قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں -لطیف النساء

ایک بہت ہی مختصر پیغام آیا تھا جس میں کہا گیا "اے دنیا کے لوگوں آپ کا لاک ڈا ئون کیسا ہے ؟ کشمیر !!! افسوس صد افسوس کسی کے درد کو سر پر پڑ نے کے باوجودنہ سمجھ سکے ۔ کتنے لوگ ایک نہیں دو نہیں پوری انسانیت مطلب پوری دنیا کے لوگ ایک ہی کرب میں مبتلا ہیں اور اللہ کی طاقت کو مذاق سمجھا ہوا ہے ۔

مسلمان کیسے 57ممالک کے لوگ ایک نظر نہ آنے والے وائرس سے اپنی زندگی سے ڈر کر اپنے گھروں میں بند ہونے کو تیار ہیں ۔ کچھ بند ہیں پھر بھی ہمیں اپنے بے کس مظلوم کشمیری مسلمان بھائیوں کی ذرا پرواہ نہیں وہ تقریباً سات ماہ سے ظالم درندوں جا نوروں سے بدتر ہندو غنڈوں اور بے ضمیر گدھ نما فیوجیوں کے ہاتھوں بے بس اور بے کسی کی مصیبتیں کاٹ رہے ہیں ، باتی دنیا سے کٹ کر ان پر کیا گزرتی ہوگی ۔ اندرونی جرائم ، بچوں ، لڑکیوں کا اغواء ، بے حرمتی ، درندگی، قتل و غارت کسی کو نظر نہیں آرہی انہیں اتنی چھوٹ کیسی ؟ جو جانوروں سے بدتر سلوک کر رہے ہیں بلا جواز ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا ہوا ہے ۔ میڈیا انکا حکومت انکی غیر ملکی میڈیا ، فلاحی ادارے اقوام متحدہ اور خود اسلامی ممالک معذرت کے ساتھ کچھ نہیں کر رہے بلکہ جب سے کرونا وائرس کا چکر چلا ہے ۔ اللہ نے دکھا دیا کہ ظلم کرنے والے کبھی نہیں بچیں گے ضرور خود بھی مصیبت میں گرفتار ہونگے۔

انسانیت کے علمبردار کہاں سوئے ہوئے ہیں ؟ اب تو کوئی نام بھی نہیں لے رہا اور وہ ہندوستانی بے ضمیر لوگ اور انکی درندہ نما فوجی انہیں تو کیا کہوں؟ کوئی جانوروں کے ساتھ بھی اتنا برا سلوک نہیں کرتا یہ کیسے درندے ہیں جو ان مسلمانوں کے دروازوں پر بندوقیں تا نے بہادری کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، شرم کریں ڈوب مریں ۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب ظلم و بربریت کی تعلیم نہیں دیتا ہمیشہ بھلائی کی تعلیم دیتا ہے یہ لوگ تو اتنے جاہل ہیں کہ اپنے دین سے بھی بے بہرہ ہیں کہ ذرا لحاظ نہیں کر رہے اگر انہیں انسانیت کی قد ر ہوتی تو یہ اپنے کئے ہوئے ظلم پر اتنا نادم ہوں کہ خود کو گولیاں مار کر ہلاک کرلیں مگر مودی حکومت کی غیر انسانی سلوک کی دھجیاں اڑادیں ان کی مکارانہ چالیں انہی پر پلٹ کر ایسا ماریں کہ کبھی کسی پر ظلم کر نے کی جرأ ت نہ ہو بلکہ پوری ظالم دنیا کے لئے سبق ہوں کہ کوئی کسی پر بھول کر بھی ظلم نہ کرے ۔ میں تو بہت حیرا ن ہوں اور سوچتی ہوں انسانوں پر انسانوں کا ظلم تو ہین ہے انسانیت کی ۔

ان ترقی یافتہ ممالک کی بلکہ تمام لوگوں کی جو اسے روک نہیں رہے یہ میڈیا کی آگا ہی کیا کم ہے ہے سمجھنے والوں کیلئے ۔ لوگوں کو کاٹ دینے والی موت انہیں بھولی ہوئی ہے جو دوسروں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور مطمئین ہیں ۔ آنکھوں دیکھا ظلم جو مسلسل جاری ہے اور بے حس دنیاا نکاری ہے تو پھر سمجھ لو اپنی ہی موت کی تیاری ہے ۔ قدرت کی خاموش تیاری ہے ۔ کون اس دنیا میں ظلم کرکے جیت سکتا ہے ؟ ظلم پھر ظلم ہے جو صبر اور حوصلے سے اپنای بساط میں مقابلہ کر رہے ہیں ۔ انہیں کمزور نہ سمجھو نہ ہی ان کی کمزوری اور نہتے ہونے کا فائدہ اٹھا ئو۔ رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ پس جانے کے بعد کہتے ہیں کہ نا کہ

ظلم کا خوگر ہو انساں تو مٹ جاتا غم

مشکلیں اتنی پڑی مجھ پہ کہ آساں ہو گئیں

یہ نہ جانے کس غرور میں ہیں انہیں غلط اور صحیح کی تمیز نہیں ، پوری دنیا میں خود ہندوستان میں اتنی غربت ہے ، بد حالی ہے، تعاون سے محبت سے رہنا نصیب نہیں ، دوسروں پر ظلم سے بعض نہیں آرہے ، یہ کیا ہے یہ سب غرور ہے ، جی ہاں ہڈ دھرمی ہے ۔ دنیا ساتھ نہیں دیتی نہ دے ،ظلم خود ہی دوا بن جائے گا قدرت نگہبان ہے اور اپنی مظلوم مخلوق کو کبھی ضائع نہیں ہونے دے گی ہماری دعائیں کوششیں ہمارے ان مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہیں ۔ وقت کو پلٹتے دیر نہیں لگتی ، مودی سرکار کا غرور ہی ان کو لے ڈوبے گا ۔

تو کسی اور سے نہ ہارے گا تجھ کو تیرا غرور مارے گا

ایک ذرا تھوڑا انتظار کرو حق ہی جیتے گا ظلم ہارے گا

(انشا ء اللہ)

جب رات کتنی ہی تاریک اور طویل ہو کٹ ہی جاتی ہے ۔ زندگی کے دکھ سکھ پہییے کی مانند ہیں کبھی خوشیاں تو کابھی غم یہ یاد رکھیں کہ وقت یکساں نہیں رہتا کیونکہ قدرت کا قانون ہے

"ہر چیزکی باری ہے دورِ دوراں میں

جو جیت گیا اس کی ہار باقی ہے"

یہ تو جا ہلیت ہے ، ظلم ہے ، نہتے مسلمانوں کو قید کر دیا ۔ دنیا جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔ جنگ نے تو کبھی بھی کسی ملک کو سکھ چین نہیں دیا ۔ ہمیشہ تباہی ہی لاتی ہے تو کیا مزید تباہی لانا اور بے گناہوں کو ٹھکانے لگانا دنیا کے لئے درست ہوسکتا ہے ؟ اب آج کے حالات میں تو وہ لوگ خود کرونا کا ایٹم بم تیا رکر رہے ہیں اور خود اپنی موت آپ مرنے کی تیاری کرتے نظر آرہے ہیں ؟ ابھی بھی اگر ہندوستا ن نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور دنیا کی فلاحی تنظیموں ، اقوام متحدہ کی امن کمیٹیوں اور مسلمانوں نے کشمیری مسلمانوں کا لاک ڈائون نہ کھلوایا تو اس کی تباہ کاریوں سے بھی کوئی نہیں بچ سکتا ۔ کیا آپ سب یہ بات نہیں جانتے کہ جو ظلم کرتا ہے تو اس پر ظلم کیا جا تا ہے ۔ اللہ نگہبان ہے اس کی لاٹھی بے آواز ہے ۔ بس محسوس کرنے کی بات ہے ۔

دنیا کی امن کمیٹیوں کو اور فلا حی تنظیموں اور مسلم ممالک کو سب کو انڈیا پر بھرپور دبائو ڈالنا چاہئے کہ وہ کشمیریوں کو آزاد کرکے خود بھی چین سے بیٹھے اور دنیا کو امن کی طرف لائے کی یہی انسانیت کا حق ہے ورنہ تو سب برے جانور سے بدتر گدھ ہیں ۔ برائی کیلئے برے الفاظ خود بخود نکل پڑتے ہیںجو ہمیں لکھتے ہو ئے بھی بھلے نہیں لگتے مگر پھر بھی میں یہی کہوں گی کہ برائی کا مقابلہ ہمیشہ بھلائی سے ہی کرنا ہے ، ہر چیز کا تضاد ہے ۔ آگ کو پانی بجھاتا ہے اور جنگ کا تضاد امن ہے جس کیلئے مرتے دم تک انسانوں کو اپنی شعوری کوششیں کرنا چاہئے اور ظلم بربریت کو کنڈیم کرنا چاہئے ۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ پاک اپنی خاص رحمت عطا فرمائے ان کشمیریوں کو اور دنیا کے لوگوں کو شعوری انسانیت اور احترام انسانیت عطا فرمائے تا کہ دنیا کے ہر خطے میں امن ہو ، خوشحالی ہو اور استحکام ہو تا کہ زندگی ہر ایک کی پرسکون ہو ۔ یوں تو لوگ جانوروں کو تک ریسکیو کرتے ہیں ۔

بلی ، کتے ، مرغی ، گھوڑے، طوطے کے لئے اپنی جانیں لڑا دیتے ہیں تو انسانوں کا انسانوں پر بڑھتا ظلم کسی کو نظر نہیں آتا ؟ یہ اور بڑا ظلم ہے کیونکہ ظلم کے خلاف کاروائی نہ کرنے سے نا صرف ظلم فروغ پایا ہے بلکہ دنیا کا امن مستقل خطرے میں رہتا ہے تو کیا آج کا ترقی یافتہ انسان اور دنیا جو آج گلوبل ویلیج کہلاتی ہے کیا اتنی بے حس ہوچکی ہے کہ اسے ظلم اور ظالم نظر نہیں آرہے ؟ اللہ ہمیں ہدایت عطا فرمائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم کشمیری نہتے مسلمانوں کو اپنی ایمانی قوت سے ظالموں کے ظلم سے نہ صرف انڈیا میں بلکہ ہر جگہ نجات دلا سکیں ۔ اس کے لئے ہمیں رب سے جڑنا ہو گا ساری زندگی احکام الٰہی اور سنت رسولؐ کے پابند رہتے ہوئے اپنے مقصد حیات کو دوبارہ مدنظر رکھتے ہوئے جرأ ت مندانہ مقابلہ کرنا ہوگا ۔

ان طاغوتی طاقتوں کے خلاف وہ بھی مستقل بنیادوں پر اس کے ساتھ ہی دنیا کے تمام مسلمانوں کو امت کے کے تصور کو عملی جامہ پہنانہ ہو گا تا کہ ہم ہر وقت اپنے خالق کی بندگی میں ہوں ۔ جب میں سوچتی ہوں کہ ایسا کیوں ہوا؟ تو مجھے خود ہی اندازہ ہو تا ہے کہ آج مسلمان وھن کا شکا ر ہو کر ایمانی طاقت گنوانے جا رہے ہیں ۔ بے حیائی اور میڈیائی جا دو ہم پر چل رہا ہے ۔ ہم غیروں کے ہاتھوں بک کر اپنی حیثیت گراتے جا رہے ہیں ۔ ہمارے دل ایمان کی طاقت سے محروم ہورہے ہیں ، روح بے جان ہو رہی ہے بقول علامہ اقبال

قلب میں سوذ نہیں روح میں احساس نہیں

کچھ بھی پیغام محمد کا تجھے پاس نہیں

دعا ہے کہا

یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے

جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے (آمین )

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com