آخری تنبیہ -عبدالعزیز غوری

انسانوں کی اکثریت یہ تسلیم کر چکی ہے کہ یہ دنیا فانی ہے.... جس کا اول ہے اس کا آخر بھی ہونا لازم ہے. ہر ابتداء کی انتہا ہے.ایک وقت تھا جب انسان یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھا کہ قیامت آئے گی.مرنے والے انسانوں کو زندہ کیا جائے گا.... جو کچھ وہ اس دنیا میں کرکے جائیں گے اسکا حساب دینا ہوگا.اور اس پر جزا و سزا ہوگی.

قرآن حکیم میں گمراہ اور عذاب رسیدہ قوموں کا تذکرہ بڑی تفصیل سے آیا ہے.قوموں کے عروج و زوال، خوشحالی و بربادی، ظلم و سرکشی، اور داعیان حق کے ساتھ انکی بدسلوکی کے تذکرے بھی ملتے ہیں.دنیا کے ہر مذہب میں قیامت کا تصور موجود ہے اور عقل سلیم بھی تسلیم کرتی ہے کہ قیامت کا ہونا ناگزیر ہے کیونکہ اگر دنیا کے منصوبے میں آخرت نہ ہوتا تو دنیا میں انسان کا نزول کارِ عبث ہوتا مگر خدا کی قدرت اور حکمت سے یہ بعید تر ہے کہ وہ کوئی بھی بے مقصد کام کرے.اگر جزا و سزا کا یہ نظام نہ ہوتا تو کبھی بھی کسی ظالم وجابر انسان کو اس کے جرم کی سزا نہیں ملتی اور سچائی کے علمبرداروں جنہوں نے دنیا میں قیام حق کے لیے بیش بہا قربانیاں دیں، پھانسیوں پر لٹکائے گئے، جلاوطن کئے گئے، جیلوں میں ڈالےگئے ان کے سروں کو آروں سے چیرا گیا، زندہ زمین میں گاڑ دیا گیا، ان کو انگاروں پر لٹایا گیا، تپتی ہوئی زمین پر گھسیٹا گیا، ان کے گھر بار جلائے گئے، بھوکا پیاسا رکھا گیا.

تو ان کی جزا کا بھی کوئی نہ کوئی دن ہونا چاہیے تھا تو قیامت کا دن ہی وہ دن ہوگا.ہر ظالم سے ظلم کا بدلہ چکایا جائے گا، مظلوم کی داد رسی کی جائے گی، دنیا کا قانون ظالم کو بچا سکتا ہےمگر اس دن نہیں. ..
آخرت کے تصور، آخرت پر ایمان ویقین ہی سے انسان انسانوں پر ظلم و زیادتی سے باز رہ سکتا ہے. دنیا کی تیز رفتار گاڑی میں اگر آخرت کا بریک نہ ہو تو اس کا ٹکرانا یقینی ہے. انسانیت کی گاڑی بار بار ہولناک حادثات سے تباہ ہوتی رہی ہے مگر پھر بھی انسان آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتا ہے مسلمان دنیا کے فریب میں آ کر آخرت کو بھلا بیٹھے.دنیا کی ہر قوم نے مذہب سے فائدہ اٹھایا اور اسے اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا... دنیا کی جدید قوموں نے جدید نظریات کا پرچار کرکے عوام کو گمراہ کیا.

ہر زمانے میں خدا کے باغی انسانوں نے اپنی طاقت کے نشے میں خدائی کا دعوی کر کے مظلوم و بے سہارا کمزو انسانوں کو اپنا غلام بنایا ہے سماج کے کھاتے پیتے لوگوں نے ہمیشہ خدائی کے دعوے داروں اور بادشاہوں کا ساتھ دیا ہے. غریب مزدوروں، کسانوں کا خون چوسنے والے سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور مذہب کے نام پر انسانوں کو گمراہ کرنے والے اور ان کو لوٹنے والے مذہبی پیشواؤں نے ہر ظالم حکمران کا ساتھ دیا ہے.عوام کا حق حکمرانی چھیننے کیلیے باطل نظریات کو مسلط کرنے کے لیے دولت کا سہارا لے کر ان پر بے پناہ ظلم ڈھایا گیا. ان کو معاشی غلام بنایا گیا. انسانیت کو طبقات میں تقسیم کرکے ان کے درمیان نفرت و عداوت کے بیج بوئے گئے.. مذہب کی مخالفت کی گئی مگر نام نہاد مذہبی پیشواؤں کو ساتھ رکھا گیا.مزدوروں کا نعرہ لگایا گیا مگر سرمایہ داروں کے لئے خزانے کا منہ کھول دیا گیا.

غریب کسانوں کی بات کی مگر ظالم جاگیرداروں کو حکومتوں میں شامل رکھا گیا. مسلم حکمرانوں نے نماز، روزہ، حج اور عمرے کے نام پر عوام کو گمراہ کیا.عیسائیوں نے چرچ میں جا کر.ہندوؤں نے مندروں میں جاکر.... مذہب کے ماننے والوں کو بے وقوف بنایا اور آج بھی بنا رہے ہیں.کل بھارت میں وطنی قومیت اور سیکولرازم بھارت کی ترقی اور بقا کا ضامن تھا دو قومی نظریہ قابل نفرت اور سازش تھا.مگر آج بھارت میں دو قومی نظریہ سر چڑھ کر بول رہا ہے کہ جناح سچا تھا اور گاندھی جھوٹا تھا.آج بھارت کی لادین سیکولر ریاست ہندوازم کی سب سے بڑی ریاست کا روپ دھار چکی ہے.
دنیا کے مذہب بیزارحکمران آسمانی کتابوں اور خدائی رہنمائی کے منکر ہیں. خوف خدا اور فکر آخرت نام کی کوئی چیز ان کے دل و دماغ میں سماں نا سکی. ان لوگوں نے اظہار رائے، مذہبی آزادی، جمہور کی حکمرانی کے پر فریب نعرے دے کر عوام کو ناصرف گمراہ کیا بلکہ انکو سیدھی راہ سے بھٹکایا.

عیش و عشرت، مردوزن کے اختلاط جنسی آوارگی، اور ہم جنس پرستی کے قبیح فعل نے ان کو وحشی جانوروں کی سطح سے بھی گرادیا.ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوگئی.جب سے انسانیت کے ان قاتلوں،جاہ پرستوں،شہوت کے غلاموں،دولت کے پجاریوں اور انسانی اخلاقی قدروں کے منکروں کو حکمرانی کا منصب ملا ہے وہ دنیا کے کمزور بھوکے ننگے بےگھر و بے سروسامان انسانوں کو دوزخ کی جانب دھکیل رہے ہیں.دوزخ کا راستہ انہوں نے ایسا خوشنما بنا دیا ہے کہ عوام کو اپنی عزت، ذلت و بے بسی کا ادراک نہیں رہا. یہی نہیں بلکہ یہ کمزور قوموں پر بھوکے بھیڑیوں کی طرح ٹوٹ پڑے ان کی سونا اگلتی ہوئی زمینوں، لہلہاتے کھیتوں، تیل و گیس کے ذخیروں، آبی گزر گاہوں، معدنیات کے پہاڑوں غرض کہ دوستی اور ترقی کے نام پر انکا سب کچھ لوٹ لیا.

مسلم حکمرانوں کی ان سے اس دوستی نے ان کو اخلاق و کردار، ایمان و ضمیر سے محروم کردیا اور انکو اپنی ہی عوام کی نگاہوں میں ذلیل و رسوا کر دیا.انکی غیرت، حمیت، جرات و بہادری شراب و کباب کی نزر ہوگئ. ان کو اپنا معاشی، سیاسی، تمدنی غلام بنا لیا.دنیا نے سرمایہ دارانہ نظام، نیشنلزم، سیکولرازم، ڈکٹیٹرشپ، ملوکیت اور جمہوریت کی حکومت کا مزہ چکھ لیا.اقوام متحدہ کے نام پر دنیا کے مکار اور ظالم حکمرانوں نے کمزور قوموں کو غلام بنائے رکھنے. ان کے وسائل کی بندر بانٹ کرنے. اوران کو ٹکڑیوں میں تقسیم کرنے کے لیے ایک کلب بنایا تھا جس کے جال میں ساری دنیا کے مظلوم پھنس چکے ہیں. انصاف کا خون کرکے ظالموں کو ویٹو پاور دیا گیا ان کی ہٹ دھرمی، بدمعاشی اور سنگ دلی کی بنا پر کشمیر، فلسطین اور دنیا کے بیشتر کمزور طبقات کو آج تک آزادی نہیں مل سکی.... دنیا میں بھارت و کشمیر کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم پر خاموشی،ان پر قیامت گذر گئی انسانیت منہ چھپا رہی ہے اور ظالم شیطان دندنا رہے ہیں.

بچوں، بوڑھوں، جوانوں، عورتوں کا خون بہہ رہا ہے ارض مقدس کے تقدس کو پامال کیا جارہا ہے..... دنیا خاموش ہے اسکا ضمیر مر چکا ہے اور انسانیت دم توڑ چکی ہے. برما کے مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا دنیا خاموش رہی.مسلم و غیر مسلم حکمران شراب کے نشے میں ڈوبے رہے کسی کی انسانیت نہی جاگی.. افغانستان میں امریکہ بیس سال سے بم برسا رہا ہے، پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کردیا دنیا کی عیاش حکمرانوں کی ظالم اور بدمعاش افواج ان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر تھک چکی ہے لاکھوں مسلمان شہید ہوگئے مگر عرب و عجم کے کان سے جوں تک نہی رینگی.افغانیوں کو جھکانے کی حسرت انکے دل کا روگ اور ان کی آنے والی نسلوں کے لیے ذلت و نامرادی کا نشان بن گئ. افغان باقی کہسار باقی.دنیا ظالم کے ساتھ کھڑی ہے.توہینِ رسالت ہو، اسلام و قرآن کی بے حرمتی ہو، عافیہ صدیقی کی عزت تار تار ہو، اسرائیل امریکہ اور بھارت کا پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ ہو، اسے مٹانے اور تباہ کرنے کی سازش ہو دنیا خاموش ظالموں نے ہمیشہ ظالم کاساتھ دیا.

کروڑوں انسان ان ظالموں کی لوٹ کھسوٹ کی بنا پر بھوک سےتڑپ تڑپ کر مر گئے ، بچے علاج کے لیے بلک بلک کر روتےرہے، مسلم و غیر مسلم دنیا خاموش.عراق، یمن، شام میں امریکہ کے حواریوں نے جو شیطانی کھیل کھیلا اس پر دنیا کی زبانیں گنگ ہو گئیں.دنیا کی سپر طاقتوں نے کمزور انسانوں کو ہلاک کرنے کے لیے تباہ کن ہتھیار بنا رکھے ہیں... دنیا کے یہ فرعون و نمرود خدائی کے دعویدار اللہ تعالی کی ان دیکھی مخلوق (کرونا) سے اتنا خوفزدہ ہیں کہ دنیا کا پہیہ جام ہوگیا ہے.

اے غافل انسانوں کیا تمہیں عاد و ثمود، مدین و ایکہ والوں کی ہلاکت کی خبر نہی پہنچی. آج دنیا ایک پیج پر نظر آتی ہے. کاش کہ یہ کشمیر و فلسطین کی آزادی، دنیا کے مظلوم مسلمانوں اور عافیہ صدیقی کی رہائی پر متفق ہوتیں.یہ بلا تو اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے ٹل جائے گی مگر اب بھی نا سدھرے تو صفحہ ہستی سے مٹا دیے جاؤگے.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com