سیاسی پوائنٹ اسکورنگ مایوس کن رویہ - قادر خان یوسف زئی

حزب اختلاف کے قائد میاں شہباز شریف لندن سے پاکستان آگئے، اس کے ممکنہ طور پر دو فائدے متوقع تھے، پہلا یہ کہ اپوزیشن جماعتوں کو متفقہ بیانیہ تیار کرنے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا موقع میسر آئے گا، دوم، حکمراں جماعت و حزب اختلاف کے درمیان سیاسی محاذ آرائی و قیاس آرائیاں ختم ہونے سے عوام کو توقعات وابستہ ہونگی کہ کہ اب ریاست اصل ایشو کی جانب یکسوئی سے متوجہ ہو گی اور ملکی صورتحال میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر منتشر عوام کو اکھٹا کرے گی۔

لیکن بدقسمتی سے بعض وزرا ء،مشیروں و اپوزیشن رہنماؤں نے حالات کی سنگینی کا احساس کئے بغیر پوائنٹ اسکورنگ جاری رکھی، حزب اختلاف نے تو حکومتی اقدامات پر تنقید کرنا ہی ہے، کیونکہ ان کا کام یہی ہے، نیز حکومت بھی اس کے لئے تیار رہتی اور برداشت سے کامظاہرہ نہیں کرتی۔ لیکن کرونا وبا میں ضرورت اس اَمر کی تھی کہ حکومت اور اپوزیشن کے رہنما کے ایک نکاتی ایجنڈے پر اتفاق رائے پیدا کرتے اور سیاست سے بالاتر ہو کر عالمی وبا کے خلاف متحد ہونے کا مثبت پیغام پہنچاتے۔

قائد ایوان اور حزب اختلافات کے درمیان آج تک ایک بھی مشاورتی میٹنگ کا نہ ہونا بھی جمہوری و پارلیمانی روایات کے برخلاف ہے، اسی طرح کرونا وائرس کی وبا پھیلنے سے قبل پارلیمنٹ میں دونوں اطراف سے اراکین اسمبلی کا رویہ رہا، اُس پر عوام ششدر تھے کہ کیا انہیں ایوانوں میں ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے کے لئے ووٹ دیا تھا یا پھر اپنے مسائل کا حل نکالنے کے لئے۔ اس وقت عملی طور پر ملک بھر میں پہیہ جام ہوچکا ہے، حکومت نے چین میں وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد احتیاطی تدابیر تو ضرور اختیار کی لیکن بادی النظر ایسا لگتا ہے کہ انہیں اس اَمر کا گمان نہیں تھا کہ پاکستان میں کرونا وائرس آنے کے کئی اور راستے و ممالک بھی ہیں، شاید اُس وقت ارباب اختیار کو کرونا کی تباہ کاریوں کا اتنا ادارک نہ ہو کیونکہ سوشل میڈیا و عالمی ذرائع ابلاغ میں جس طرح کرونا کے حوالے سے قیاس آرائیاں و جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی تھی، اس کے اثرات اُوپر سے نیچے تک پہنچے۔ حکومت نے معاشی مشکلات کے باعث فوری طور پر سخت اقدامات کرنے میں محتاط رہے، دوسری جانب عوام کی غیر سنجیدگی اور ائیر پورٹس پر بے قاعدگیوں و لاپرواہیوں نے کرونا وائرس کو پاکستان کے گوشے گوشے میں پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

سندھ اور وفاق سمیت تمام صوبائی حکومتیں کرونا وائرس کی عالمی وبا کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک صفحے پر موجود نہیں، شاید یہ اَنا ہے یا پھر حد سے زیادہ خود اعتمادی، جس کا نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑرہا ہے۔ حکومت کی جانب سے تاحال اپوزیشن کو آن بورڈ نہیں لیا گیا۔ پارلیمنٹ بہترین پلیٹ فارم تھا، لیکن ایوانوں میں کی جانے والی تقاریر و اراکین اسمبلی نے عوام کو مایوس کیا۔ذرائع ابلاغ میں ویڈیو پیغامات کے ذریعے عوام میں آگاہی اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اپنی مدد آپ کے علاوہ ارباب اختیار سے عدم تعاون، اس پہلو کی جانب توجہ مبذول کرتا ہے کہ سیاسی یا مذہبی رہنماؤں کی اپیلوں کا کوئی خاص اثر نہیں پڑ رہا۔ اس اہم پہلو پر سب کو غور کرنا ہوگا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ پاکستانی قوم جو ملک میں کسی بھی قدرتی آفت آنے پر بلا امتیاز رنگ و نسل و مذہب اکٹھی ہوجایا کرتی تھی، منتشر نظر آتی ہے۔ سیاست تو زندگی بھر چلتی رہتی ہے، بلکہ مرنے کے بعد بھی چلتی ہے، لیکن اپوزیشن اور حکمران اتحادی جماعتوں کا وبا کے خلاف یک جہتی و متحد ہونے کے برعکس پیغام، عوام میں جانے سے ایک نا پسندیدہ روایت پروان چڑھتی نظر آئی، تاہم اب بھی وقت ہے کہ حکومتی اتحادی اور اپوزیشن جماعتوں کو اپنے اختلافات ایک جانب رکھ کر مشترکہ لائحہ عمل و مشاورت کے ساتھ وبا کے خلاف نبر الزما ہونے کے لئے یکجا ہوجائیں۔

عوام میں شعور و آگاہی کے لئے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کاایک صفحے پر آنا اس لئے اہم ہے کیونکہ کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے عوام میں یہ تاثر جانا ضروری ہے کہ کرونا جنگ کے خلاف جیت کے لئے اتحاد و احتیاط ناگزیر ہے۔ بدقسمتی سے تشویش ترین دور میں بھی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے درمیان سیاسی پوائنٹ اسکورنگ مایوس کن رویہ غالب رہا۔ اگر عوام کرونا وبا کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی تو اس کی کئی وجوہ میں ایک بنیادی وجہ عوامی نمائندوں کے درمیان باہمی چپقلش و سیاسی محاذ آرائیاں کے تسلسل کا جاری رہنا بھی ہے، ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانا اور وبا کے خلاف صوبائی حکومتوں و وفاق کے درمیان فروعی فیصلوں سے اجتماعی نقصان صرف عوام کو ہوا۔ دوم یونین کی سطح پر کونسلوں و کمیٹیوں کو نظر انداز کرنا بڑی کوتاہی ہے۔

یہ وقت اختلافات کو بڑھاوا دینے کا نہیں، بلکہ مملکت کو بدترین حالات سے نکالنے کے لئے سب کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔ سندھ حکومت نے وبا کو روکنے کے لئے قابل تحسین اقدامات کئے، لیکن ان فیصلوں کو وفاق کی کھلی حمایت و تعاون کا حاصل نہ ہونا، پریشان کن ہے۔ اٹلی کے مثال ہمارے سامنے ہے کہ سنگین صورتحال کے باوجود جب حکومت نے بروقت فیصلہ نہیں کیا تو انسانی جانوں کا بدترین نقصان دیکھنے میں آیا، گو کہ صوبہ سندھ کی طرح اٹلی کے’جنوبی حصے‘ میں لاک ڈاؤن کردیا گیا تھا، جس کے بعد جنوبی حصے میں کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کی اسکورنگ تشویش ناک نہیں تھی، لیکن جب لاک ڈاؤن اٹھایا گیا تو اٹلی کے دوسرے حصوں میں احتیاطی تدابیرمیں تاخیر سے اختیار کرنے کے سبب جنوبی حصہ بھی وبا کی زد میں آگیا۔ لاک ڈاؤن جزوی ہو یا کُل وقتی، اُس وقت ہی کامیاب ہوسکتا ہے جب ملک گیر سطح پر اتفاق رائے سے اُس پر عمل پیرا ہوجائے۔

صوبے ایک دوسرے سے زمینی حقائق کی طرح جڑے ہوئے ہیں، ملکی سرحدوں کی طرح صوبوں کی سرحدوں پر باڑ نہیں لگی ہوئی۔ گوکہ دیگر صوبوں نے جزوی یا کل وقتی لاک ڈاؤ ن شروع تو کردیا ہے لیکن صوبائی حکومتوں کی بھی ایک آئینی حد مقرر ہے۔ ان مسائل کو صرف سیاسی رہنما مل بیٹھ کر حل کرسکتے تھے، لیکن ان کے درمیان باہمی اختلافات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ اب بھی انہیں بچوں کی طرح سمجھانا پڑ رہا ہے کہ لڑائی لڑائی معاف کرو، اپنے دل (پاکستان) کو صاف کرو۔ قائد ایوان واپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے ساتھ تما م پارلیمانی جماعتوں سمیت پارلیمنٹ سے باہر چھوٹی بڑی سیاسی، مذہبی جماعتوں کو اکھٹے ہوکر دنیا کی سب سے خطرناک وبا کے خلاف مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ مدارس، جامعات، سماجی تنظیمیں اور کاروباری طبقوں کو اپنے اپنے مینڈیٹ کے مطابق کرونا وبا سے نمٹنے کے لئے کسی ایک سیاسی جماعت کے لئے بلکہ پاکستان کے لئے اکٹھا ہونا ہوگا۔ کیونکہ یہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com