کرونا وائرس اور کچھ سوالات - وقاص جعفری

علامہ اقبال کی معروف اردو نظم ’’ ابلیس کی مجلس شوریٰ ‘‘ میں ابلیس اپنے مشیروں سے خطاب کرتے ہُوئے کہتا ہے۔

ہر نفس ڈرتا ہُوں اِس اُمت ؔکی بیداری ؔسے مَیں

ہے حقیقت جِس کے دِیں کی احتسابِ کائنات!

شارحِ اقبالؒ مولانا غلام رسول مہرؔ، علاّمہ صاحب کے اِس شعر کا مفہوم بیان کرتے ہُوئے لکھتے ہیں کہ ابلیس، اُمّت مُسلمہ کی بیداری سے خوف زدہ ہے کہ جو ’’احتساب ِ کائنات‘‘( اِنسانوں کے اچھے بُرے اعمال کا جائزہ) کے ذریعہ کسی بھی وقت اصلاح کے ذریعہ اقوام عالم میں اپنے آپ کو منواسکتی ہے۔

کرونا وائرس کے عالمی پھیلاو (outbreak) کے سبب ،پوری دنیا گذشتہ پانچ ھفتوں سے غیر معمولی خوف،حساسیت اور پریشانی کا شکار ھے - معلومات ،مشوروں اور تنبیہات کے انبار اور نہ ختم ھونے والے سلسلہ کو ایک جانب رکھ کر میں یہ تلاش کرنے کی کوشش کر رھا ھوں کہ کیا پاکستان کے طول و عرض میں طبی اداروں،تحقیقی مراکز اور جامعات کے سنٹرز آف ایکسیلنس نے اس خوفناک وبائ مرض کے علاج کے لئے سر جوڑ لئے ھیں۔۔۔۔ !!! محترم وزیر اعظم نے ملک کے نامور سائنسدانوں کا اجلاس طلب کرکے انہیں اس خوفناک مرض کے علاج کے لئے وسائل نہیں تو کم ازکم حوصلہ افزائ اور ہلہ شیری ھی فراھم کر دی ھو۔۔۔۔!

کرونا سے متاثرہ مریضوں اور ان کی اموات کا کاونٹ ڈاون کرنے والا ھشیار وبیدار الیکٹرانک میڈیا ھی وزارت سائیس و ٹیکنالوجی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ(NIH) سے پوچھ کر بتا دے کہ منہ ڈھانپنے اور ہاتھ دھونے کے مشوروں سے آگے بڑھ کر ھمارے طبی و تحقیقی ادارے کوئ خدمت انجام دے رھے ھیں کہ نہیں- کسی نے بہت ھی تیر مارلیا تو یہ کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے لے کر فیس بک پر متحرک ماہرین ھمیں ارزاں اور فوری سینی ٹائزر بنانے کی خوشخبری سنارھے ھیں - اس نقار خانے میں اگر زیادہ سے زیادہ کوئ آواز پڑتی دکھائی دیتی ھے تو بس یہ کہ کتنے دیہاڑی دار مزدوروں کو غذائی پیکج فراھم کیا جا رھا ھے،ھر ادارہ اور فرد آٹے کے توڑےاور غذائی اجناس کے تھیلے لئے ملک کے طول و عرض میں سرگرداں ھے -بلاشبہ وہ سب ادارے اور افراد ھمارے محسن ھیں جو غیر معمولی ایثار اور انفاق کے ساتھ لاکھوں ٹوٹے دلوں کا درماں بن رھے ہیں۔

مگر وہ وقت کب آئے گا جب ھماری،ریاست،ادارے،حکومت ایسے کسی بڑے سانحہ اور حادثے کے بعد ایک نئی اوپننگ کے ساتھ زمانہ امن میں ھی war footing پر کام شروع کریں گے- 1992 کا سیلاب ،2005 کا زلزلہ،آپریشن ضرب عضب اور اب COVID-19 ھمارے سامنے یہ سوال رکھ دیتا ھے کہ ایرا سے لیکر پی ڈی ایم اے اور مرکزی گورنمنٹ سے لیکر صوبائ حکومتوں تک(ضلعی حکومتوں کا تو خیر ذکر ھی کیا۔۔۔۔۔)،ھلال احمر سے لے کر شہری دفاع تک کا اب یہی کام رہ گیا ھے کہ وہ اپنی استعداد بڑھانے کے بجائے اس بات کہ انتظار کریں کہ کون سا عالمی ادارہ کب ھمارے لئے کتنی امداد کا اعلان کر رھا ھے اور اور اس عالمی انسانی آفت کو ھم اپنے قرضوں میں کمی اور ریزروز میں اضافہ کا عنوان کیسےبناسکیں گے۔۔۔!!! رھا انسان اور زندگیوں کا تحفظ ،تو وہ ھمارے امن کے دنوں کی ترجیح نہ بن سکا تو سانحوں میں تو ویسے بھی ھمارے اعصاب شل ہوجاتے ہیں۔

فطرت افراد سے اغماض تو کرلیتی ھے
نہیں کرتی کبھی ملت کے گناہوں کو معاف

آپ ان رپورٹس کو سازشی تھیوری کہیں یا دور کی کوڑی،کہ اس عالمی وبا کا خدشہ اداروں نے کئی سال قبل ظاھر کردیا تھا، یہ بھی سنا گیا ھے کہ مغربی ممالک کے اداروں نے تو اس بیماری کے علاج کے لئے patent تک رجسٹرڈ کروایا ھوا ھے جو "مناسب موقعہ" پر بریکنگ نیوز کے ساتھ دنیا بھر کی اسکرینوں پر جلوہ افروز ھوگا ۔اب تو پڑھے لکھےدانشور (فواد چوھدری صاحب کے بقول رجعت پسند مولوی نہیں ) یہ کہنے کی رفتہ رفتہ جسارت کررھے ہیں کہ یہ سارا کیا دھرا امریکہ اور کثیرالقومی کمپنیوں کی اپنی اپنی حکمت عملی کا شاخسانہ ھے کہ انسانیت کو یہ دن دیکھنے پڑرھے ہیں -بدقسمتی سے عالم اسلام اور تیسری دنیا کے ممالک یوزر (user) ھیں نہ کہ پروڈیوسر ۔۔۔۔۔جنگ ھو یا بیماری ،علاج و امداد بھی وھیں سے آتا ھے۔

جہاں سےافتاد اور ابتلا،

وھی ذبح بھی کرے،وہ ھی لے ثواب الٹا

کبھی کبھی یہ خیال بھی ذہن کے کسی گوشے سے باھر آنے کی جسارت کرتا ھے کہ جس قوم کے حکمران اور مقتدر ادارے ایٹم بم بنا سکتے ہیں،غزنی،غزنوی،حتف،مشاق ،جن کی ایمانی غیرت،پیشہ ورانہ ریسرچ اور ان تھک محنت کا منہ بولتا ثبوت ھو، ان کے لئے انسانی جانوں کےتحفظ،بقا اور تسلسل کے لئے کہیں اور جانے اور کسی اور کی جانب دیکھنے کی ضرورت ھے؟

بلاشبہ افراد کی مسئولیت اور اکاونٹیبیلٹی آخرت میں ھونا ھے مگر قوموں کا روز جزا و سزا یہیں،اسی دنیا میں ھے-آخرت کے میزان میں کوئ قوم بحیثیت قوم جوابدہ نہ ھوگی ،جسے اپنی قوم،ملک معاشرہ کے لئے کچھ کرنا ھے،ان کا دارالعمل آج کی دنیا ھے ۔صرف جنگ کے دنوں کے لئے نہیں،امن کے حالات میں بھی،دیکھے بھالے دشمن کے ساتھ ساتھ نادیدہ وباوں کے مقابلہ میں بھی۔

جو عالم ایجاد میں ھے صاحب ایجاد

ھر دور میں کرتا ھے طواف اس کا زمانہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */