گوشہ گیری، اسلامی نقطہ نظر-پروفیسر جمیل چودھری

آج کل تمام انسان گو شہ تنہائی۔ میں جا بیٹھے ہیں ۔مسلم ممالک میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اس حالت میں دینی نقطہ نظر کیا ہے۔ایمان و اسلام کیلئےمنظم اجتماعی زندگی کا وجود ناگزیر ہے۔

لیکن ساتھ ہی قرآن کے بعض ارشاداتاور نبی اکرم کی ہدایات سے معلوم ہوتا ہےکہ اجتماعیت سے یکسر نا آشنا زندگی اور گوشہ تنہائی کی زندگی بھی غیر اسلامی نہیں ہے اور اسے بھی اللہ اور رسول اکرم کی رضا حاصل ہے۔ سورہ کہف کو پڑھنے سے معلوم ہو تا ہے کہ تنہائی کی زندگی بھی بعض حالتوں میں پسندیدہ ہوتی ہے ۔ یہ 7 لوگ انسانی بستیوں سے دور ہٹ کر ایک غارمیں جا بیٹھے تھے۔

اور وہیں اللہ کی یاد میں مشغول رہتے تھے ۔ ہم کہ سکتے ہیں کہ انہوں نے غیر اجتماعی زندگی کی آخری شکل اختیار کر لی تھی ۔یہ لوگ بھی مسلم تھے۔ قرآن مجید نے انکی اس سر گزشتہ کو بیان کیا ہے ۔ان کی روش پر ہلکی سی نا پسندیدگی کا اظہار بھی نہیں کیا گیا ۔ان غار نشینوں کو ایمان میں پختہ قرار دیا گیا ہے۔ آیت کا ترجمہ پیش خدمت ہے ۔" بلا شبہ یہ ایسے جوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے اور جنہیں ہم نے زیادہ ہدایت عطا فرما ئ تھی۔" الکہف 18، 13ایسے ہی ایک صحیح حدیث کا حوالہ پیش خدمت ہے ۔۔"ایک شخص نے پوچھا اے اللہ کے رسولسب سے افضل شخص کون ہے ۔

فرما یا وہ مسلمان جو اپنے مال و جان سے اللہ کے راستے میں جہادکرتا ہے۔ اس شخص نے کہا۔ پھر کون ارشاد ہوا پھر وہ مسلمان جو کسی گھا ٹی میں جاکر گوشہ نشین ہو گیا ہو اور وہاں اپنے رب کی عبادت کر تا ہو ۔اور لوگوں کے شر کو چھو ڑ ے ہوئے ہو۔ اور اس سے دور رہتا ہو۔ " بلا شبہ اس طرح کی ہدایات موجود ہیں۔ اور جب قرآن و حدیث میں موجود ہے تو وہ بھی اسی طرح اسلامی ہے جس طرح کو ئ اور چیز ہو سکتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں اسلامی ہونے کا کیا مطلب کیا ہے؟ کیا تنہا ئ کی زندگی مکمل اسلامی زندگی ہے؟ اور جب بھی اسے اختیا کیا جائے گا ٹھیک اسی طرح معیاری اور اللہ و رسول کی پسندیدہ زندگی قرار پائے گی جس طرح کہ منظم اسلامی زندگی قرار پا چکی ہے؟ اس سوال کا صحیح جواب معلوم کرنے کیلئے تین باتوں پر غار کرنا ہو گا۔

1۔ایک منظم اجتماعی زندگی اختیار کرنے جو ہداہتیں مسلمانوں کو ڈی گئیں ہیں انکی نوعیت کیا ہے

2۔ امت مسلمہ کا مقصد وجود کیا ہے ؟

3۔ کیا گوشہ نشینی کے متعلق ارشادات خصوصی زندگی سے متعلق ہیں یا عام زندگی سے متعلقاسلام کے تفصیلی مطالعہ سے معلوم ہو تا ہے کہ اسلام در اصل جما عتی زندگی ہی چاتا ہے۔شریعت نے جماعتی زندگی بسر کرنے کی جو ہدایت دی ہے اس کی اختیاری نہیں بلکہ لازمی ہے۔امت مسلمہ کا مقصد وجود اللہ تعالی کی خلافت کا قیام اور اسکی عبادت ہے۔ گوشہ گیری سےصالح معاشرے کا قیام اور خلافت کا نظام۔ قائم نہیں ہو سکتا ۔ اقامت دین بھی امت مسلمہ کا ایک اہم فرض ہے۔ امت اگر گوشہ نشین ہو جائے تو اس فرض کے قیام کا امکان ہی نہیں رہتا ۔

یہاں سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ گوشہ گیری کی اجازت صرف مخصوص حالات میں ڈی گئی ہےسورہ کہف میں جن 7 مسلمانوں کا ذکر آیا ہے وہ بھی مخصوص حالات تھے۔ افسس رو میوں کا بڑا شہر تھا ۔تب رو میوں کالوشاہ قیصر ڈیسیس تھا جو ایمان لانے والوں پر ظلم ستم کر تا تھا۔اس شہر سے سات ایمان والے دور دراز غار میں جاکر چھپ گئے تھے ۔

اور وہاں اپنے رب کی عبادتتنہائ میں کرتے رہے ۔قرآن کی اجازت آن مخصوص حالات میں تھی ۔آج کل بھی ایک وائرس نے شر کی حیثیت اختیار کی ہوئ ہے ۔لہذا عا رضی طور پر گوشہ گیری اسلامی نقطہ نظر سے ضرور ی ہوگئ ہے۔کرنا وائرس کا شر جونہی کرہ ارض سے ختم ہو گا ۔اجتماعی سرگرمیاں شروع ہو جائیں گی

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com