کرونا کے کچھ ــــفنی پہلو -تنزیلہ افضل

دوستو آجکل ہر طرف سے کرونا کرونا کی گردان سننے میں آرہی ہے۔جدھر دیکھو کروناکی باتیں ، جدھر رـ ُخ کرو کرونا کے تذکرے۔ لوگ انتہائی خوفزدہ ہیں،یوں معلوم ہوتا ہے گویا کرونا سے پہلے تواس سیّارے پہ کبھی کسی قسم کی بیماری کا وجو د ہی نہیں تھا۔

وہ سارے ممالک جو برسوں سے آپس میں گھتم گتھا تھے اب انتہائی پریشانی میں مبتلا ہیں کہ یہ مشترکہ د شمن آخر آکہاں سے آگیا۔اس سے پہلے توحضرتِ انسان میںکوئی چیز مشترک نہ تھی۔ انتہائی شدت سے اس بات کے منتظر ہیں کہ کب یہ وبا ٹلے اور کب دوبارہ سے آپس میں جنگیں، لڑائیاں ، گولاباریاں اور توُ توُ میں میں شروع کریں ۔وہ لڑکیاں جو کل تک ملتانی مٹی لگاتی تھیں اب روحانی باتیں کرتی نظر آرہی ہیں۔ وہ نوجوان جن کے دن رات نیٹ فلِیکس پہ بسر ہوتے تھے اب انتہائی شدومد سے اپنے آپ سے وعدہ کرتے نظر آرہے ہیں کہ جیسے ہی مسجدیں دوبارہ کھلیں گی وہ ہر صورت پہلی صف کے باجماعت نماریوں میں شامل ہوں گے۔ (البتہ تب تک استغفار کی تسبیحات کے ساتھ ساتھ نیٹ فلیِکس جاری ہے)۔

ایسے میں ہم بھی بہت اُکتائے ہوئے تھے۔ چونکہ ٹیلی ویژن کے ساتھ ہمارا کبھی کوئی قلبی تعلق نہیں رہا تو معمول کے مطابق موبائل پہ بی بی سی ریڈیو لگا لیا۔دوسری طرف سے خبر آرہی تھی کہ بورس جانسن میں بھی کرونا تشخیص ہوا ہے۔ہماری والدہ جو انگریزی سے بالکل نا بلد ہیں آجکل ہم سے پل پل کی خبریں ترجمہ کرواتی ہیں۔ جب بھی کرونا کی نئی اپ ڈیٹ آتی ہے، یا اللہ خیر کی آواز بلند کرتی ہیں۔ ہم نے جب انہیں مختصراًبتایا کہ انگلینڈ کے وزیرِاعظم بورس جانسن اور شہزادہ چارلس میں بھی کرونا تشخیص ہوا ہے تو تھوڑی پریشان ہوئیں، پھر ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں اور انتہائی سنجیدگی سے پوچھنے لگیں : ’’تے ڈرم؟ او تے بچیا ای اے ناں؟‘‘ہم جو انتہائی انہماک سے خبریں سن رہے تھے ، بے اختیار ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئے۔

والدہ صاحبہ ٹرمپ کے متعلق پوچھ رہی تھیں ۔ان سے ٹرمپ کے نام کا تلفظ صحیح سے ادا نہیں ہوتا۔ ابھی کچھ مہینوں پہلے تک وہ ـبدتمیز’’ ٹرنک‘‘ تھا جوپاکستانیوں کا بڑا دشمن تھا۔اب ڈرم بن گیا تھا۔ہمیں ڈر ہے کہ ٹرنک اور ڈرم سے ہوتی ہوئیں کسی دن ٹرالے تک نہ آجائیں ۔والدہ صاحبہ کو سمجھانا پڑے گا کہ ابھی ہم ایسی کسی بھی گستاخی کے مرتکب نہیں ہو سکتے۔ ابھی ہمیں بڑے بھائی سے بہت سی امداد لینی ہے۔

خیر چھوڑئیے ہماری والدہ تو ہمیشہ سے ایسی ہی ہیں۔ کیا کیجیے اس شخص کی صاحبزادی ہیں جو پورے گاؤں میں انتہائی درویش صفت اور بھولے بھالے مشہور تھے۔سادگی اس درجے کی کہ گویا اگر شادی بیاہ کے موقعے پر سلامی دینے کے لئے مروجہ پھولوں کے ڈیزائن والا لفافہ منگوانا ہوتو خط کا لفافہ لے آئیں۔ اب آپ خود سوچیے کہ کونسا دولہا یا دلہن ایسے لفافے میں سلامی لینا پسند فرمائیں گے؟مگر خیر۔

بھولپن ایسا تھا کہ ایک بار اپنے عزیزوں کے گھر تشریف لے گئے ۔ ان لوگوں کا ایک کمسن ضدی بچہ گھر آیا توہمارے نانا جان کواپنی چارپائی پہ بیٹھا دیکھ کر حکم صادر فرمایا :’’اُٹھ میری منجی توں‘‘ (میری چارپائی سے اٹھو)۔ہمارا نانا جان فوراًانتہائی ادب سے یوں کھڑے ہو گئے جیسے کوئی مرید مرشد کا حکم بجا لاتے ہوئے اٹھ جاتا ہے۔گھر والے بیچارے انتہائی حواس باختہ ہو گئے، بچے کو ڈانٹ ڈپٹ کے بھگایااور لالہ جی کو دوبارہ تسلی سے چارپائی پہ بٹھایا۔ لالہ جی بھی ایسے سادہ کہ مستقبل میں اُسی بچے کو اپنا داماد بنانے کا فیصلہ کر لیا۔اس سے آپ کو ہمارے نانا کی سادگی کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ پاکستان میں داماد حضرات کا بچپن سے ہی کیسا رعب دبدبہ ہوتا ہے۔

خیر اب تو لالہ جی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ مگر انکی سادگی سے ہمیں گمان ہے کہ آج اگر زندہ ہوتے اور کوئی کہہ دیتا کہ کرونا پاکستان میں آگیا ہے تو خاموشی سے جاتے اور سوڈے کی بوتل لے آتے، یہ سمجھتے ہوئے کہ انکے بیٹے کو کوئی دوست سعودیہ سے پاکستان آیا ہواہے جواس سے ملنے آرہا ہے۔ دوستوکرونا کرونا کا ایسا ڈھنڈوراپڑا ہوا ہے کہ ہم سوچ رہے تھے کہ جب کوئی شخص یا چیز بہت مشہور ہو جائے تو لوگ اکثر اپنے نوزائیدہ بچوں کے نام اسکے نام پہ رکھ دیتے ہیں مگر ابھی تک کوئی ـننھاکرونا سننے میں نہیں آیا۔۔۔مگرصدشکرکہ اس انسان نامی مخلوق نے ہمیں یہاں بھی نا امید نہیں کیا۔ابھی دو تین روز پہلے ہی اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر آئی تھی کہ انڈیا میں پیدا ہونے والی ایک بچی کا نام اسکے ماں باپ نے کرونا رکھ دیا ہے۔لیجیے کرونا بائی آگئیں۔

ویسے ہم سوچ رہے ہیںکہ وبائیں توگزشتہ ادوار میں بھی پھوٹتی رہی ہیں، نہ جانے کبھی کسی نے اپنے بیٹے کانام ہیضہ خان بھی رکھا کہ نہیں!!مگرخیر یہ کام ہم مورخین پہ چھوڑ تے ہیں۔لیجئے دوستو اب ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں۔ آپ اپنا بہت سا خیال رکھیے گا مگر ایسا نہیں کہ پوری پوری دکان اٹھا کر اپنے گھر وںمیں بھر لیں۔ دیکھیے جو رب آپ کو اب تک رزق دیتارہا اگر اسنے آپکی زندگی لکھ رکھی ہے تو یقیناً بعد میں بھی دے گا ۔

اگر خدانخواستہ ہم لوگوں کو کچھ ہو گیا تو سوچیے لوگ کرونا کے مریضوں کی باقیات سمجھ کر سارا سامان اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔ پھر یہ سب کس کام کا؟ہماری تو یہی دعا ہے کہ کرونا اب خیر سے آہی گیا ہے تو اب خیر سے چلا بھی جائے۔ ڈئیر کرونا ’’مگروں لے‘‘۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com