درست فیصلہ وہ جو بر وقت کیا جائے - حبیب الرحمن

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ساری خبریں بے شک تصدیق شدہ نہیں ہوا کرتیں لیکن وہ حقائق کے خلاف بھی کم کم ہی ہوا کرتیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ ان خبروں پر مکمل بھوسہ کر لینا سخت نادانی ہے لیکن اس سے ملتے جلتے حالات اور واقعات کا نہ ہونا یا آنے والے مستقبل میں ایسا کچھ ناممکنات میں سے نہ ہونا بھی بعید از قیاس نہیں۔

کل فیس بک پر امریکا کے حوالے سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی جو اگر سچ بھی نہ ہو تب بھی، آنے والے دنوں میں نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا، بشمول پاکستان، ایسا ہی کچھ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ یہ وہ صورت حال ہے جس کا خدشہ پاکستان کے وزیر اعظم اپنے ہر خطاب، پریس کانفرنس اور ہر ٹوئیٹ میں مسلسل کر تے چلے آ رہے ہیں اور یہ بات یقین کی حد تک قرینِ قیاس ہے کہ ایسی صورتحال دنیا کے دیگر ممالک میں ہو یا نہ ہو، پاکستان میں کسی وقت اور کہیں بھی جنم لے سکتی ہے ۔

فیس بک میں وائرل ہونے والے اس ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا کہ امریکا کے کسی بڑے شہر میں لاک ڈاؤن کے ہاتھوں پریشان ایک متشدد ہجوم نے ایک بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹور پر حملہ کر دیا اور اسٹور میں موجود ہر شے کو لوٹ لوٹ کر لیجانا شروع کر دیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایسا صرف بے روز گاری اور بھوک سے ستائے ہوئے لوگوں نے ہی نہیں کیا ہوگا بلکہ ایسے لوگوں کی آڑ میں ان جرائم پیشہ افراد کو، جو ہر ایسے مواقعوؤں کی تاک میں رہتے ہیں، اپنے ہاتھ دکھانے کا خوب خوب موقع ہاتھ آیا ہوگا لیکن اس بات کا امکان تو بہر صورت موجود ہے کہ اگر پاکستان میں لاک ڈاؤن کا سلسلہ (خدانہ کرے) کچھ زیادہ ہی دراز ہو گیا تو اسی قسم کی صورتِ حال پیدا ہوجائے۔ یہ وہی افراط و تفریط کا خد شہ ہے جس کی جانب بار بار عمران خان صاحب توجہ دلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہی وہ عذر ہے جو ملک میں کرفیو لگانے یا بہت ہی سخت لاک ڈاؤن کرنے میں ہچکچاہٹ کا سبب بنا ہوا ہے۔

موجودہ لاک ڈاؤن بھی کوئی کم آزمائش نہیں۔ ملک کے طول و عرض میں 90 فیصد سے بھی کہیں زیادہ ہر قسم کا کاروبار اور چہل پہل بند ہے اور کرفیو جیسی ہی صورت حال ہے جس کی وجہ سے ہر قسم کا کروبار تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے۔ کارو باری چھوٹا ہو یا بہت بڑا تاجر، اس صورت حال کا بہت طویل عرصے تک مقابلہ نہیں کر سکتا۔ جس ملک میں ٹائر پنکچرز، موٹر مکینکوں، اسپیئر پارٹس بیچنے والی دکانوں، باربروں کی شاپوں، بیوٹی پالرز، پان سیگریٹ کے کھوکھوں تک کے کھولنے کی اجازت نہ ہو وہاں غیر اعلانیہ کر فیو نہیں ہے تو پھر کیا ہے۔ سبزی فروشوں، گوشت کی دکانوں یا کھانے پینے کی اشیا کی چند کھلی دکانیں بھی انسانوں کا منھ چڑا رہی ہوں اور رکشا ٹیکسی والے خلاؤں میں تک رہے ہوں، روز کی مزدوری کی کوئی صورت دکھائی نہ دے رہی ہو، ملیں اور کارخانوں میں تالے لگے ہوئے ہوں تو پھر یہ خیال کر لینا کہ ملک میں صرف لاک ڈاؤن ہے کر فیو نہیں ایک احمقانہ سوچ سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

ایک جانب کاروبار کی یہ صورتحال اور دوسری جانب پولیس اور فورسز کے اہلکاروں کا روزی و روزگار کی تلاش میں نکلنے والوں کے ساتھ نامناسب سلوک، کئی پیچیدگیوں کو جنم دیتا نظر آ رہے۔ ان ہی ساری باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے کہا ہے کہ "چین میں لاک ڈائون کے دوران نوجوانوں نے فوڈ سپلائی بحال رکھی ہے، نوجوان ہنگامی حالات میں مدد کے لیے تیار رہیں۔ پاکستان کو افرا تفری کی صورت حال سے بچانے کے لیے پیشگی اقدامات ضروری ہیں، امید ہے نوجوان قومی فریضہ سمجھتے ہوئے اپنا بہترین کردار ادا کریں گے۔ صوبائی حکومتیں عوام کو اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت نے گڈز ٹرانسپورٹ پر پابندی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا بنانے اور ان سے منسلک صنعتوں کو بھی کام کرنے کی اجازت ہوگی۔ 31 مارچ سے 10 اپریل تک ملک بھر سے رضاکاروں کی رجسٹریشن سٹیزن پورٹل پر ہوگی۔ نوجوان ہنگامی حالات میں گھروں تک راشن سپلائی اور فوڈ چین بحال رکھیں گے"۔

گڈز ٹرانسپورٹ کی بحالی اور اور کھانے پینے کی اشیا بنانے والی صنعتوں کو کام کرنے دینے کی اجازت ایک اچھا فیصلہ سہی لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین ہونا بہت ضروری ہے کہ اس کیلئے چند اقدامات اور بھی اٹھانے ضروری ہو جائیں گے۔ ہنگامی صور تحال کے پیشِ نظر ایک جانب تو پبلک ٹرانسپورٹ بالکل بند ہے اور دوسری جانب موٹر سائیکل تک کی ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے۔ ضروری صنعتیں کھول نے کا مطلب نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ کا بحال کیا جانا ضروری ہے بلکہ ڈبل سوای پر سے پابندی اٹھانا بھی لازمی ہو جائے گا۔ ملوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے ملوں اور کارخانوں کے قرب و جوار میں ہی رہائش پذیر نہیں ہوا کرتے اور نہ ہی ہر فرد کے پاس اپنی سواری ہوا کرتی ہے۔

جب ان صنعتوں میں کام ہوگا تو ان تک ملازمین کا پہنچنا بھی بہر حال ممکن بنانا ہوگا۔ اسی طرح گڈز ٹراسپورٹ کی بحالی کے ساتھ ہی پورے پاکستان میں ان سے ملحقہ سارے کارو بار کو کھولنے کی اجازت بھی لازمی ہو جائے گی جس میں راستوں کے سارے ہوٹل، ٹائرٹیوب پنکچر کی دکانوں سے لیکر ان کے مکینکوں اور اسپیئرپارٹ کی ساری شاپوں کا کھولا جانا بھی لازم و ملزوم قرار دینا پڑے گا ورنہ کسی بھی قسم کے بریک ڈاؤن کی صورت میں اشیائے ضروریہ کو لانے لیجانے والے مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس قسم کے سارے فیصلے بے شک بہت ضروری ہیں لیکن ہر فیصلے کو نہایت سوچ سمجھ کر کرنے کی ضرورت ہے اس لئے ہر ایک فیصلے سے وابستہ لاحقوں کا خیال نہیں رکھا گیا تو ممکن ہے سہولت کی بجائے مشکلات بڑھ جائیں جن کا مقابلہ ان حالات میں کرنا مزید پریشانی کا سبب بن جائے۔

وزیر اعظم پاکستان کو اس بات پر بھی بہت سوچ و بچار کی ضرورت ہے کہ اگر گھر گھر ضرورت مندوں کو بر وقت امداد فراہم نہ کی جا سکی اور لوگ ان حالات سے تنگ آ گئے تو شاید ہی کوئی ماں باپ یا بہن بھائی ایسے ہوں جو اپنے لختِ جگروں، اپنے سے چھوٹے بھائی بہنوں یا بوڑھے والدین کو بھوک کے آ گے تڑپتا، بلکتا، روتا پیٹتا، چیختا چلاتا یا آنسو بہاتا دیکھ سکے۔ یہ سسکیاں اور آہیں لوگوں کو گھروں میں قید رکھنے میں ناکام ہو جائیں گی اور صبر کے پیمانے نہ صرف چھلک پڑیں گے بلکہ ٹوٹ جائیں گے اور لوگ اپنی اپنی جانوں کو بچانے کیلئے اپنے اپنے سر ہتیلیوں پر اٹھائے گلیوں اور سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جائیں گے اور پھر کچھ علم نہیں کہ دکانیں لوٹی جائیں گی یا اشیائے خوردو نوش سے لدے آنے جانے والے ٹرک اور ٹریلرز بلوائیوں کی زد میں آئیں گے۔

ممکن ہے کہ یہ بات حکومت کو نا ممکنات میں سے لگے لیکن ماضی میں ایسا متعدد بار ہوتا رہا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں سیلابی صورت حال میں امدادی سامان لیجانے والے قافلوں پر حملے ہوتے رہے ہیں اور امدادی سامان منزل مقصود میں پہنچنے سے کہیں پہلے لوٹا جاتا رہا ہے۔ ماضی کے آنے والے خوفناک زلزلے کی تباہی کے دوران بھی بڑے بڑے بھیانک مناظر نگاہوں کے سامنے آ تے رہے ہیں اور امدادی سامان کے پورے پورے قافلے راستوں میں ہے قزاقی کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ بعید نہیں کہ لاک ڈاؤن یا کرفیو کی طوالت، ہزاربار خدانخواستہ، اس قسم کی صورت حال کو جنم دیدے اور اللہ نہ کرے، اگر ایک مرتبہ بھی یہ سلسلہ چل نکلا تو پہلے قافلے اور پھر گلی گلی محلے محلے دکانوں کی لوٹا لاٹی سے یہ سلسلہ شروع ہو کر بڑے بڑے شاپنگ مالوں کو اپنے لپیٹ میں لے لے۔

ہر روز اجلاس پر اجلاس بلائے جانے اور ہر فیصلے کو ادھورا چھوڑ کر اگلے دن پر ٹالے جانے سے کسی بھی وقت ملک کے حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں، اس لئے جن جن اقدامات کو بھی اٹھانا لازمی اور مقصود ہے ان کو نہایت برق رفتاری کے ساتھ اٹھانے اور ان پر عمل در آمد کرانے کی ضرور ہے۔ آپ ہی نہیں، پورا پاکستان اس بات سے بخوبی باخبر ہے کہ اس بحران سے تنہا حکومت نہیں نمٹ سکتی۔ یہ بحران اسی وقت ٹل سکتا ہے جب پوری قوم یک جا اور یک زبان ہو۔ پاکستان کی ہر سیاسی، مذہبی پارٹی، ہر قسم کی فلاحی تنظیمیں اور ادارے اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ جب تک سب ایک صفحے پر نہیں آئیں گے اس وقت تک یہ سمجھ لینا کہ قوم اس بحران سے باہر آ سکتی ہے، دیوانے کا خواب اور مجذوب کی بڑ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔

اس لحاظ سے حکومت کی ذمہ داری ہر پارٹی و ادارے سے بڑھ کر ہو جاتی ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہیے کہ ہر قسم کی دوری کو ختم کرکے ایک ایک پاکستانی، ہر جماعت، ہر تنظیم اور ہر ادارے کو ملک کا وفادار خیال کرے اور جو بھی ٹائیگر فورس بنائی جائے اس میں شامل نوجوان پارٹی کے نہیں سارے پاکستان کے نمائندے ہوں۔ اگر اس فراخدلی سے کام ہوا تو منجھدھار میں ڈولتی اس نیا کو اُس پار لگایا جانا ممکن ہو سکتا ہے بصورتِ دیگر صورت حال کوئی بھی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com