شيخ نبيل علي العوضي کا پیغام ،آپ کے نام - محمد سلیم

نبیل العوضی کویتی خطیب ہیں۔ کویت سے ریاضی میں گریجوایٹ ہیں۔ برطانیہ سے ایجوکیشنل ٹریننگ سسٹم میں ماسٹر ہیں۔ خطیب ہیں، صحافی ہیں، مبلغ ہیں، ٹی وی پروگراموں میں اپنے بیانات میں قصے سnانے کی وجہ سے منفرد شہرت رکھتے ہیں۔

برطانیہ میں نو مسلم لوگوں کی راہبری کے قائم ایک ادارے کے مالک ہیں، طریق الایمان سائٹ کے مالک ہیں، دنیا بھر میں پسندیدہ ہیں اور اپنا خاص مقام رکھتے ہیں۔ کویت حکومتی پالیسی پر اختلافی تقریر کی بناء پر 2014 میں نیشنیلیٹی سے محروم ہو گئے۔ کویت کے وفادار اور کویت میں ثابت قدم رہے حکومت نے 2017 میں نیشنیلیٹی واپس کر دی۔ آپ فرماتے ہیں: سیدنا ایوب علیہ السلام اللہ رب العزت کے بھیجے ہوئے انبیاء میں سے ایک نبی تھے، ان کی مرض کا عرصہ ایک دو دن یا سال دو سال کی بات نہیں پورے سترہ برس پر محیط ایک دردناک قصہ ہے. کیا آپ جانتے ہیں ان کے ساتھ ان سترہ سالوں کی مرض کے دنوں میں کیا کچھ پیش آیا؟

ان کی آل اولاد اور سارے بچے وفات پا گئے، سارا مال و اسباب جاتا رہا، صحت ناگفتہ بہ ہو گئی حتیٰ کہ خود سے کھا پی بھی نہیں سکتے تھے، صرف بیوی کا ساتھ قائم رہا جو انہیں کھلاتی پلاتی اور صاف کرتی تھی۔
پوری دنیا میں آپٔ کا اپنی زوجہ کے سوا کوئی اقارب و دوست نہیں تھا۔ پورے کے پورے مفلوج اور معذور تھے۔ ان سترہ سالوں میں ان کی بیوی باہر سے جا کر کما کر لاتی اور انہیں کھلاتی پلاتی تھیں۔ سیدنا ایوبٔ کے پورے جسم میں اگر کوئی عضو کام کرتا تھا تو بس ان کی زبان تھی جو ہر لمحہ ذکر الٰہی میں مشغول رہتی تھی۔

سیدنا ایوبٔ کی بیوی یومیہ اجرت پر کام کرتی تھی، ان کی روز کی کماتی کا پیسہ روز خرچ ہو جاتا تھا اور پھر ایک ایسا وقت آ گیا جب لوگ ان کی بیوی سے خوف کھانے لگے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ ایوبٔ کی بیماری کو ہمارے گھروں میں پھیلائے گی اور ہمیں بھی بیمار کر دے گی۔ لوگوں نے ان کی گھر والی کو کام دینے سے انکار اور دھکے دینے شروع کر دیئے۔ یہ وہ صدمے کا وقت تھا جب سیدنا ایوبٔ نے لوگوں کے رویئے سے ٹوٹے دل کے ساتھ اللہ پاک سے گڑگڑا کر التجا کرتے ہوئے دعا کی:

أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ

"مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے"

نبیل الوضی کہتے ہیں: میری اٹلی، سپین اور ہر اس ملک میں جہاں جہاں آجکل کی یہ مرض پھوٹ پڑی ہے کے مقیمین سے گزارش ہے کہ اللہ رب العزت سے سیدنا ایوب علیہ السلام کی اس دعا (أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ) کو معمول بنا کر پڑھنا نہ بھولیئے۔ اللہ رب العزت آپ کی بیماریاں دور فرمائیں گے اور آپ کو ہر ابتلاء سے محفوظ کر دیں گے۔ ان شاء اللہ ۔

قرآن پاک میں اللہ رب العزت اس واقعے کو یوں بیان فرماتے ہیں:

{ اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ"مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے" ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور جو تکلیف اُسے تھی اس کو دُور کر دیا، اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے، اپنی خاص رحمت کے طور پر، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے۔ سورة الأنبياء - 83-84)) }

وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ﴿٨٣﴾ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ ۖ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ ﴿٨٤﴾

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com