لاک ڈاؤن کے دوران کیا کریں - عامر بھٹی

کورونا ایک وائرس کی قسم ہے کہ جس سے حال ہی میں ایک متعدی مرض، وبا کی صورت میں پھیلا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس وبا کو COVID-19 کا نام دیا گیا ہے۔ اب تک یہ وبا درجنوں ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے جبکہ اس سے شدید ترین متاثرہ ممالک میں اٹلی، چین، ایران، اسپین، جنوبی کوریا، جاپان، امریکہ اور دیگر یورپی ممالک سرِفہرست ہیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں بھی اس وبائی مرض میں دن گزرنے کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس وبا کے مہلک ترین ہونے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب، ایران، کویت، اٹلی سمیت باقی ممالک نے اپنی مذہبی رسومات کی اجتماعی ادائیگی معطل کر دی ہے۔ اور قریباً متاثرہ تمام ممالک اپنی سرحدوں کو آمد و رفت کے حوالے سے بند کر چکے ہیں یا پھر کر رہے ہیں۔ اندرون ملک شہریوں کی نقل و حمل لاک ڈاؤن کے ذریعے یا تو مکمل بند کر دی گئی ہے یا پھر بہت محدود ہو گئی ہے اور لاک ڈاؤن والے ممالک میں غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے والوں کے لئے سزاؤں کا اعلان کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں صوبہ سندھ میں پندرہ دن کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا جا چکا ہے اور باقی صوبوں میں بھی اس کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس لاک ڈاؤن میں تمام لوگوں کو اپنے گھروں میں رہنا پڑتا ہے ماسوا ان لوگوں کے کہ جو بنیادی عوامی خدمات سے وابستہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اتنے سارے لوگ گھروں میں رہ کر ایسا کیا کریں کہ جس سے فراغت و بوریت کا احساس بھی نہ ہو اور کچھ مثبت اور تعمیری کام بھی ہو جائیں۔

اسی ضمن میں چند تجاویز پیشِ خدمت ہیں۔
1۔ گھر میں باقاعدہ نماز کا اہتمام کیا جائے۔ با جماعت نماز گھر میں بھی کروائی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے اپنے اپنے مکتبہ فکر کے علماۓ کرام سے مدد و رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ لاک ڈاؤن کا دورانیہ ایسے افراد کے لیے نعمت کا باعث ہو سکتا ہے کہ جو نماز میں باقاعدگی لانا چاہتے ہیں کیونکہ اب وقت اور بیرونی عوامل ان کی اس خواہش میں رکاوٹ نہیں ڈال سکیں گے۔

2۔ قرآن کی تلاوت کے ساتھ ترجمہ سے قران کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ دیگر مذہبی و اسلامی کتب سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

3۔ مسنون اسلامی دعاؤں اور ذکر و اذکار کا معمول بنا لیا جائے۔

4۔ اپنی پسند کے مطابق کتب کا مطالعہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں آن لائن مدد بھی لی جا سکتی ہے۔

5۔ مرد اور بچے اپنے گھر کی خواتین کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف پیار بڑھے گا بلکہ خواتین کی محنت کا احساس بھی اجاگر ہو گا۔ یاد رکھیں، سب لوگوں کے اکٹھے گھر پر موجود ہونے سے خواتین کا کام بڑھ گیا ہے۔ اور آپ کو تو چھٹیاں مل گئیں مگر گھریلو خواتین کو کوئی چھٹی نہیں۔

6۔ موبائل فون کو ایک طرف رکھ کر اور ٹی وی کو بند کرکے اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں، اور جیون ساتھی کے ساتھ یکسوئی کے ساتھ الگ بیٹھیں۔ اُن سے اُن کے متعلق بات کریں، حوصلہ بڑھائیں، اُن کے مسائل جاننے و سمجھنے کی کوشش کریں۔ اپنے پیار و محبت کا ان سے اظہار کریں اور ان کو بتائیں کہ وہ آپ کی زندگی میں کتنے اہم ہیں۔

7۔ کچھ نیا سیکھیں۔ اپنے رجحان و شوق کے مطابق کھانا بنانا، روز مرہ استعمال کی چیزوں کی مرمت، بچوں کے کپڑے تبدیل کرنا، اگر ممکن ہو تو پودوں کی دیکھ بھال، کسی آلے کا استعمال۔ غرض کچھ بھی ایسا جو گھر پہ رہ کر آپ کی طبیعت کے مطابق آپ کو اچھا لگے۔

8۔ بچوں کو کچھ نیا سکھائیں۔ صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھونا، نماز پڑھنا، گھر کے کاموں میں مدد کرنا، اگر ممکن ہو تو گھر کی اشیاء توڑے اور کسی کو زخمی کیے بغیر بیٹ سے کھیلنا اور بالنگ کا طریقہ، گھر کے صحن یا گیراج میں سائیکل چلانا، بستر ٹھیک کرنا، وغیرہ وغیرہ

9۔ ورزش کریں اور پرندوں کو کھانا ڈالیں۔ اگر میسر ہو تو دھوپ میں بیٹھیں۔

10۔ اپنے عزیز و اقارب کو فون کرکے ان کا حال احوال دریافت کریں اور ان کی ہمت بندھائیں۔

11۔ اگر ممکن ہو تو مصیبت کی اس گھڑی میں ضرورت مندوں کے لیے مدد کا انتظام کریں۔

12۔ آن لائن کوئی نیا ہنر سیکھیں اور کوئی نیا مختصر کورس لیں۔

13۔ حکومتی ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

یہ فہرست نامکمل ہے اور اس میں اپنے شوق اور اپنی رغبت کے مطابق اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ بھی اپنی تجاویز اس میں شامل کریں۔

ٹیگز

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • میری ذات ِ خدا وندی نے اس جہاں میں انسان کو اشرف ولمخلوق کا عہدہ دیا اور اس بات کو ہر اپنی مخلوق کے لیے واضع کردیا کہ انسان سب سے افضل ہے اور ہر شئے کے متعلق سمجھ بوجھ انسانی فطرت میں دی جس کو ہم سمیٹے ہوئے الفاظ میں انسانیت بھی کہتے ہیں.
    وقت حاضر کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سی سوچوں نے آڑے ہاتھوں لیا جیسے کہ یہ اس قدرتِ جہاں میں ایک مرض جس نے وبائی منظر اختیار کرتے ہوئے ہر طرف اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں جس کو "کرونا وائرس" کا نام دیا جا چکا ہے.
    اس وباء کے باعث دنیا بھر میں ہزاروں کی تعداد میں انسانی اموات واقع ہو چکی ہیں اور بے بسی کا عالم ہر طرف واضع دیکھنے کو ہے. دنیا کے تمام تر ممالک جو اس لمحہ فکریہ سے گزر رہے ہیں اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس وباء کا خاتمہ کرنے اور انسانی جانوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں یہاں تک کہ ہر ملک دوسرے ممالک کی طرف یا تو سیکھ کی غرض سے اور یا تو امداد کی غرض سے نظر تانے ہوئے ہے. قابلِ غور بات یہ ہے کہ تمام تر ممالک میں ہر مذہبی عبادات میں بھی رکاوٹیں درپیش ہیں جن کی بنا پر تمام تر عبادات کو مخصوص اور محدود کردیا گیا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اُمتِ مسلمہ کا اہم اور بے حد خاص ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی فریضہ جس کو"حج" کہا جاتا ہے جو کہ سال میں ایک مرتبہ آتا ہے رواں سال میں منسوخ کردیا گیا ہے جو کہ بے حد بےبسی کی بات ہے اور ناقابلِ یقین ہے.
    اس کے ساتھ ساتھ جع بات زیرِ غور ہے کہ ہر مذہب کے لوگ اپنی اپنی عبادات میں لگ گئے ہیں.
    ہم مسلمانوں نے اجتماعی طور پر اذانیں شروع کر رکھی ہیں خو کے کسی بھی مصیبت آنے پر دی جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ سے معافی، مدد مانگنے کا ذریعہ ہے اور اللہ باری تعالیٰ کے قریب ہونے کا ذریعہ ہے جس میں نماز بھی فریضہ ہے میرے دین اسلام کا.
    کرونا وائرس" کی خاصیت یہ ہے کہ یہ صرف غریب کی ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی زد میں زیادہ امیری اور سرداری کا دعویٰ کرنے والے لپٹے ہیں. اس امیری میں ممالک بھی شامل ہیں اور ممالک کے انسان بھی درحقیقت اس سے اک بات واضع ہوتی ہے."
    غرور کس بات کا صاحب سب راستے قبرستان کی طرف جاتے ہیں"
    ان چند الفاظ میں بہت سی باتیں چھپی ہوئی ہیں اور کچھ تو واضع نظر بھی آرہی ہیں.
    غرض یہ کہ یہ وبائی مرض ہر ملک، ہر طبقے، ہر ذات، ہر فرقے اثرانداز ہو رہی ہے اور ہو سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر طرف بوجھل مچی ہوئی ہے اور اپو آپ پڑی ہوئی ہے. مگر یہ تو صرف ایک وبائی مرض ہے جس کے ذریعے تھوڑی آنکھیں کھول دیں ہیں میرے اللہ باری تعالیٰ نے کے میرے لیے سب قابلِ گرفت ہیں بادشاہت کے دعوے کرنے والے بھی اور ایٹمی طاقتوں کے دعوےدار بھی اور انجام سب کا ایک ہے موت جو برحق ہے اور ہر جاندار کے لیے ہے اور اس امتحان میں بےحد دردناک مناظر دیکھنے کو ملے ہیں کہ انسان انسان سے دور بھاگتے ہیں اور کوئی کس کے نزدیک ہونے سے ڈرتا ہے خواہ وہ زندہ ہے یہ مر چکا ہے.
    میرے خدا وند نے اس بات کو یقینی بنایا ہے یر شے کے لیے کے آخرت کا منظر بھی ہوگا اور وہ اس سے بھی حیران کن اور بے بسی میں ہوگا اور اپو آپ پڑی ہو گی اور کسی کا احساس بھی نہ ہو گا جو آج کچھ حد تک تو ہے مگر یہ تو نشاندہی کی گئی ہے اس روز کی جو میرے اللہ باری تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے میرے دین کی پاک کتاب قرآن مجید میں.
    میرے بھائیو ہر اس شخص کی مدد کرو جو ان حالات میں خود کا پیٹ بھی نہیں بھر پا رہا اسکے گھر میں بچے بوڑھے بنا کچھ کھائے بیٹھے ہیں یہ امتحان ہے ہم سب کا ہمیں اپنے رب کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ خود کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی بھی حفاظت کرنی ہے جو سال ہ سال پریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں جب کہ نہ تو کوئی وبائی مرض ہوتی اور نہ کوئی کرفیو.
    خدا را اپنی آنکھیں کھولیں اور انسانیت کی خدمت کریں حقوق ادا کریں ہر طبقے کے.
    اللہ باری تعالیٰ اپنی پوری کائنات پر اپنا رحم فرمائے آمین اور اس وبائی مرض سے محفوظ فرما کر اس کو ختم کرے آمین ثم آمین.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com