ماں جی کے لیے دعا کی اپیل - حسنین قاسمی

کیا آپ ایسی ماں کیلۓ دعا نہیں کریں گے جس نے ایسی شخصیت کو جنم دیا؟ آئیے۔۔ان سے ملیۓ. امید ہے ان سے مل کر آپ کو خوشی ہوگی. یہ امیر جان حقانی صاحب ہیں. یہ ایک شخص نہیں، ایک شخصیت ہیں۔ یہ اگرچہ کسی تعارف کے محتاج نہیں لیکن میں آپ کو ان کا تعارف کراۓ دیتا ہوں.

لیکن بات یہ ہے کہ کن الفاظ میں ان کا تعارف کراؤں۔۔؟ آپ ایک استاد ہیں، لو مدرس رہ گیا، آپ ایک مدرس بھی ہیں ، کالج پروفیسر ہیں ، انتہائی عمدہ کالم نگار ہیں ، اور یہ لیں آپ کی سماجی خدمات کا تذکرہ رہ گیا۔۔۔آپ موٹیویشنل سپیکر ہیں، بہترین ادیب ہیں. حافظ قرآن اور عالم دین ہیں. لیں! آپ کے فن خطابت اور شستہ گفتگو کا موضوع تو آیا ہی نہیں۔۔الغرض یہ کہ مجھ جیسا کمزور و ناتواں طالبعلم آپ جیسی شخصیت کا تعارف کرانے سے قاصر ہے. مختصرا یہ کہ آپ میرے استاد ہیں۔میرے محسن ہیں۔یہی شخصیت ہیں جنہوں نے اس جسم نامی خاکے میں زندگی گزارنے کا ڈھنگ اور سوفٹ ویئر انسٹال کیا اور اس کو رن run کیا۔۔اور یوں ہمارا سسٹم ان کے انسٹال کردہ تربیت پر چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔

مجھے کالج کا دور اور کالج کی کلاسیں تمام تقریبا بھول چکی ہیں سواۓ ان کے جن میں وقت جناب استاد محترم امیر جان حقانی صاحب کے ساتھ گزرا ہے۔میں اپنے تمام دوستوں سے کہتا ہوں کہ استاد جی کی کلاس پولیٹیکل سائینس کی ہوتی تھی لیکن استاد جی نے ان تمام پیریڈز میں ہمیں انسانیت سکھائی اور پولیٹیکل سائینسیز کے اسباق کسی اداس بیوہ کی طرح کلاس کے دروازے کے ساتھ لگ کر اداس اداس پڑے رہے۔استاد جی نے دو سالہ مختصر عرصے میں انسانیت کا وہ سوفٹ ویئر اپنے طالب علموں کے اذہان میں انسٹال کر دیا کہ پولیٹیکل سوشل میڈیکل اور ریسرچ سائینسیز جس کے سامنے ہیچ ہیں.
اولاً استاد کی باتیں سماعتوں سے ٹکراکر واپس ہوتے ہوۓ کلاس کے کسی کونے میں چھپ جاتی تھیں اور آخر کو وہاں سے غائب ہوتی تھیں. میں سمجھتا تھا کہ استاد جی جو کچھ ہمیں بتانے کی کوشش کر رہے ہیں یا تو یہ اس قدر اونچا سبق ہے کہ یہ ہم جیسے کم علم اور کم عقلوں کے دماغ میں بس کر اپنی ذلت برداشت کرنے سے کسی کونے میں ڈوب مرنے پر ترجیح دے رہا یا اس قدر غیر ضروری اور نیچ سبق ہے جس کی طرف ہمارا ذہن متوجہ نہیں ہو رہا۔

لیکن بخدا۔۔۔استاد جی کا وہ سبق تب کارآمد ہوا جب ہم کلاس کے حدود سے نکل کر معاشرے کے حدود میں داخل ہوۓ اور پھر کلاس میں استاد کی وہ گونج جو پہلے ہمارے کانوں سے ٹکراکر کہیں گم ہو جاتی تھیں اب انہیں دیواروں سے ٹکراکر واپس ہمارے کانوں میں آلگنے لگی. امیر جان حقانی کیا ہیں۔۔ان کا سبق کیا تھا۔۔ان کا مشن کیا تھا؟ وہ طلبہ کو کیا سمجھانا چاہتے تھے، ان کا حاصل کیا تھا؟
اب کہیں جاکر سمجھ آجانے لگا۔استاد جی کے نزدیک طلباء کو کوئی بھی سبق پڑھانے کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہ تھی بلکہ استاد جی کا مشن تھا کہ طالب علم سیکھ جائیں۔۔سیکھ جائیں چاہے وہ کچھ بھی سیکھ لیں۔۔پر اچھا سیکھ لیں آپ کی اپنے شاگردوں سے محبت کا حال دیکھ لیجۓ کہ ایک مرتبہ کسی معاملے میں آپ سے مشورہ کرنے کیلۓ کال کیا۔آپ محترم نے کال اٹینڈ کی رسمی سلام دعا کے بعد جب میں نے مشورہ دینے کیلۓ معاملے کا ذکر کرنا چاہا تو کہا کہ آپ مجھ سے کسی فارغ وقت ملاقات کر لیں تفصیلی گفتگو وہاں ہوگی.

مختصرا ایک دو ون بعد ،بعد از نماز عصر جوٹیال میں ریڈیو پاکستان گلگت کے بالکل سامنے ایک ہوٹل کے اوپری منزل پر میری اور استاد محترم کی ملاقات ہوئی۔استاد جی نے ویجیٹیبل سوپ منگوائی جس کی بھینی بھینی خوشبو کمرے کے فضا کو مزید خوشگوار بنارہی تھی. استاد جی کی میٹھی باتیں سوپ کے ہر ہر چمچ کو مزید ذائقوں سے بھر پور بنارہک تھیں۔عصر کے بعد کی یہ نشست طول پکڑ کر عشاء تک چلی گئی اوریوں دیکھتے دیکھتے استاد جی نے اپنی قیمتی اور مصروف زندگی کے تین 3 گھنٹے ایک نکمے طالبعلم کیلۓ وقف کر دیۓ.یہ نشست یہیں ختم نہیں ہوئی۔۔بلکہ ہم جیسوں کو جب بھی کسی قسم کی کوئی ضرورت پڑی استاد جی ایک دوست اور بھائی کی طرح میدان میں کود پڑے۔بارہا رات کو بھی اپنے آفس میں بلوایا اور کام مکمل کر لیا۔۔۔ساتھ یوں برتاؤ کیا جیسے ہمارا بچپن کا یارانہ ہے۔سچ کہوں تو استاد جی ہمارے استاد کم دوست زیادہ رہے۔کلاس میں استاد کے ساتھ ،استاد شاگرد کا تعلق کم اور دوستی کا تعلق زیادہ حاوی رہتا تھا۔۔۔مجھے نہیں یاد استاد جی نے اپنے کسی شاگرد کو نام سے پکارا ہو۔۔۔
کوئی بھی استاد جی کو سامنے سے ملنے آتا تو کہتے "آؤ جی! یہ لو ہمارا دوست آگیا۔۔۔آؤ جی آؤ جی۔"

استاد جی کی اس محبت کا ثمرہ تھا کہ دیگر کلاسس میں 109 کی تعداد میں سے بمشکل 50 یا 55 حاضر ہوتے تھے لیکن مجھے نہیں یاد کہ کبھی استاد جی کی کلاس میں طلبہ کی تعداد 95 سے کم رہی ہو۔۔۔وہ طلباء جو کالج سیر کی غرض سے آتے تھے وہ بھی استاد جی کی کلاس ضرور لیکر گھر جاتے تھے۔کبھی یہ نہیں سنا کہ استاد جی کے کلاس کا رزلٹ اچھا نہیں رہا۔۔۔البتہ یہ ضرور سنا کہ استاد جی کے مضمون میں کوئی بھی فیل نہیں ہوا ہے۔کلاس میں طلبہ کے ساتھ ہنسی مذاق کلاس کی نوعیت کے مطابق کیا کرتے تھے۔۔کلاس میں کل تعداد میں سے اگر ایک چوتھائی کا موڈ بھی پڑھائی کی طرف اگر نہیں ہوتا، تو استاد جی سٹڈیز کا رخ موڑ کر کہیں اور لیکر جاتے تھے اور پھر وہاں سے طلبہ کو سبق کے دائرے میں داخل کر دیتے، تب تک طلباء کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ہم سبق شروع کر چکے ہیں. طلباء اس قدر آپ کی گفتگو میں محو ہوجاتے تھے۔

کالج میں کوئی کانفرنس ہو یا کوئی پروگرام ہو۔۔امیر جان حقانی پہلی صف میں ہوتے تھے اور باقی تمام طلباء آپ کے ساتھ پچھلی صفوں میں پاۓ جاتے تھے۔امیر جان حقانی نے مجھ کو جو سبق سکھایا۔۔وہ میری زندگی کا سبق ہے۔۔انہوں نے مجھے جس مشن پر ڈال دیا۔۔۔میں آج بھی اسی مشن پر گامزن ہوں۔میں انکی زندگی کو کلی طور پربیان کرنے سے قاصر ہوں کہ مجھ جیسے کمزور اور ناتواں شخص کے بس کی بات نہیں۔گو کہ ہم ان کی کلاس سے نکل آۓ اور ان کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کرنے سے رہے۔مگر آج بھی ہم آپ کے شاگردوں کی صف میں شامل ہیں۔۔دل کے کالج میں آج بھی آپ کی کلاس جاری ہے اور یہ رہے گی۔آپ کا سبق ہمیشہ جاری رہے گا۔۔۔آپ سے محبت کا حال یہ ہے کہ آج بھی آپ کو کہیں کسی مارکیٹ، شاپنگ مال کسی روڈ پر گاڑی میں یا پیدل چلتے دیکھتا ہوں تو اپنی جگہ کھڑا ہوکر بالکل فوجی سیلوٹ کرتا ہوں۔۔۔کیونکہ آپ کا یہ حق ہے۔

میں آپ کو سیلوٹ کرتا رہونگا سر۔۔۔میں آپ کا غلام ہوں۔۔غلام آقا کو سلام کرتا رہے گا۔۔۔آپ ہماری اولین دعاؤں میں شامل ہیں۔۔اللہ تعالی آپ کو دنیا و آخرت کی تمام کامیابیاں کامرانیاں نصیب فرماۓ۔۔۔اور ایمان و عمل کے ساتھ عمر دراز نصیب فرماۓ۔۔آپ کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم رکھے .آمین

نوٹ: استاد محترم کی والدہ ماجدہ بیمار ہیں۔آپ سب سے ماں جی کی صحتیابی کیلۓ دعاؤں کی درخواست ہے۔کیا آپ ایسی ماں کیلۓ دعا نہیں کریں گے جس نے ایسی شخصیت کو جنم دیا؟استاد جی کی والدہ ماجدہ بیمار ہے. ان کے تلامذہ سے درخواست ہے کہ اس پوسٹ کو شیئر کر کے استاد جی کے شاگرد ہونے پر فخر کریں۔۔اور ماں جی کے لیے کیجے اللہ انہیں صحت کاملہ دے.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com