کورنا اور گھر کی صفائی - بشریٰ تسنیم

پوری انسانیت کرائے کے مکان (کرہ ارضی)پہ رہتی ہے ، جس کا مالک اللہ رب العلمین ہے ۔ اس مالک نے ہمیں یہ مکان عارضی ٹھکانے کے لئے دیا اس شرط پہ کہ اس کے بحر و بر میں کوئ فساد نہ کرنا ۔ جو چیز جہاں ہے اس کو وہیں رہنے دینا بدلنے کی کوشش نہ کرنا ۔

وہ قانون ہو یا درو دیوار ، فرش ، باغ باغیچے ۔ عمارت میں جہاں جو کچھ ہے استعمال کرنا ،جانچ پرکھ کرنا،مالک خا شکر گزار رہنا مگر اجاڑنا کچھ نہیں ،کیونکہ اس کا کرایہ یہی ہے کہ اس کی ہر طرح سےحفاظت کرنی ہےاور مالک تو رب العلمین ہی ہے ،یہ معاہدہ یاد رکھنا ہے۔ جہاں اس میں کچھ گندگی نظر آئے فورا ساتھ کے ساتھ صفائ کرتے رہنا ہے ۔ پورے کرہ کا ہر فرد اپنے کمرہ کی اور ہر کالونی ہر صوبہ و ملک اپنے اپنے حصہ کی صفائی اور نظم و ضبط کا ذمہ دار ہے ۔مگر افسوس !انسانوں نے شریر اور فسادی بچوں کی طرح اس گھر (کرہ ارضی) کو ہر پہلو سے اپنی ملکیت سمجھ کر جیسے چاہو جیئو "کا سلوگن لے کر ہر سمت سے گندا کر دیا ہے ۔ شریف مالک مکان بھی کرائے دار کو مہلت دیتا اور لاپرواہیوں کو نظر انداز کرتا رہتا ہے مگر جب معاملہ حد سے گزرنے لگتا ہے تو شدید ردعمل کا اظہار کرتا اور انتباہی اطلاع وقتا فوقتا دیتا رہتا ہے ۔ بالکل ایسے ہی جیسے بلدیہ والے دوکانداروں کو تجاوزات پہ نوٹس دیتے رہتے ہیں مگر جب کوئ نہیں سنتا تو اکھاڑ پچھاڑ ان کا مقدر ہوتی ہے ۔
مالک کائنات نے بھی جب دیکھا کہ ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس تو صفائ کا عملہ اور سامان لے آیا ۔

اب اس مکان (کرہ ارضی )کی لازمی صفائ کا کام جاری ہے ۔ صفائ زمین کی بھی یے اور معاش کی بھی اور افراد و اقوام کی بھی ۔۔ادارے بھی تو اپنے ورکرز کی چھانٹی کرتے رہتے ہیں ۔ اللہ تعالی نے بھی تلک الایام نداولھا بین الناس کا اصول قائم کر رکھا ہے۔ایک فرد بھی اپنے گھر کی بڑے عرصہ بعد صفائ کرواتا ہے تو سٹور پورا کباڑ خانہ نظر آتا ہے ۔درودیوار چھت کمرے صحن دالان فرش صاف کرنے کے لئے ایک اکھاڑ بچھاڑ بلکہ فساد سا مچ جاتا ہے ۔بچے ہراساں ہوتے ہیں ہر چیز اپنے مقام سے ہٹ جاتی ہے ۔ گھر والوں کو ایک کمرے میں بند کرکے معمولات زندگی محدود کر دئے جاتے ہیں ۔ غیر ضروری اقدامت خود بخود چھوٹ جاتے ہیں ۔ بچوں کی تخریبی سرگرمیاں ختم ہوجاتی ہیں اور سارے گھر کی ترتیب معمول سے ہٹ جاتی ہے ۔اس بظاہر تخریب میں اک نئ تعمیر مضمر ہوتی ہے۔

اور اس نئ تعمیر کا ادراک ہوشمندوں کو ہی ہوتا ہے ۔ یہ ہوشمند اپنے گھر میں ہونے والی خرابیوں پہ غور کرتے ہیں تو وہ آئیندہ اس لاپرواہی کا اعادہ نہ کرنے کا تہیہ کرتے ہیں۔ اور اب جو صفائ ہورہی ہے اس کے درمیان رخنہ نہیں ڈالتے ۔آخر ایک معمولی ملازمہ بھی جب فرش صاف کرتی ہے تو گھر والوں کو منع کر دیتی کہ یہاں سے کوئ نہ گزرے اور اس کی بات سب سمجھتے ہیں کہ کہنا نہ ماننے میں ان کا ہی نقصان ہے ۔ اب اپنے ہاتھوں گندگی پھیلائے اس انسانوں کے مکان میں صفائ مالک خود کروا رہا ہے تو اس کا ساتھ تو دیں اپنے فائدے کے لئے ۔ زرا غور کریں صفائ کے اس عمل کے دوران فضاوں میں کس قدر سکون ہے ۔

فیکٹریوں کے دھوئیں شور شرابے ۔ہوائ جہازوں اور بحری جہازوں کی فضا میں دخل اندازی نہ ہونے سے امن ہے ۔ٹریفک معطل ہونے سے ماحول میں امن ہے ۔بازاروں میں شیطان کے لئے کوئ مصروفیت نہیں ۔ باہم ملاقات پہ پابندی سے دل بے قرار ہیں تو یہ بے قراری صحت کی علامت ہے۔ مسجدوں میں جانے والے نمازی اپنے ایمان کو جانچ رہے ہیں ۔ مزاروں پہ شیطان اداس بیٹھا ہے ۔ غرض کرہ ارضی جیسے اپنے منہج کا اصلی چہرہ دیکھنے کی تیاری کر رہی ہے ۔ مالک کائنات کی طاقت سے بہرہ ور ہو رہی ہے ۔ ضرورت اس وقت امت مسلمہ کی یہ ہے کہ اس کا ہر فرد اپنے دل کی بھی صفائ کر لے ۔ اور یہ کتنا بر وقت فیصلہ ہے کہ رمضان المبارک قریب ہی ہے اس کو پانے سے پہلے ہم اجلے ہو جائیں جب گھر کی اندرونی بیرونی مکمل صفائ ہوجاتی ہے تو اس میں موجود بہت پرانی ناکارہ چیزوں کو گھر سے نکال ہی دیا جاتا ہے ۔

انفرادی اور اجتماعی طور پہ منافقت کا رویہ،ظلم و جبر ،اختیارات کی رعونت، حقوق وفرائض میں ڈنڈی مارنا ، بدعات وشرک کے افکار و اعمال دل کی خوبصورت نگری میں پڑا کباڑ ہی تو ہے .*تو وہ گھر جہاں رب العلمین کا تخت ہے اس کی کیا صورتحال ہے اس پہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے ؟۔ آئیے غوروفکر کریں ،اپنی غلطیوں کی اصلاح کر لیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ۔ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا و ھب لنا من لدنک رحمہ انک انت الوھاب آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */