محبت ایسا دریا ہے - افتخار چودھری

وہ جو دنیا کی نظروں سے دور آج 240دن ہو گئے دنیا کو کرونا نے امجد اسلام امجد نے کہا تھا محبت ایسا دریا ہے کہ بارش روٹھ بھی جائے تو پانی کم نہیں ہوتا ۔آئیے ایک کالم کشمیری بھائیوں کے لئے جو رہتے تو اپنے گھروں میں ہیں لیکن ایک جگہ میرے دل میں بھی ہے یہاں سیاسی بھائیوں کی نہیں ان بھائیوں کی بات ہو گی جن کے دمیان عمر گزاری ہے میرے جدہ کے کشمیری دوست۔اس قدر الجھا دیا کہ وہ سال ہونے کو ہے وہاں کیا قیامت گزر رہی ہو گی ۔جموں اور کشمیر لداخ اور کرگل سب جگہ قیامت ہے۔

پتہ نہی مرنے آئے ہیں کہ بشیر جعفری افتخار مغل اور گئے لوگ یاد آ رہے ہیں اوپر سے اس سال کا بہترین کالم نویس کا ایوارڈ لینے کے بعد ڈر سا لگ رہا ہے۔آپ نے موسم فلم دیکھی ہے یا نہیں دیکھی تو اسے ضرور دیکھئے اداکاری تو کرنے والے بہت ہوتے ہیں لیکن جس نے اس فلم کا خیال دیا اور اس خیال کو مکالموں کو شکل دی اسے ضرور سراہئے گا۔کیا فلم تھی سنجیو کمار اور شرمیلا ٹیگور نے کمال ادا کاری کی یہ کہانی ایک نوجوان ڈاکٹر کی ہے جو گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے شملہ جاتا ہے اور وہاں ایک وید کی بیٹی کو ماں بنا کر شہر چلا جاتا ہے وہ لڑکی اس کا انتظار کرتی رہتی ہے پھر یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر بوڑھا ہو جاتا ہے۔

اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ عورت مر گئی ہے اور اس کے بطن سے اس کی بیٹی ہے فلم آگے چلتی ہے وہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس کوٹھے پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس کی بیٹی اپنا جسم بیچتی نظر آتی ہے فلم کے دوران پرانی یادیں اسے تڑپاتی ہیں وہ راستے وہ پتھر وہ موڑ جہاں اس کا ملن دیہاتی لڑکی سے ہوا دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے فرصت کے ان دنوں کو یاد کرتا سنجیو کمار آخر کار اپنی بیٹی کوپا لیتا ہے۔میں آج اس کرب کو یاد کرنا چاہتا ہوں جو انسان کے دماغ میں چھپی یادیں دے جاتی ہیں کبھی آپ نے سوچا کہ موسم بھی آپ کو پیچھے لے چلتے ہیں سردیوں کے جاڑے بارشیں آپ کو ماضی میں کھینچ لے جاتی ہیں ۔میں آج یہ سب کچھ کیوں لکھ رہا ہوں مجھے کہا گیا ہے کہ آپ ساٹھ کے پیٹے میںہو آپ کو شوگر ہے دل کی بیماری ہے آپ اس دنیا میں جانے والوں میں اچھے نمبر رکھتے ہیں ۔

بس آپ نے باہر نہیں نکلنا واک نہیں کرنی کسی سے ہاتھ نہیں ملانے دوستوں کی محفلیں نہیں سجانی نہ کسی سے جپھی ڈالنی ہے نہ پنجہ ۔بس پوچھنا تھا یہ کام تو میرے ابا جی بھی کر رہے ہیں وہ بھی سوشل ڈسٹینسنگ کر رہے ہیں 1990میں فوت ہوئے تھے انہوں نے بھی کبھی گلے نہیں لگایا نہ ہاتھ ملا کر سلام کیا ہے میں گجرانوالہ میں ان کی قبر پر جاتا ہوں چھ فٹ کے فاصلے سے ابا جی کی قبر پر دعا کر کے آگے وہ باپ جس نے گود میں کھلایا پلایا بڑا کیا دلیری سکھائی اس سے بھی نہیں مل سکا اور پاس میں لیٹے بھائی سے بھی فاصلے سے دعا اسی طرح ماں یہ لوگ چلے گئے لیکن کمال کے لوگ تھے لوگ انہیں مردہ کہتے ہیں میں مانتا ہوں مردوں کے گلے نہیں لگا جاتا سردیوں کی بارشوں میں بے جی پوڑے کھلایا کرتی تھیں بہن پکوڑے باپ مونگ پھلی لے کر دیتا تھا ۔

میں سونی کے دو بینڈ کے ریڈیو پر لمبی سی تار لگا کر اوپر کوٹھے پر ڈالڈے کے ڈبے میں گٹے کے پھول کی تہنی سے باندھ کر ریڈیو سیلون سے فرمائشی پروگرام سنا کرتا تھا وہ میری اپنی دنیا تھی مرنے والے مر گئے لیکن میں کیوں مر رہا ہوں دنیا خوف سے مر رہی ہے اسے بھی موت ہی کہہ لیجئے کہ کوئی عزیز مر گیا تو آپ جنازے میں نہیں جا سکتے کوئی فون پر ہے تو وہ بھی ڈرا سہما ۔کیا ہم موسم فلم کے کردار ہیں جو وہ بھی نہیں وہ فرصت کے دنوں کی تلاش میں اپنی بیٹی کی تلاش میں چھڑی لئے گھومتا رہتا رہتا ہے چھڑی رے چھڑی کا گیت بھی آپ نے سنا ہو گا وہ بیٹی جو اپنے باپ کی چھڑی کی واپسی کے لئے بابو سے لڑ جاتی ہے۔ہم کس سے لڑیں اس لئے کہ ہمارے دئیں بائیں کوئی ہے بھی نہیں۔

ابھی کچھ دیر پہلے برادر حمید پوٹھی کا فون تھا بڑے وضح دار دوست ہیں وہ اپنی یادیں تازہ کر رہے تھے کہنے لگے صاحبزادہ صاحب نے کہا تھا پوٹھی کی کوٹھی نے پارٹی توڑ دی ہے اس اسلام آباد والی کوٹھی میں پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ آتی تھی بعد میں یہ کوٹھی پی ٹی آئی کا گڑھ بن گئی تزئین اختر کو افطاری پر بلایا تو ایڈریس پوچھا بتایا تو کہنے لگے پوٹھی کی کوٹھی کون نہیں جانتا حمید کہہ رہے تھے کہ عامر محبوب نے کہا تھا میں اخبار بھی نکالوں گا اور پوٹھی صاحب آپ کشمیر کونسل کے ممبر بھی بنیں گے ۔اچھا ایک بات بتائوں ہم سواریاں پوری کر کے اڈے سے نکل پڑتے ہیں ہمیں ان کا بلکل بھی احساس نہیں ہوتا جو ہماری پکی سواریاں ہوتی ہیں جنہوں نے وقت سے پہلے آ کر ہمارے نمبر کی ویگن پر چڑھنا ہوتا ہے پوٹھی نارتھ پنجاب کی ٹیم کا حصہ رہے نائب صدر تھے ۔

یہ وہ ٹیم تھی جس نے میرے ساتھ بڑی زیادتی کی اور اس کا خمیازہ بھی بھگت رہے ہیں اسمبلی میں وہ لوگ موجود ہیں جو صم بکمن ہیں اور میرا قائد جب یلغار میں پھنستا ہے تو یہ خاموش رہتے ہیں اور اس وقت ہاتھ پائوں مارتا ہوں لیکن ٹیم کی کارکردگی یہ ہے کہ بیس میں سے اٹھارہ سیٹیں صوبائی کیپی ٹی آئی لے گئی اور قومی کی دو ہی ہاریں۔میں پرانے لوگوں کو کبھی نہیں بھولتا میری ویگن میں ان کے لئے سیٹ ہوتی ہے میں اپنی چادر اور ٹوپی ان کے لئے رکھتا ہوں ۔میں جب انتنظیموں میں ان لوگوں کو نہیں دیکھتا جو اس وننگ ٹیم کا حصہ تھے تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم غلطی کر رہے ہیں عبدالحمید پوٹھی شمالی ہنجاب کی ٹیم میں ہونا چاہئے تھے اور لوگوں کا نام نہ بھی لوں یہ ان کشمیریوں کی نمائیندگی کرتے جو پنجاب میں رہ رہے ہیں الیکشن میں پتہ نہیں ٹکٹ کسے ملتی ہے کیا اتحاد بنتے ہیں۔

لیکن ان لوگوں کو ہم ساتھ لے کر چلیں جو سیاست عبادت سمجھ کر کرتے ہیں پوٹھی کی کوٹھی عامر محبوب اور صاحبزادہ اسحق ظفر کے بارے میں فون پر جو باتیں سنیں تو جی بھر آیا عبدالحمید کہنے لگے کہ کہاں سے آئیں گے وہ ممتاز راٹھور اور صاحبزادہ اسحق ظفر جیسے لوگ جو دنیا سے گئے تو اولاد کو مقروض کر گئے لیکن جاتے ہوئے ہیرے چھوڑ گئے ۔میں اکثر کہا کرتا ہوں یہ جو جگنو ہیں یہ ڈاکئے ہوتے ہیں ہر رات قبر میں سوئے ہیروں کا سندیسہ لے کر نچلی پروازوں کو لئے دنیا میں پیار اور محبت کا پیغام لئے پھرتے ہیں۔عابد مختار گجر وہاں کہیں کشمیر کے بارڈر پر کنسٹرکشن کا کام کر رہا ہے اس نے راٹھور صاھب کے بیٹے کی بات کی راٹھور صاحب کی دیانت کے قصے اور عبدالحمید پوٹھی بھی یہی کچھ کہہ رہے تھے ۔

وہ سردار عبدالقیوم ممتاز راٹھور صاحبزادہ اسحق ظفر کے ایچ خورشید کی باتیں کیا ارض کشمیر میں ہی ہیرے پیدا ہوتے ہیں یہاں جیہڑا کپو او ای لال ہے جس کی کہانی سنیں اس کے اکائونٹ ہیں پورے پاکستان میں کوئی لیڈر ایسا نہیں جس کی مثال دیں مر گئے پھٹی بنیان والے لیاقت علی خان بعد میں آنے والوں کو دیکھیں چاہے وہ آمر ہوں یا عام سیاست دان سب ہی ٹھگ سب ہی چور ۔حوالدوروں کی اولادیں آج اربوں پتی ہیں ۔پاکستان کی دھرتی کیا اپھل ہے یہاں کوئی کیوں نہیں پیدا ہوتا جو عام ویگن میں مرتا ہے اور چند روپے اس کے پاس ہوتے ہیں۔صاحبزادہ اسحق ظفر میرے بھائی کے گھر میں مرے ان کا اکائونٹ زیرو اور قرض بہت زیادہ۔

لیکن آج پتہ چلا کہ وہ مرے نہیں زندہ ہیں مجھے آج تک کوئی ایسا بندہ نہیں ملا جس نے ان کی ذات سے کوئی شکوہ کیا ہو۔بلکہ ان کے قصے کہانیاں سناتے ہیں ۔یہ وہ قصے ہیں جو یقنا کشمیر کے لوگ سردیوں میں چولہوں کے پاس بیٹھ کر دہراتے ہوں گے۔مجھے عبدالحمید پوٹھی کو سلام پیش کرنا ہے جنہوں نے اپنے گھر کو پی ٹی آئی ہائوس بنایا شاندار پریس کانفرنسیں منعقد کرائیں دوستوں کو رکھا اس قحط الرجالی کے دور میں جہاں لوگ منہ کھول کے چندہ مانگتے ہیں کہ دفتر میرا ہے گیس کا بل میرا بس آپ بیس بیس ہزار دے دو پتہ نہیں کس منگتے گھر سے آئے ہیں جنہیں اسمبلیاں بھی مفت میں مل گئیں لیکن بٹورنے کی عادت نہ گئی ۔

ہم اپنی گم شدہ چیزوں کو تلاش کریں ہمارے پاس بھی ہیرے ہیں ایسے ہیرے جو اپنی زندگی میں جگنو ہیں روشنی ہیں کبھی چک بیلی جائو تو ایک سیکرٹریٹ ہے جو ہر آنے والے کا خیر مقدم کرتا ہے چودھری میر افضل چلیں چھوڑیں وہ بات ارشاد بھٹی والی ہے حاجی عمران کو بھی چھوڑیں ناسف گورو گجر کو بھی چھوڑیں ملک عظیم اور دیگر بہت سے دوستوں کو ایک راضی ہو وہ جو پیا کو من بھاتا ہو۔کمال کا بندہ ہے پوٹھی جب ذکر ہوا کہنے لگے موسم بدلتے رہتے ہیں ہمیں اس سے کیا کام ہی کرنا ہے ۔اور یہ بات بھی سچ ہے کہ پارٹی کے کارکن کو یہ نہیں دیکھنا اس نے تو خان کے سپاہی کا کردار ادا کرنا ہے۔

کشمیر کے لوگ بڑے با کمال لوگ ہیں میں نے ان کے ساتھ عمر گزاری ہے یہ لوگ بڑے محنتی لوگ ہوتے ہیں سارا ہفتہ کام کریں گے اور ایک دن اپنے آپ کو سماج کی تصویر میں رنگ بھرنے میں لگ جاتے ہیں پرانے موسموں میں یاد آتے ہیں رفیق رارف شبیر گجر راجہ اکرم صوفی بشیر ضمیر بجاڑ محفوظ بھائی عبدالطیف عباسی،اشفاق خان خورشید مٹیال شاہد بشیر لنگڑیال سردار حفیظ اور ان گنت لوگ جو میرے اپنے تھے۔اور سب سیزیادہ نسیم محمود جو ایک کشمیر کے نہیں سب کے چھتر چھایہ ہیں اللہ انہیں سلامت رکھے اور سب دوستوں کو۔

ہم اگر اس ملک کو بچانے چاہتے ہیں تو محبت کو فروغ دیں

محبت ایسا دریا ہے کہ بارش روٹھ بھی جائے تو پانی کم نہیں ہوتا

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com