کرونا وائرس19،ایک نئے ’’عمرانی معاہدے‘‘ کی ضرورت -ابرارخٹک

کرونا وائرس کرّہ ٔ ارض پر کشتوں کے پشتے لگا رہا ہے۔یہ خیال پختہ ہورہا تھا کہ وبائیں قصہ ٔ پارینہ بن چکی ہیں ،تاہم اکیسویں صدی کو ترقی کا معراج تصور کرنے والا انسان ،ترقی یافتہ اقوام ،سپر پاورز، سر دست اس وائرس کے سامنے گھٹنےٹیکنے پر مجبور ہیں۔آسمان پکار پکار کر کہہ رہا ہے ’’آج بھی میری ہی بادشاہت ہے‘‘۔

انسانی معاشروں سے اللہ کے نظام کو نفی کرنے والے ،اللہ ہی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ فی الوقت یہ وائرس ناقابل یقین حد تک انسانی کنٹڑول سے باہر ہوچکا ہے اور تاحال علاج اور دو ا کے حوالے سے کوئی حوصلہ افزا پیش رفت سامنے نہیں آئی ۔ عالمی المیہ’’کرونا وائرس ۱۹‘‘ ہمیں ایک نئے زاویہ ٔ نظر سے سوچنے اور عمل کرنے کا موقع فراہم کررہاہے۔ انسان کو انسان کے درد کا احساس کرنے اورانسانیت کی موت پر دکھی ہونے کا وقت ہے۔ تکلیف ، دکھ اور بے بسی کے حوالے سے دنیا اس وقت ایک لحاظ سے ’’ برابر‘‘ ہوچکی ہے۔محفوظ ترین ، غیر محفوظ اورغیر محفوظ ، محفوظ ترین نظر آرہے ہیں،تاہم سب غیر یقینی کے شکار ہیں کہ’’ کسی بھی وقت، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔‘‘

تاریخی کا سبق یہ ہے کہ جنگ و جدل ،ہوس پرستی،توسیع پسندی اور دوسروں کے وسائل پر قبضوں کی روش کی سب سے بڑی قیمت خود انسانیت کو ادا کرنا پڑی ہے۔آج بھی انسان ایک انسان اور قوم دوسری قوم کے لائف سٹائل کی قیمت ادا کرتی نظر آرہی ہے۔ دنیا کے کسی بھی سپرپاور،توسیع پسند ملک کا شہری جب محفوظ و آسودہ زندگی سے لطف اندوز ہورہا ہوتا ہے ،عین اسی وقت دنیا کے کسی دوسرے خطے میں کوئی شخص،خاندان،معاشرہ،قوم بھوک،پیاس،موت اور بے بسی کی صورت میں اس کی قیمت ادا کررہی ہوتی ہے۔امن ،مساوات اور انسانی قدرو قیمت کے معیارات دوغلے پن کے شکار ہیں۔عالمی معاشی پالیسیوں کوانسانی صحت،غذا،تعلیم و ترقی سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پوری شد و مد سے سامنے آرہی ہے ۔

سائنس و ٹیکنالوجی کا منفی استعمال،چاہے وہ فطرت کے خلاف ہو یا انسان،چرند ، پرند،نباتات وجمادات کے ،اسے مثبت سمت دے کر انسان کی حقیقی ترقی کی طرف موڑنا وقت کی آواز ہے۔کیا ہی اچھا ہو اگر دنیا میں ’’انسان کو عزت دو‘‘کا نعرہ بلند ہوجائے؟ ایک پائیدار انسانی معاشرے کی تشکیل وقت کا تقاضا ہے۔ مانا کہ محنت کرنے والے کا حق ہے کہ اپنی محنت کا لطف اٹھائے مگر یہ لطف کسی دوسرے کے جزبات،وسائل و معدنیات پر قبضے کی صورت میں نہ ہو۔وسائل کی بہتات کے شکار اور دوسروں کے لیے مسائل کی ایجاد کرنے والوں کو سوچنا ہوگا کہ قدرت کا انتقام عجب ہوتا ہے۔دوسروں سے چھینا ہوا نوالہ ،پھر آپ کا بھی نہیں بنتا۔ قدرت اپنے فیصلے یوں ہی صادر کیا کرتی ہے۔ دنیا سے غیر انسانی پابندیوں کا تصور ختم کیا جائے اوراس کی بنیاد ذاتی مفادات ،پسند و ناپسند پرنہ ہو بلکہ انسانی زندگی کو عالمگیر اصولوں کے تناظر میں اہمیت دینے پر ہو۔ عالمگیر انسانی معاشرے کی ایسی تشکیل جس کی جھلک شیخ سعدی کے ان اشعار میں ملتی ہے:

بنی آدم اعضائے یک دیگرند کہ در آفرینش ز یک جوہرند

چو عضو بدرد آورد روزگار دگر عضو ہا رانماند قرار

تو کز محنت دیگراں بے غمی نہ شاید کہ نامت دہند آد می

(ابن آدم ایک جسم کے مختلف اعضا کی مانند ہیں،کیونکہ یہ سب ایک جوہر(مٹی) سے بنائے گئے ہیں۔اگر حالات کی گردش کی وجہ سے کوئی ایک عضو تکلیف محسوس کرے ،تو پورا جسم بے چینی و تکلیف محسوس کرتا ہے۔ اگر تم دوسروں کی تکلیف اور درد سے خود کو بے نیاز یا بے فکر رکھتے ہو توپھر تم اس قابل ہی نہیں کہ تمھیں انسان کہاجائے۔‘‘امن و آشتی،بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا،تصفیہ طلب مسائل کو عوامی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے لیے سنجیدہ اور پرخلوص کوششیں کرنا،تعصب،بد نیتی ،حسد،ظلم،جبرواستبداد کے جذبات کو خیر سگالی،عفو و درگزر،باہمی احترام کی طرف موڑنا۔سائنس اور وسائل کی ترقی کو انسانی ترقی ،فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنا ۔

عالمگیر اخوت و بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کے لیے ماحول ساز گار بنانا اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا انسانی معاشرہ تشکیل دینا جو حقیقی معنوں میں عدل کی بنیاد پر ہو، اس کے لیے ایک نیا ’’ عمرانی معاہد ہ‘‘ ’’کرونا وائرس۱۹‘‘کا تقاضا ہے۔دنیا کو اس کے لیے آمادہ کرکے،حقیقی عمل درآمد کروانا ا قوام متحدہ کے لیے سب سے بڑا چیلنچ ہے،وگرنہ پھر خود انسانیت کو آگے بڑھنا ہوگا!!۔۔۔۔۔۔؟
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی اٹھو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com