنی ہے۔واضح رہے کہ اسوقت فضائی حملہ کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔مقابلہ تلواروں اور نیزوں کا تھا,انسانی جسم کو دوسرے انسانی جسم سے کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔

سو انتہائی احتیاط یہی ٹہری کہ ایک گروہ تلواريں سونتے چوکس رہے ایک نماز ادا کرلے۔مقصد رھتی دنیا تک امت کو یہ سبق دینا تھا کہ نماز میدان جنگ میں بھی معاف نہیں ہے۔ہماری قوم کو ہر ایشو پر دو فرقوں میں تقسیم کردینا نان ایشوز کی سیاست ہی میڈیا کا بھرم ہے۔جہاں ھدایات ڈاکٹر سے لینا ہوں کیا ہم علماء کے پاس جاتے ہیں۔معاملہ اجتماعی صحت کا ہے۔ہم جتنا مضطرب اس بات پر ہیں کہ جمعہ کو مسجد کی ویرانی ہمارے اعمال سیاہ کے باعث ہے۔اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ فجر میں مسجدیں خالی نہ ہوتیں تو شائد ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔خانہ خدا کا طواف نہ ہونا ہمیں جتنا مغموم کررہا ہے اس غم کا کوئی اظہار اس وقت بھی ہونا چاہیئے جب محلہ کی مسجدیں خالی ہوتی ہیں۔کعبة اللہ سے ہماری جذباتی وابستگی ہمارے ایمان کا حصہ ہے لیکن ہم سے اسکا جواب نہیں طلب کیا جائے گا۔

فکر انگیزی اس بات پر ہونا چاہیئے کہ محلہ کی مسجد میں ھمارے گھر کےمرد دن میں کتنی بار تکبیر اولی شریک ہوتے تھے۔جو مسجد دن میں پانچ بار حی علی الفلاح پکارتی تھی وہاں صرف رمضان میں حاضری کیوں لگوائی جاتی تھی؟؟سوچنے کی اور بھی بہت سی باتیں ہیں۔دنیا کے اہل دانش سوچ رہے ہیں کہ کرونا کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی۔گرتی معیشتوں کو کیسے سنبھالا جائے گا۔آئندہ وائرس کے حملوں سے بچنے کے لیے انسانی جسم کے نظام مدافعت کو کیسے مضبوط بنایا جائے۔

تاریخ کا المیہ یہ کہ کوئی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتا۔آج ہم کف افسوس ملتے ہیں کہ جب دنیا یونیورسٹیاں بنا رہی تھی ہم تاج محل بنانے میں لگے ہوۓ تھے۔آنے والا مورخ لکھے گا کہ جب یورپ نئی ویکسین,فضائی آلودگی کم کرنے,انسانی جان کی حفاظت ,وائرس سے لڑنے کے لیے مدافعتی نظام کی اھلیت بڑھانے پر سر جوڑے بیٹھا تھا مسلمان فتووں کے تاج محل بنا رہے تھے کہ جمعہ گھر میں پڑھیں یا مسجد میں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com