شهر خالی، جاده خالی، کوچه خالی، خانه خالی ۔ عبدالخالق بٹ

’کورونا‘ کے شور میں تاجکستانی گلوکارہ ’نگاره خالاوه‘ کی غزل کا زور ہے۔ جس کا مطلع ہے:
شهر خالی، جاده خالی، کوچه خالی، خانه خالی - جام خالی، سفره خالی، ساغر و پیمانه خالی
غزل میں کوچہ و بازار کی ویرانی کا ماتم اوردوستوں کی محفلیں اُجڑ جانے کا نوحہ ہے۔ نہیں معلوم اس غزل کے خالق ’امیرجان صبوری‘ کو کن تلخیوں کا سامنا تھا کہ ان کے جذبات یوں شعر میں ڈھال گئے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ ’کورونا‘ کی تباہی کاریوں کے سبب آج پوری دنیا ہی اس شعر کی مجسم تصویر بن چکی ہے۔ کچھ لوگ شر میں سے بھی خیر کا پہلو تلاش کرلیتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں میں سے ایک معروف شاعر اور صحافی محمد عثمان جامعی بھی ہیں جن کا کہنا ہے:
سکوں ہے، ملنے ملانے سے جان چھوٹ گئی - وبا چلی وہ، زمانے سے جان چھوٹ گئی
وبا کا کرکے بہانہ تجھے بھی چھوڑ دیا - بہانے روز بنانے سے جان چھوٹ گئی
شاعر کی جان تو چھوٹ گئی مگر نہیں معلوم ’کورونا وائرس‘ سے دنیا کی جان کب چُھوٹے گا۔ خیر ہم آتے ہیں معنی و مطالب کی طرف کہ ’یہی کچھ ہے ساقی متاع فقیر‘۔

’Corona‘ لاطینی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ’تاج‘ ہیں۔ یہی ’Corona‘ انگریزی کے سرپر’crown‘ کی صورت میں سجا ہے۔ لہجے کے فرق کے ساتھ ’Corona‘ تقریباً تمام یوروپی زبانوں میں موجود ہے۔ چونکہ بیماری پھیلانے والے اس مہلک وائرس کے اطراف ’crown‘ ہی کی طرح دندانے دار ہوتے ہیں لہٰذا اس ظاہری نسبت سے اسے ’Corona‘ کا نام دیا گیا ہے۔
’کورونا وائرس‘ کا شکار افراد کو دوسروں سے الگ تھلگ جس مقام پر رکھا جا رہا ہے اسے ’قرنطینہ‘ کہتے ہیں۔ آج کل ’تفتان‘ میں قائم ’قرنطینہ‘ کا خوب چرچا ہے۔ ایسے میں نوخیز شاعر محمد تابش صدیقی نے لفظ ’قرنطینہ‘ کے بارے میں پوچھا ہے۔ پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ متاثرہ شخص یا اشخاص کا ’قرنطینہ‘ میں رکھا جانا صرف ’کورونا‘ ہی سے متعلق نہیں ہے بلکہ ہر وہ جان لیوا بیماری جو وبائی صورت اختیار کرسکتی ہے اس سے متاثرہونے والوں کو ’قرنطینہ‘ میں رکھا جاتا ہے۔ مقصد مرض کو پھیلنے سے روکنا ہوتا ہے۔
’قرنطینہ‘ کی ظاہری صورت اورعربی زبان میں موجودگی سے اس کے عربی الاصل ہونے کا شبہ ہوتا ہے۔ مگر اپنی اصل کے اعتبار سے یہ لفظ عربی نہیں بلکہ اطالوی زبان سے متعلق ہے۔ معروف محقق ڈاکٹر ف۔عبدالرحیم کے مطابق ’اس کی اصل quarantine ہے اور یہ quaranta سے ماخوذ ہے، جس کے معنی چالیس (40) ہیں۔ ابتداء میں قرنطینہ کی مدت چالیس (40) دن ہوتی تھی،اب یہ مدت بیماری کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہے‘۔

اطالوی زبان کا یہ لفظ اگر عربی میں ’قرنطینہ‘ ہے تو انگریزی میں quarantine ہے۔ اسی طرح جرمن Quarantäne، ڈینش میں karantæne اور ہسپانوی میں cuarentena ہے۔ اس کے علاوہ بھی یہ لفظ لہجے کے اختلاف کے ساتھ دیگر یوروپی اورغیریوروپی زبانوں میں بھی موجود ہے۔ ’قرنطینہ‘ میں بیتے دنوں کا تجربہ میرتقی میر کے درج ذیل شعر میں جھلکتا:
ایک مدت ہوئی بدنامی و رسوائی ہے - بیکسی بے دلی درویشی و تنہائی ہے
اب یہ کوئی محقق ہی بتائے گا کہ میرصاحب کبھی قرنطینہ میں رہے بھی ہیں یا نہیں۔ خیر آگے بڑھتے ہیں اور مرض و مریض کی رعایت سے ’ایمبولینس‘ کا ذکر کرتے ہیں۔ ایمبولنس (ambulance) وہ گاڑی ہے جس کے ذریعے مریضوں اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا جاتا ہے۔ عربی میں ایمبولینس کو ’إسعاف‘ کہتے ہیں، کیوں کہتے نہیں معلوم، البتہ لفظ’ایمبولینس‘ انگریزی میں کہاں سے پہنچا اور اس کے کیا معنی ہیں یہ بتائے دیتے ہیں۔ انگریزی کا ایمبولنس (ambulance)، فرانسیسی ایمبولنٹ (ambulant) کی تبدیل شدہ صورت ہے۔ اور اس ایمبولنٹ (ambulant) کی اصل لاطینی کا امبیولیٹ (ambulate) ہے جس کے معنی ’چلنا پھرنا ہیں‘۔ دلچسپ بات یہ کہ یہی ambulate انگریزی میں مٹر گشت کرنے اور ادھر اُدھرگھومنے پھرنے کے معنی میں استعمال ہوتاہے۔
فرانسیسی میں مکمل ترکیب hopital ambulant یعنی چلتا پھرتا ہسپتال تھی۔ لفظ ایمبولنس کا اطلاق گاڑی سے پہلے ان عارضی جنگی ہسپتالوں پر ہوتا تھا جنھیں حسب ضرورت کہیں بھی منتقل کیا جاسکتا تھا، بعد میں ہسپتال قدم جما کر کھڑے ہوگئے اور مریض اور زخمی جس گاڑی کے ذریعے منتقل ہونے لگے اسے ایمبولنٹ (ambulant) کہاجانے لگا جو انگریزی میں پہنچ کر ایمبولنس (ambulance) ہوگیا۔

ہسپتال کو اردو میں اسپتال بھی لکھا جاتا ہے۔ جب کہ ہسپتال کوعربی میں ’مستشفىٰ‘ کہتے ہیں جس کی اصل ’شفاء‘ یعنی صحت یابی ہے۔فارسی میں اس کے لیے دوتراکیب رائج ہیں ان میں سے ایک ’بیمارستان‘ ہے جسے سن کر ہی الجھن ہونے لگتی ہے اور ذہن میں ایک ایسے مقام کا خاکہ ابھرتا ہے جہاں درد و غم کے مارے آہ و بقا کررہے ہوں۔یہی وجہ ہے کہ اردو زبان نے اس لفظ کو قبول نہیں کیا جب کہ اس کے برخلاف فارسی کی دوسری ترکیب ’شفاء خانہ‘ کو قبول عام حاصل ہوا کہ اس ترکیب میں صحت و تندرستی کا پیغام جھلکتا ہے۔
صحت و تندروستی یاد آیا کہ اگر ’کورونا ‘ ہاتھ دھو کر پیچھے پڑگیا ہے تو آپ بھی ’ہاتھ دھوکر‘ ہی اس سے پیچھا چھڑا سکتے ہیں کہ فی الحال یہی نسخہ کار آمد ہے۔ اس پہلے کہ ہم اجازت چاہیں ہاتھ دھونے کی رعایت سے اسماعیل میرٹھی کا حسب حال شعر ملاحظہ کریں:
ہاتھ دھو کر پڑی ہو پیچھے تم
جان پر آ بنی حواس ہیں گم

بشکریہ اردو نیوز

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com