بیمار اور طبیب - حسین اصغر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"جو شخص لہسن یا پیاز کھائے وہ ہماری مسجد سے الگ رہے اور اپنے گھر میں بیٹھ جائے کیونکہ فرشتے بھی اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔"(صحيح البخاری وصحيح مسلم)
یاد رہے جن چیزوں کا ذکر نبی ﷺ نے کیا ہے وہ چیزیں بذات خود اسلام میں حرام نہیں ہے صرف اس کی بدبو کی وجہ سے کہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو تو نبی ﷺ نے یہ حکم دیا ہے ! تو جو دین لوگوں کا اس حد تک خیال رکھتا ہو وہ کیونکر ایک ایسے بیمار کو مسجد میں آنے کی اجازت دے سکتا ہے جس کی بدولت دوسروں کی جان کو خطرہ ہو۔

جمعہ کی نماز ہو یا دوسری باجماعت نمازوں کا پڑھنا مسلہ نہیں ہے بلکہ میرے نزدیک یہ مسلہ ایک بیمار کا ایک ایسی جگہ جانا ہے جہاں دوسرے افراد بھی متاثر ہوتے ہوں، اور یہ متاثر ہونا صرف اتنا نہیں ہے کہ اگر کسی کو نزلہ یا خشک کھانسی ہو یا بخار تو دوسرے کو بھی ہو جائے گا یہاں جس بیماری “کرونا وائرس “ کا ذکر ہے وہ ایک فرد سے دوسرے فرد کو موت کی منتقلی کا مسلہ ہے- یعنی اگر کسی فرد کو کرونا وائرس ہے اس کو پتہ ہے، یا اس کو پتہ نہیں ہے تو اس کا کسی سے ملنا ایسا ہی ہے کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسرے کو بھی موت کی دعوت دے رہا ہے- جبکہ دوسرے قسم کے انفیکشن یا بیماریوں میں جمعہ کی نماز ہی کیا ہر Social gathering میں شریک ہوتے ہیں تو کبھی کوئی سوال نہیں کرے گا اور نہ کرنا چائیے آخر کیوں ؟ اس لئے کہ یہ بیماریاں اگر منتقل ہوئیں بھی تو انسانی جان کو نقصان نہیں پہنچائیں گی اور انتہائی محدود ہو نگی،یعنی اگر کسی کو نزلہ ہے تو زیادہ سے زیادہ دوسرے کو نزلہ ہو جائے گا جو چند دنوں میں صحیح ہو جائے گا- مگر اخلاقی طور پر ان بیماریوں میں بھی ہمیں پبلک میں نہیں جانا چائیے اور اگر گئے بھی تو احتیاط کرنی چائیے،

“اس لئے میرے نزدیک یہ مسلہ دین اور مذہب کا نہیں ہے بلکہ یہ مسلہ بیمار اور طبیب کے درمیان ہے اور بیمار کو طبیب کی ہدایات کے مطابق ہی عمل کرنا چائیے ،جیسے ہم کسی بھی بیماری پر ڈاکٹر کی ہدایت ہی پر عمل کرتے ہیں اور یہی دین اور مذہب ہے ، کیونکہ اب یہ بیماری وبا کی صورت میں پھیل گئی ہے اور اس بیماری کا کوئی علاج اب تک دریافت نہیں ہوا ہے اس لئے اب ڈاکٹروں کی ہدایت ہے کہ اس کا علاج صرف self isolation ہی ہے، اور self isolation کا مطلب ہے گھر کے اندر رہنا اور ہر قسم کی Social gathering سے مکمل طور پر گریز کرنا۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَیِّیِئِ الْاَسْقَامِ۔اے اللہ میں تجھ سے برص، جنون،جذام اور تمام بری بیماریوں سے پناہ مانگتا ہوں۔(سنن ابو داؤد)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com