لاک ڈاؤن اور شیو - رفاقت حیات

اگر یہی حالت رہی توامیدہے کہ چنددنوں تک مجھ اور گوریلےمیں کوئی فرق نہیں رہے گا۔خط اتنا بڑھ چکا ہے چہرہ اب خود استرے پر پھر جانے کو بیتاب نظر آتا ہے۔بندہ فارغ بیٹھا ہو تو فرنٹ کیمرہ کھول کے ہی کوئی سیلفی لےلیتا ہے۔اب موجودہ صورتحال میں کیمرہ کھولتے ہی بندہ ڈر جاتا ہے کہ 'یہ سامنے کونسی بلا آگئی ہے۔"

کوئی خداکےلیے ٹیوٹر پر ٹرینڈچلا دو کہ "حجام کو رہاکرو''۔چلو زیادہ نہیں صرف ایک دن کےلیے ہی سہی،نہیں تو باخدا ان مونچھوں نے پورا منہ ڈھانپ دینا ہے۔اور پھر کھانے کےلیےان پر باقاعدہ چٹکیاں لگانا پڑیں گیں،تاکہ دہن تک خوراک کی رسائی ممکن بنائی جاسکے۔ایک تو میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ جب مونچھیں ایک حد سے بڑھ جاتی ہیں تو میرا ہاتھ باربارخود بخود ان کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔(اور اب ایام کرونامیں چہرے کو چھونا بھی منع ہے،اور اوپر سے یہ اپنی اوقات سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔)

اس عادت سے جان چھڑوانے کےلیے انہیں بہت چھوٹا کروادیتا ہوں۔ اور اکثر والدہ صاحبہ جب مجھے ان پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دیکھتی ہیں تو ڈانٹ دیتی ہیں کہ کب سے دیکھ رہی ہوں،ان بیچاریوں کو اب بخش بھی دو۔موچنے کو تو میں آلات تشدد میں سے ایک سمجھتا ہوں۔پہلی بار جب بندہ بال کھینچتا ہے تو ایک دفعہ تو دن میں تارے نظر آجاتے ہیں۔اور دل کرتا ہے کہ بندہ کسی بدکے ہوئے اونٹ کی طرح پورے گھرمیں بھاگنے لگ جائے۔اور خاص طور پر جب حجام صاحب دھاگہ چلاتے ہیں تو دل کرتا ہے یہ کرسی پھٹے اور بندہ اس میں سما جائے۔اورلگے ہاتھوں حجام کوبھی ایک اچھی بھلی چپیڑ رسید کردے کہ خدا کے بندہ اتنی اذیت دے رہے ہو، یہ بال اکھیڑ رہے ہو یا روح کھینچ رہے ہو!۔
خیر اب نہ تو کوئی حجام ہے نہ کوئی دھاگہ!پریشانی ہی پریشانی ہے۔

خیراب میں ریزر اور قینچی لےآیا،باقی انجام خدا جانے!!اوردعاکیجیے گا کوئی اونچ نیچ نہ ہوجائےنہیں تومیں منہ دکھانے کےبھی قابل نہیں رہوں گا۔اور مجھے سو فیصد امید ہے کہ یا تو ہٹلر کی مونچھوں جیسا ڈیزائن بنے گا یا بالکل ہی چٹیل میدان!خیر جو بھی ہو،آپ تبھی تک یہ تحریرپڑھو،میں زرا یوٹیوب سے کوئی ٹیوٹوریل دیکھ لوں کہ کیسے "اپنا خط خود کرو"..!!