ذخیرہ اندوزوں سے نرمی کیوں - حبیب الرحمن

تازہ ترین خبروں کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ "ذخیرہ اندوزوں سے کہہ رہا ہوں نرمی سے کہی جانے والی بات مان لیں، اگرایسا نہ کیا گیا تو پھر نرمی نہیں سختی ہوگی نیز یہ کہ تمام ادارے ہر طرح سے تیار رہیں"۔

عمران خان صاحب یہ بات پہلی مرتبہ نہیں کہہ رہے بلکہ "میں نہیں چھوڑونگا" کی طرح اب وہ "نہیں چھوڑونگا" کو چھوڑ چھاڑ کر ذخیرہ اندوزوں کو وارننگ پر وارننگ دیئے جا رہے ہیں لیکن کسی کے خلاف بھی کسی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لا رہے ہیں۔چند ماہ قبل بھی ملک میں چند ضروری اشیا کا شدید بحران پیدا ہوا تھا اور وقت نے ثابت کیا تھا کہ وہ بحران مصنوعی اور پیدا کر دہ تھا۔ وزیر اعظم نے فوری طور پر اس کی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی تھی اور تاریخ میں پہلی بار کسی تحقیقاتی ٹیم نے برق رفتاری کے ساتھ اپنی رپورٹ کو مکمل کر کے وزیر اعظم کی میز پر لا کر رکھ دیا تھا۔ کسی تحقیقاتی ٹیم کو کوئی ہدف دینا اور ٹیم کا اتنی جلدی اور درست رپورٹ مکمل کرکے ملک کے حاکم کے حولے کر دینا ایک ایسا کارنامہ تھا جو تاریخ پاکستان میں کبھی ہوا ہی نہیں۔

مجھے یقین ہے کہ پاکستان کی تاریخ لکھنے والا مورخ اس کارنامے کو یقیناً جلی حرفوں سے لکھے گا لیکن اس کے بعد جو رد عمل اس رپورٹ پر آنا تھا اس کو بھی نہایت "سیاہ" لفظوں میں لکھنے پر اس لئے مجبور ہو جائے گا کہ وہ رپورٹ میز کی اُپری سطح سے اٹھا کر میز کی دراز میں ڈال دینے کے بعد اس پر اتنا مضبوط اور بڑا تالا لگا دیا گیا کہ وہ کم از کم موجودہ حکومت کے دور میں تو توڑا ہی نہیں جا سکتا البتہ بعد میں آنے والے یا تو کسی حاکم کیلئے "چاندی" بن جائے گا یا پھر کسی مؤرخ کے ہاتھوں میں آکر سیکڑوں برس بعد کسی "پاکستانی" کے ہاتھ لگ کر اس وقت کی کسی اور رنگ کی تارخ رقم کر رہا ہوگا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں چند ماہ قبل جن اشیا کا ایک دم بحران پیدا ہو گیا تھا، ان کی قیمتیں فرش سے اٹھ کر آسمان تک جا پہنچیں تھیں اور اتنا بڑا قومی جرم کرنے والوں کی ملوں، کارخانوں اور ناموں کے ساتھ مکمل رپورٹ حاکم وقت کی میز تک پہنچا دی گئی تھی تو پھر حاکمِ وقت نے ان قومی مجرموں کے ساتھ "نرمی" کا سلوک کس بنیاد پر کیا اور ان کے قومی جرم پر اب تک اپنے ہونٹوں کو کیوں سی کر رکھا ہوا ہے۔ اگر ان باتوں پر غور کیا جائے تو حاکم وقت پر کئی سنگین الزامات آ سکتے ہیں جس میں ذخیرہ اندوزوں سے قربت کا ایسا الزام ہے جس کی تردید شاید کوئی ایک بھی صاحب عقل و ہوش نہ کر سکے اور خود وزیر اعظم بھی صدقِ دل کے ساتھ اپنی صفائی پیش نہ کر سکیں اس لئے کہ وہ اپنی پریس کانفرنسوں اور قوم سے خطابات کے دوران صاف صاف اس بات کا اقرار کرتے نظر آئے کہ میں ایسے تمام ذخیرہ اندوزوں کے نام جانتا ہوں لیکن ان کے نام سامنے لانا نہیں چاہتا۔ یہی تو وہ سوال ہے کہ سارے قومی مجرموں کو ایک حاکم نام بنام جاننے کا اقراری بھی ہو پھر بھی نہ تو ان کے ناموں کو سامنے لانا چاہتا ہو اور نہ ہی ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا چاہتا ہو تو پھر اس بات کا کیا مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے۔

دنیا کے ہر ملک کے قانون میں ہر ایسا فرد، خواہ وہ ایک معمولی سا شہری ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ کسی مجرم کو جاننے اور اس کے ٹھکانے کی خبر رکھنے کے باوجود قانون نافذ کرنے والوں سے چھپائے یا تعاون نہ کرے تو وہ اصل میں اسی جرم کا ارتکاب کر رہا ہوتا ہے جو جرم اصل مجرم کر چکا ہوتا ہے اور ایسے ہی فرد کو "سہولت کار" کہا جاتا ہے۔ یہ بات تو ایک عام شہری کی ہے لیکن اگر وقت کا حاکم "قومی" مجرموں کی سیاہ کاری سے باخبر بھی ہو اور ان کے نام بھی خوب اچھی طرح جانتا ہو لیکن ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریزاں ہو تو پھر اس کو جرم کے کس درجے پر فائذ تصور کیا جائے گا؟۔

بات یہیں پر آکر ہی ختم ہو رہی ہوتی تو شاید کسی حد تک قابلِ قبول ہو جاتی لیکن پھر ہوا یوں کہ اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی سے قبل جو ان کی قیمتیں تھیں اور بازار میں مصنوعی قلت کے نتیجے میں جس انداز میں ان کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، ذخیرہ اندوزوں کی خبر ہو جانے اور اشیا کا وافر مقدار میں بازار میں پہنچ جانے کے باوجود نہ صرف ان اشیا کو سابقہ قیمتوں پر فروخت ہونا چاہیے تھا، عام بازار میں ان کو بڑھی ہوئی قیمتوں پر فروخت کیا جاتا رہا بلکہ حکومت نے اپنے یوٹیلیٹی اسٹورز پر بھی "بڑھ" جانے والی قیمت کو بر قرار رکھا اور آج تک وہ عام مارکیٹ اور حکومت کے اپنے اسٹوروں پر بھی سابقہ قیمتوں میں فروخت نہیں کی جا رہیں۔

جب حکومت کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے اچانک بحران کی وجہ بھی علم میں آگئی تھی، جب حکومت جان چکی تھی کی ایسا سب کچھ ذخیرہ اندوزی کے نتیجے میں ہوا، جب حکومت کو پتا چل چکا تھا کہ اس قومی جرم میں کون کون شریک ہیں اور جب ان کی میز تک پہنچنے والی رپورٹ چیخ چیخ کر سارے راز آشکار کر رہی تھی تو ایسے مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں کیوں نہ لائی گئی اور وہی بڑھی ہوئی قیمت سرکاری سطح پر کیوں تسلیم کر لی گئی؟۔ یہ ہیں وہ سوالات جن کا جواب قوم کا بچہ بچہ پوچھنے کا حق رکھتا ہے اور وزیر اعظم کو اس بات کا جواب بہر صورت دینا چاہیے تاکہ دل و دماغ میں جو ابہام پیدا ہونے کا خدشہ ہے وہ دور ہو سکیں۔

کل کی تازہ ترین خبر کے مطابق وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر اسی بات کا اعادہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ پاکستان کے جتنے بھی قومی مجرم یعنی ذخیرہ اندوز ہیں اگر انھوں نے "نرمی" سے نہ مانا تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ماضی قریب میں جس قومی جرم کا ذخیرہ اندوز ارتکاب کر چکے ہیں، قوم کی کھال جس انداز میں وہ سب نہایت بیدردی کے ساتھ کھینچ چکے ہیں اور جن کے جرائم کی تحقیات کے نتیجے میں ان سب کے نام آپ کے علم میں آ چکے ہیں تو ان کے خلاف اب تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جا سکی اور اب جو آپ ان کو متنبہ کر رہے ہیں کہ وہ نرمی کی زبان سمجھ لیں تو جب وہ پہلے نہیں ڈرے تھے تو آپ نے یہ کیسے خیال کر لیا کہ وہ سب سیاہ و پتھر دل اب قانون کے خوف سے موم کی طرح پگھل جائیں گے۔

ان سارے پہلوؤں کو اگر سامنے رکھا جائے تو ہمیں کوئی نہ کوئی تو ایسی وجہ نظر آئے گی جو ایسے تمام قومی مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچانے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہوگی۔ ان کے ہاتھ میں کوئی تو ایسا تعویز ہوگا جو ان کے گلوں تک قانون کا طوق نہیں جانے دیتا ہوگا اور کوئی نہ کوئی تو ایسی رکاوٹ ہوگی جو قانون کو ان کے خلاف حرکت میں آنے سے روک رہی ہوگی۔وزیر اعظم صاحب! اس میں کوئی شک نہیں کہ ابھی تک پاکستان میں کوئی ایک ادارہ، جماعت، محقق یہاں تک کہ آپ کا بد ترین مخالف تک یہ بات کہنے، یہاں تک کہ سوچنے تک کیلئے تیار نہیں کہ ملک کی دولت کی خرد برد کرنے کے معاملے میں آپ بد نیت ہیں۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ جس کا کردار بدعنوانی و بد نیتی سے تو پاک ہو لیکن وہ بدعنوانوں (علاوہ سیاسی مخالفین) کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہو تو اس کی ایک ہی وجہ سامنے آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ تخت حکومت پر تو ضرور بیٹھا ہے لیکن "اقتدار" سے محروم ہے۔

اس کی سب سے بڑی دلیل موجودہ حالات ہیں جو آپ کی بے بسی اور لاچارگی کی ساری کہانیاں سنا رہے ہیں اور اس بات کے غماز ہیں کہ اس بحرانی کیفیت سے آپ جس انداز میں نمٹنا چاہ رہے ہیں، اس طرح آپ کو نمردآزما نہیں ہونے دیا جا رہا اور صوبے ہی کیا ادارے بھی آپ کی اجازت کے بغیر اقدامات پر اقدامات اٹھاتے چلے جا رہے ہیں۔ جب صورت حال ایسی ہو تو اس بات پر کیا بھروسہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ ذخیرہ اندوزی کرنے والے تمام مجرموں کے ساتھ کسی قسم کے سخت قانون کو حرکت میں لا سکیں گے۔ جن جن وجوہات کی وجہ سے ان کے خلاف پہلے کسی سخت قدم کو اٹھانے سے آپ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتے رہے ہیں، وہ ساری وجوہات تو نہ صرف اب بھی موجود ہونگی بلکہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ اب اس سے بھی کہیں زیادہ بڑھ کر ہوں۔

اس وقت قوم جس بحران سے گزر رہی ہے ظالموں کیلئے یہی وہ وقت ہے جو ان کی خباثتوں کو اور جِلا بخشے گا اور وہ اپنے شیطانی ذہن کو کام میں لاتے ہوئے چیختے، پیٹتے، روتے، بلکتے اور سسکتے عوام کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کریں گے لہٰذا یہ وقت ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی برتنے کا نہیں، بھر پور اور نہایت بے رحمانہ قدم اٹھانے کا ہے تاکہ آنے والے مشکل اور قیامت خیز وقت میں ایسے درندے اپنی درندگی کا مظاہر نہ کر سکیں۔ امید ہے کہ وزیر اعظم ان سارے قومی مجرموں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے اور قوم کی مشکلات میں اضافہ نہیں ہونے دیں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com