مسجد قباء (مدینہ منورہ) کے امام کی برطرفی - فضل ہادی حسن

شیخ صالح المغامسی عالم عرب کے اہم علماء اور دعاة میں سے شمار کئے جاتے ہیں، عرب دنیا میں ان کی اہمیت کا اندازہ جہاں ٹی وی چینلز پر ان کی گفتگو کو پسند کرنے سے ہوتا ہے وہاں ٹویٹیر پر ان کے ساڑھے چھ ملین فالوورز ہیں سے لگایا جا سکتا ہے۔ شیخ مغامسی اسلام کی پہلی مسجد "مسجد قباء" کے امام وخطیب "تھے"، تھے کا مطلب یہ کہ وہ آج ہفتہ کے دن تک اس منصب پر فائز رہے، جنہیں آج برطرف کردیا گیا، ان کی جگہ شیخ ڈاکٹر سلیمان الراحیلی کو امام وخطیب مقرر کر دیا یے۔ (اگر چہ میڈیا نے دوسرے کی تقرری کا کھل کر کہا ہے لیکن مغامسی کے بارے میں مزید آفیشلی تفصیلات نہیں کہ آیا وہ امام برقرار رہیں گے یا کسی اور جگہ تعیناتی ہوتی ہے)۔

انہیں کیوں برطرف کر دیا گیا؟ اس پر بات کرنے سے پہلے ایک کہانی شئیر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ ایک فوجی بیرک / یونٹ میں ایک فوجی آفیسر نہ کسی کو سلام کرتا تھا اور نہ لیتا تھا۔ فوجی اسمبلی میں ایک دفعہ وہاں کے امام / خطیب صاحب کا موضوع "سلام پھیلانا" تھا۔ انہوں نے جب اس موضوع پر گفتگو شروع کی اور یہاں تک پہنچے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام میں پہل کرنے کو پسند فرمایا ہے( سلام کرنا خواہ تم اسے جانتے ہو یا نہ جانتے ہو)۔ فوجی آفیسر کو لگا یہ بیان تو میرے خلاف ہے اس نے فورا اسٹاپ کہہ کر خطیب صاحب کو روکنا چاہا بلکہ ہاتھا پائی تک کی نوبت آئی۔۔۔۔ پھر آگے کیا ہوا مورخ اس بارے میں خاموشی اختیار کر رہے ہیں۔ شیخ صالح کیساتھ بھی ایسا ہی ہوا، انہوں نے کل جمعہ کے مبارک دن کے موقع پر "کرونا وبا" کے حوالے سے ٹویٹ کیا تھا جسے آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ خادم الحرمین الشریفین کو جہاں "جی20 سمٹ" کی کامیابی پر مبارکباد دی تھی وہاں انہوں نے لکھا تھا "میں اضافہ کرونگا کہ آزمائش اٹھنے اور وباء ختم ہونے کے اسباب میں سے تین یہ ہیں:

▪︎اللہ سے دعا اور استغفار کے ذریعہ مدد مانگنا۔
▪︎فقراء اور بے یار مددگار لوگوں کی مدد کرنا۔
▪︎معافی دینا (آزاد کرنا)- جیلوں میں قید لوگوں میں سے، اگر ممکن ہوسکے۔
خیال کیا جارہا ہے کہ یہ آخری نکتہ ان کی برطرفی کا سبب بن گیا ہے کیونکہ حکام سمجھتے ہیں کہ اس میں اشارہ تھا ان بعض قیدیوں کی طرف جنہیں گزشتہ چند سالوں میں پس زندان کیے گئے ہیں۔ یعنی بالفاظ دیگر جو ناکردہ جرم کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ شیخ مغامسی نے بعد میں ٹویٹ ڈیلیٹ بھی کر دی بلکہ آج اس پر ایک وضاحتی ٹویٹ بھی کیا ہے لیکن "نازک مزاجوں" کو ان کی یہ گستاخی پسند نہیں آئی اور انہیں اسلام کی اس پہلی مسجد کی امامت اور خطابت سے برخاست کردیا گیا۔ ان کیساتھ بھی وہی ہوا جو ایک فوجی بیرک میں خطیب صاحب کیساتھ ہوا تھا، بس انداز اور موقع محل الگ الگ تھا۔ یقین اس دور کے مسلمان حکمرانوں کی مثال "احساس کمتری" کی ماری ہوئی اس سوکن جیسی ہے جس کے تعلقات گھر والوں سے اچھے نہ ہو، اور گھر میں کسی بھی دو بندوں کی خاموش گفتگو (کُھسر پسر) کو اپنے بارے میں کوئی سازش یا منصوبہ بندی سمجھ بیٹھ جاتی ہے۔ ایسے حکمرانوں کے ہوتے ہوئے اللہ کی طرف مزید وباء کچھ معنی نہیں رکھتا۔
حسبنا الله ونعم الوكيل.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com